رموز بے خودی

خلعتی از آب و گل پیدا کند

خلعتی از آب و گل پیدا کند

دست و پا و چشم و دل پیدا کند

ترجمہ

وہ آب و گل سے ایک لباس پیدا کرتی ہے، پھر ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور دل پیدا کرتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال زندگی کے ایک نئے مرحلے کی طرف آتے ہیں۔ پہلے وہ حیات کی رم، خود تنظیم، گرہ اور شجر بننے کی بات کر رہے تھے۔ اب وہ بتاتے ہیں کہ یہی زندگی آب و گل سے ایک خلعت بناتی ہے اور پھر ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور دل پیدا کرتی ہے۔ یہاں زندگی کو محض باطنی یا مجرد قوت کے طور پر نہیں چھوڑا گیا بلکہ اسے جسم، صورت اور اعضاء کی دنیا میں داخل ہوتے دکھایا گیا ہے۔ “خلعت” کا لفظ اہم ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم محض مادی ڈھانچہ نہیں بلکہ حیات کا پہنا ہوا لباس ہے۔ آب و گل یعنی مٹی اور پانی اس لباس کا مادہ ہیں، مگر اس لباس میں معنی حیات کی طرف سے آتا ہے۔

یہ شعر اس پورے سلسلے میں مادی اور روحانی کے رشتے کو متوازن کرتا ہے۔ اقبال نہ تو جسم کو حقیر سمجھتے ہیں اور نہ اسے اصل حقیقت مانتے ہیں۔ وہ اسے خلعت کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا لباس جو ضروری بھی ہے، معنی خیز بھی ہے، مگر باطن سے نسبت کے بغیر کچھ نہیں۔ ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور دل کی پیدائش اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زندگی صرف موجود نہیں ہوتی، اپنے اظہار کے لیے آلات بھی بناتی ہے۔ وہ دیکھنے کے لیے آنکھ، حرکت کے لیے پاؤں، عمل کے لیے ہاتھ، اور معنی و محبت کے لیے دل پیدا کرتی ہے۔ گویا حیات اپنے آپ کو اعضاء اور قویٰ کے ذریعے دنیا میں ظاہر کرتی ہے۔

آب و گل کی خلعت:

آب و گل انسانی وجود کے مادی پہلو کی علامت ہیں۔ اقبال یہ تسلیم کرتے ہیں کہ زندگی کو ظاہر ہونے کے لیے مادہ چاہیے، لباس چاہیے، ایک قابلِ لمس صورت چاہیے۔ مگر وہ اسے “خلعت” کہہ کر یہ بتا دیتے ہیں کہ یہ آخری حقیقت نہیں، بلکہ ظاہر ہونے کا وسیلہ ہے۔ جیسے خلعت پہننے والا شخص خود خلعت نہیں ہوتا، ویسے ہی زندگی بھی محض آب و گل نہیں۔

یہ نظر بڑی اہم ہے، کیونکہ اس سے نہ مادیت پرستی پیدا ہوتی ہے اور نہ جسم دشمنی۔ جسم حقیر نہیں، بلکہ حیات کے اظہار کا معزز لباس ہے۔ اس لیے اس کی حرمت بھی ہے، اس کی تہذیب بھی، اور اس کا صحیح مصرف بھی۔ مگر اس کا کمال تب ہے جب وہ اپنے باطن کی خدمت کرے، نہ کہ خود ہی مرکز بن بیٹھے۔

اعضاء کی پیدائش:

جب اقبال ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور دل کا ذکر کرتے ہیں تو وہ صرف جسمانی اعضاء کی فہرست نہیں دے رہے۔ ہر عضو ایک جہتِ حیات کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہاتھ عمل اور تصرف کی علامت ہے، پاؤں حرکت اور سفر کی، آنکھ ادراک اور بصیرت کی، اور دل محبت، ایمان، خوف، امید اور مرکزیت کی۔ اس طرح زندگی اپنے اندر سے صرف جسم نہیں بناتی بلکہ مکمل انسانی امکان کی کارگاہ کھولتی ہے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ دل کو بھی انہی اعضاء کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ گویا اقبال کے نزدیک حیات کا پیکر اس وقت مکمل ہوتا ہے جب خارجی حرکت اور باطنی مرکزیت دونوں ساتھ ہوں۔ ہاتھ پاؤں ہوں مگر دل نہ ہو تو زندگی بے روح ہو جائے گی۔ آنکھ ہو مگر دل نہ ہو تو بصیرت خشک ہو جائے گی۔ اسی لیے یہ شعر جسم و روح کے خوب صورت توازن کی تعلیم دیتا ہے۔

حیات کا مجسم ہونا:

اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی اپنی مجرد حالت میں نہیں رکتی، بلکہ خود کو مجسم کرتی ہے۔ اس کی حرکت جسم میں آتی ہے، اس کی طلب ہاتھ پاؤں میں، اس کی بصیرت آنکھ میں، اور اس کا مرکز دل میں۔ یہ مجسم ہونا ایک طرح سے دنیا میں ذمہ داری قبول کرنا بھی ہے۔ جب زندگی جسم اختیار کرتی ہے تو وہ عمل کی دنیا میں داخل ہوتی ہے۔ اب اسے چلنا، دیکھنا، پکڑنا، تعمیر کرنا، محبت کرنا، اور مرکز ڈھونڈنا ہے۔

ملت کے باب میں بھی یہی اصول اہم ہے۔ اجتماع محض خیال نہیں رہ سکتا، اسے ادارے، شعائر، حرکات، نظم، مراکز اور محسوس صورتیں درکار ہوتی ہیں۔ اقبال آگے اسی لیے ملی حیات کے لیے محسوس مرکز کی بات کریں گے۔ اس شعر میں اس کے لیے بنیاد تیار ہو رہی ہے کہ زندگی جب حقیقی ہو تو وہ مادی صورتوں میں بھی ڈھلتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج انسان یا تو اپنے جسم میں اتنا کھو جاتا ہے کہ باطن بھول جاتا ہے، یا کبھی روحانیت کے نام پر جسمانی اور اجتماعی حقیقتوں کو کم تر سمجھنے لگتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر دونوں غلطیوں کی اصلاح کرتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جسم خلعت ہے، حقیر نہیں؛ مگر اصل زندگی اس کے اندر کام کرتی ہوئی قوت ہے۔ ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور دل سب کی تربیت چاہیے، کیونکہ یہی حیات کے ظہور کے میدان ہیں۔

یہ شعر یہ بھی سکھاتا ہے کہ کسی زندہ فکر یا زندہ امت کو صرف نظری سطح پر نہیں رہنا چاہیے۔ اسے اپنے خیالات کو ہاتھ، پاؤں، آنکھ اور دل دینا ہوں گے۔ یعنی عمل، سفر، بصیرت اور باطن۔ تبھی زندگی پوری طرح ظاہر ہوگی اور اپنی اصل غایت کی طرف بڑھے گی۔

مثال

جیسے ایک معمار کے ذہن میں موجود نقشہ جب اینٹ، دروازے، روشنی اور رہنے والوں کی صورت اختیار کرتا ہے تب گھر بنتا ہے، ویسے ہی حیات اپنے باطن کو آب و گل، اعضاء اور دل کے ذریعے ظاہر کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ زندگی اپنے اظہار کے لیے آب و گل کا لباس اختیار کرتی ہے اور عمل، حرکت، بصیرت اور باطنی مرکزیت کے اعضاء پیدا کرتی ہے۔ جسم حیات کا لباس ہے، اصل قوت اس کے اندر کام کرنے والی زندگی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button