رموز بے خودی

داد چون آن قوم مرکز را ز دست

داد چون آن قوم مرکز را ز دست

رشته ی جمعیت ملت شکست

ترجمہ

جب اس قوم نے اپنا مرکز ہاتھ سے کھو دیا تو اس ملت کی جمعیت کی ڈوری ٹوٹ گئی۔

تشریح

یہ شعر پچھلے شعر کی تاریخی عبرت کو ایک واضح نتیجے کی صورت میں بیان کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب اس قوم نے اپنا مرکز کھو دیا تو اس کی جمعیت کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ یہاں “مرکز” صرف ایک جگہ نہیں، ایک مشترک مرجع، ایک زندہ نظم، ایک روحانی محور اور ایک تاریخی وحدت کا نشان ہے۔ قومیں اس وقت تک اپنے اختلافات کے باوجود قائم رہ سکتی ہیں جب تک ان کے پاس ایک ایسا مرکز ہو جو ان کے دلوں، فیصلوں اور اجتماعی شعور کو باندھے رکھے۔ جب یہی مرکز ہاتھ سے نکل جائے تو وحدت کی ڈوری رفتہ رفتہ کم زور پڑتی ہے اور آخرکار ٹوٹ جاتی ہے۔

“رشته ی جمعیت” ایک نہایت خوب صورت استعارہ ہے۔ جمعیت کوئی ٹھوس چیز نہیں کہ اسے چھوا جا سکے، مگر وہ ایک دھاگے کی طرح افراد، خاندانوں، طبقوں اور نسلوں کو باندھے رکھتی ہے۔ یہ دھاگا نظر نہیں آتا مگر اسی سے لباس بنتا ہے۔ جب یہ دھاگا سلامت ہو تو ملت کے مختلف حصے ایک ہی پیکر کی صورت اختیار کرتے ہیں، اور جب یہ ٹوٹ جائے تو وہی حصے بکھرے ہوئے ریشوں کی مانند رہ جاتے ہیں۔ اقبال تاریخ کے ایک واقعے میں ایک آفاقی اصول پڑھتے ہیں: مرکز کی حفاظت دراصل جمعیت کی حفاظت ہے۔

مرکز کا ضیاع:

مرکز ہمیشہ ایک دن میں نہیں کھوتا جاتا۔ پہلے اس کی معنویت کم ہوتی ہے، پھر اس سے وابستگی رسم بن جاتی ہے، پھر اس کے گرد پیدا ہونے والا ادب اور نظم ڈھیلا پڑتا ہے، اور آخر میں لوگ نام تو باقی رکھتے ہیں مگر مرکز کی روح ان کی اجتماعی زندگی سے نکل جاتی ہے۔ اقبال “ز دست” کہہ کر یہی دکھاتے ہیں کہ مرکز بعض اوقات دشمن چھین نہیں لیتا، قوم خود بھی اسے اپنے ہاتھ سے کھو دیتی ہے۔

یہ ضیاع فکری بھی ہو سکتا ہے، اخلاقی بھی، عملی بھی، اور تہذیبی بھی۔ اگر لوگوں کے نزدیک چھوٹے چھوٹے مفادات، ذاتی عصبیتیں اور وقتی طاقتیں اصل مرکز سے زیادہ اہم ہو جائیں تو مرکز بتدریج ہاتھ سے نکلنے لگتا ہے۔ اقبال اسی خطرے سے آگاہ کر رہے ہیں۔

رشتے کا ٹوٹنا:

جب جمعیت کا رشتہ ٹوٹتا ہے تو سب سے پہلے دل الگ ہوتے ہیں، پھر زبانیں سخت ہوتی ہیں، پھر ترجیحات بکھرتی ہیں، پھر ادارے کم زور پڑتے ہیں، اور آخرکار ایک قوم اپنے ہی وزن سے لڑنے لگتی ہے۔ باہر سے شاید ابھی نام باقی رہے، مگر باطن میں وحدت کا دھاگا ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ اقبال کا استعارہ اس تدریجی عمل کو ایک سادہ مگر لرزا دینے والی تصویر میں بدل دیتا ہے۔

رشتہ ٹوٹنے کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ قوم اپنی مشترک یادداشت اور اپنے مشترک مستقبل دونوں کو کھو بیٹھتی ہے۔ جب مرکز موجود ہو تو ماضی بھی معنی رکھتا ہے اور مستقبل بھی ایک سمت پاتا ہے۔ مرکز کے ضیاع کے بعد ماضی فخر کا قصہ رہ جاتا ہے اور مستقبل خوف کا سوال بن جاتا ہے۔

تاریخی قانون:

اقبال اس شعر میں کسی ایک قوم کی تاریخ بیان کر کے اصل میں ملتوں کا ایک عام قانون سامنے رکھتے ہیں۔ جو جماعت اپنے اصل مرکز کو محفوظ رکھتی ہے، وہ مشکل زمانوں میں بھی دوبارہ سنبھل سکتی ہے۔ مگر جو مرکز ہی کھو دے، اس کے لیے محض تعداد، ذہانت، دولت یا پرانی عظمت کافی نہیں رہتی۔ کیونکہ بقا کی روح اس رشتے میں تھی جو ٹوٹ چکا۔

یہ قانون مسلمان پر بھی اسی طرح نافذ ہو سکتا ہے۔ اقبال کا لہجہ اسی لیے تنبیہی ہے۔ وہ ماضی کا واقعہ سنا کر حال کے خطرے کو روشن کر رہے ہیں۔ اگر ہم سمجھیں کہ ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا، تو یہی غفلت پہلی دراڑ بن سکتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے اندر بہت سے رشتے موجود ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان سب کے اوپر کوئی ایسا مرکز بھی زندہ ہے جو انھیں معنی اور ترتیب دے؟ اگر مرکز کی جگہ جماعتی فخر، قومی سیاست، مسلکی ضد یا وقتی مفاد لے لے تو رشتہ ظاہراً قائم رہ کر بھی باطن میں ٹوٹ سکتا ہے۔ اقبال کا شعر یاد دلاتا ہے کہ جمعیت کی ڈوری نعروں سے نہیں، مرکز سے بندھی رہتی ہے۔

یہ شعر اصلاح کی امید بھی رکھتا ہے، کیونکہ اگر رشتہ ٹوٹنے کا سبب مرکز کا ضیاع ہے تو اس کی بحالی کا راستہ بھی مرکز کی بازیافت میں ہے۔ امت کو اپنے اصل محور کی طرف لوٹنا ہوگا، اسی کے گرد اپنے اختلافات کو تہذیب دینا ہوگا، اور اسی کی روشنی میں اپنی جمعیت کو دوبارہ سمیٹنا ہوگا۔ اقبال اسی واپسی کی دعوت دے رہے ہیں۔

مثال

جیسے کپڑے کا دھاگا ٹوٹ جائے تو سارا بُناؤ آہستہ آہستہ کھلنے لگتا ہے، ویسے ہی قوم کا مرکزی رشتہ کم زور پڑ جائے تو اس کی جمعیت بھی بکھرنے لگتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ قوم کی جمعیت کا رشتہ اس کے مرکز سے بندھا ہوتا ہے۔ جب مرکز ہاتھ سے نکل جائے تو وحدت کی ڈوری ٹوٹتی ہے اور ملت کا باطنی شیرازہ بکھرنے لگتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button