رموز بے خودی

طینت پاک مسلمان گوهر است

طینت پاک مسلمان گوهر است

آب و تابش از یم پیغمبر است

ترجمہ

مسلمان کی پاک سرشت ایک گوہر ہے، اور اس کی آب و تاب نبی کے سمندر سے ہے۔

تشریح

یہ شعر پورے سلسلۂ تمثیلات کا مرکزی خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔ قطرہ، شبنم، یم، گوہر، چمن، سحر اور بہار کے بعد اقبال اب صاف لفظوں میں بتاتے ہیں کہ مسلمان کی پاک فطرت گوہر ہے اور اس کی آب و تاب یمِ پیغمبر سے ہے۔ گویا جو کچھ پہلے تصویروں میں سمجھایا گیا تھا، اب اسے ایک کھلے اصول کی صورت میں بیان کر دیا گیا ہے۔ مسلمان اپنی اصل میں کم قیمت، پست یا بے سمت وجود نہیں۔ اس کی طینت میں پاکی، ظرفیت، امکان اور گوہری قیمت رکھی گئی ہے۔ مگر اس کی روشنی، اس کا حسن، اس کی چمک اور اس کی تاثیر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ پیغمبر کے دریا سے اپنا ربط قائم رکھے۔

یہاں “طینت پاک” اور “یم پیغمبر” دونوں الفاظ بے حد اہم ہیں۔ پہلا لفظ انسان کے اندرونی مادۂ وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور دوسرا اس عظیم منبع کی طرف جہاں سے اس وجود کو حیات، سمت اور جمال ملتا ہے۔ اقبال نہ تو مسلمان کی فطرت کو خود کفیل قرار دیتے ہیں اور نہ اسے سرے سے بے قیمت۔ وہ ایک نہایت متوازن بات کرتے ہیں: اصل گوہر اندر موجود ہے، مگر اس کی آب و تاب ایک اعلیٰ نسبت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس سے فرد کی عزت بھی قائم رہتی ہے اور اس کی محتاجی بھی درست رخ پر متعین ہوتی ہے۔

طینت پاک کا مفہوم:

طینت سے مراد سرشت، فطرت اور وہ بنیادی سانچہ ہے جس پر انسان کی شخصیت قائم ہوتی ہے۔ اقبال یہاں مسلمان کی طینت کو پاک کہتے ہیں، یعنی اس کے اندر اصل امکان خیر کا ہے۔ یہ حکم کسی خود پسند نسلی یا گروہی احساس پر نہیں بلکہ اس نسبت پر قائم ہے جس نے اسے ایک مخصوص امانت دی ہے۔ مسلمان کی فطرت میں اگر ایمان کی روشنی، حیا، رحمت، عدل اور بندگی کے امکانات نہ ہوتے تو اقبال اسے گوہر نہ کہتے۔

یہ بات امید افزا بھی ہے اور ذمہ دار بھی بناتی ہے۔ امید اس لیے کہ انسان اپنے آپ کو محض عیبوں کا مجموعہ نہ سمجھے۔ ذمہ داری اس لیے کہ گوہر ہونے کا دعویٰ پھر ایسے ہی برتاؤ کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ اگر سرشت میں قیمت ہے تو سیرت میں بھی اس کی جھلک آنی چاہیے۔

آب و تاب کہاں سے آتی ہے:

گوہر کی اصل قیمت صرف اس کے وجود میں نہیں، اس کی آب و تاب میں بھی ہوتی ہے۔ آب و تاب سے مراد چمک، دل کشی، نور اور وہ تاثر ہے جو دوسروں پر پڑتا ہے۔ اقبال فرماتے ہیں کہ مسلمان کی یہ آب و تاب یمِ پیغمبر سے ہے۔ یعنی اس کی فطرت کی اصل خوب صورتی، اس کے خلق کا حسن، اس کے کردار کی روشنی، اور اس کی تہذیب کی لطافت سیرتِ نبوی سے جڑ کر کامل ہوتی ہے۔

یہاں یمِ پیغمبر ایک حیرت انگیز استعارہ ہے۔ دریا وسعت بھی رکھتا ہے، عمق بھی، حیات بھی، اور تسلسل بھی۔ گویا نبوی نسبت کوئی محدود یا یک رخا سرچشمہ نہیں، بلکہ ایک کامل نظامِ حیات ہے۔ جو فرد یا امت اس یم سے جڑتی ہے، اس کے اندر صرف ایک نیکی نہیں آتی، بلکہ پورا مزاج بدلنے لگتا ہے: فکر، اخلاق، عبادت، معاشرت، غیرت، رحمت، سب میں نئی آب و تاب پیدا ہوتی ہے۔

فطرت اور نسبت کا ملاپ:

یہ شعر ایک بڑا توازن سکھاتا ہے۔ بعض لوگ سارا زور فطرت پر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اندر کی نیکی خود بخود کافی ہے۔ بعض لوگ اتنا زور بیرونی ضابطے پر دیتے ہیں کہ انسان کی اصل استعداد بھول جاتے ہیں۔ اقبال دونوں کو جمع کرتے ہیں۔ گوہر اندر ہے، مگر اس کی روشنی باہر کے عظیم منبع سے جڑ کر کھلتی ہے۔ فطرت اور نسبت، استعداد اور تربیت، جوہر اور آب و تاب، یہ سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کی اصلاح محض اوامر و نواہی سے نہیں ہوگی، اور نہ صرف جذباتی دعووں سے۔ اسے اپنے اندر کی طینت کو پہچاننا بھی ہوگا اور اپنے آپ کو یمِ پیغمبر سے مسلسل سیراب بھی کرنا ہوگا۔ یہی دونوں مل کر گوہری زندگی پیدا کرتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے مسلمان یا تو احساسِ کمتری میں مبتلا ہیں یا پھر محض جذباتی فخر میں۔ اقبال اس شعر میں دونوں انتہاؤں کا علاج کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہاری طینت گوہر ہے، لہٰذا اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو۔ مگر وہ فوراً یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس کی آب و تاب یمِ پیغمبر سے ہے، لہٰذا خود کفالت کے فریب میں بھی نہ آؤ۔ عزت بھی نسبت سے ہے اور بقا بھی نسبت سے۔

یہ شعر فرد، گھر، تعلیم اور ملت سب کے لیے دستور بن سکتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں، اپنے اداروں اور اپنی اجتماعی سمت کو اس اصول پر سنواریں کہ اندر کی طینت کو نبوی دریا سے روشنی ملنی چاہیے، تو ہمارے اندر بہت سی کھوئی ہوئی چمک واپس آ سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی احیا کا اصل راستہ ہے۔

مثال

جیسے قیمتی پتھر اپنی اصل ماہیت رکھتا ہے مگر ماہر صیقل اور درست روشنی سے ہی اپنی پوری چمک دکھاتا ہے، ویسے ہی مسلمان کی فطرت نبوی نسبت سے اپنی آب و تاب پاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ مسلمان کی اصل سرشت گوہر ہے، مگر اس کی کامل چمک اور نور یمِ پیغمبر سے جڑنے پر ظاہر ہوتے ہیں۔ فطرت اور نبوی نسبت کا یہی ملاپ سچی مسلم شخصیت بناتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button