سر این فرمان حق دانی که چیست
سر این فرمان حق دانی که چیست
زیستن اندر خطرها زندگیست
ترجمہ
کیا تو جانتا ہے کہ اس حکمِ حق کا راز کیا ہے؟ خطرات کے اندر جینا ہی زندگی ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال پچھلے حکم کی باطنی حکمت خود بیان کر دیتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں: کیا تم اس فرمانِ حق کا راز جانتے ہو؟ پھر جواب دیتے ہیں: “زیستن اندر خطرها زندگیست”۔ یعنی اصل زندگی خطرات سے بھاگنے، آسانیوں میں گھل جانے، یا ہر وقت محفوظ اور بے آزمائش ماحول ڈھونڈنے میں نہیں، بلکہ ان خطرات کے اندر باوقار اور بیدار رہ کر جینے میں ہے جو شخصیت، ملت اور ایمان کو پختہ بناتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
فرمانِ حق کا راز:
اقبال کی پوری شاعری میں “سر” یا راز کا لفظ بہت معنی خیز ہوتا ہے۔ وہ احکام کو محض جامد ضابطے کے طور پر نہیں دیکھتے، بلکہ ان کے پیچھے چھپی ہوئی حیات آفرین حکمت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہاں بھی جنگی اخلاقیات کے پیچھے صرف قانونی ممانعت نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی اصول کارفرما ہے: اگر تم ہر وقت آسان راستہ اختیار کرو گے تو تمہاری روح کمزور پڑ جائے گی۔
اسی لیے وہ حکم کے پیچھے حیات کا فلسفہ دکھاتے ہیں۔
خطرات میں جینا:
یہاں “خطرها” سے مراد صرف تلوار اور جنگ نہیں، بلکہ ہر وہ میدان ہے جہاں انسان کو ہمت، بیداری، ذمہ داری اور قوتِ باطن کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے۔ خوف، مشقت، امتحان، قربانی، مزاحمت اور محاسبہ سب اس کے اندر آ سکتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک ایسی فضا میں رہ کر انسان اور امت دونوں اپنی اصل توانائی کو دریافت کرتے ہیں۔
جو قوم خطرے سے صرف بچاؤ چاہتی ہے وہ شاید محفوظ تو رہے، مگر پختہ نہیں بنتی۔
آسانی اور حیات کا فرق:
بہت سے لوگ زندگی کو زیادہ سے زیادہ آرام، کم سے کم مقابلہ اور بے مسئلہ ماحول سمجھتے ہیں۔ اقبال اس تصور کو الٹ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک آسانی کی بہتات اگر خطرے کے شعور کو مٹا دے تو زندگی پژمردہ ہونے لگتی ہے۔ زندگی کی حرارت اسی وقت باقی رہتی ہے جب انسان کسی بڑے مقصد کے ساتھ خطرات کو قبول کرتا ہے اور اپنے آپ کو مسلسل اوپر اٹھاتا ہے۔
اس لیے خطرہ ہمیشہ تباہی کی علامت نہیں؛ کبھی وہ حیات کی بیداری کا میدان بھی ہوتا ہے۔
ملت کی تربیت:
یہ شعر صرف فرد کے لیے نہیں، ملت کے لیے بھی اصول رکھتا ہے۔ جس امت کے افراد مسلسل راحت پسند، بے چیلنج اور آسان کامیابی کے عادی ہو جائیں وہ نہ علم میں اونچائی پاتی ہے، نہ سیاست میں استقلال، نہ اخلاق میں بلندی۔ شریعت ایسی امت نہیں بنانا چاہتی۔ وہ آزمائش کے اندر قوت پیدا کرتی ہے، تاکہ ملت جب میدان میں اترے تو اس کی روح زندہ ہو۔
گویا خطرہ یہاں تباہی کا نہیں، تربیت کا استعارہ بن جاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم سہولت کو اتنا بڑا مقصد بنا لیتے ہیں کہ ہمت، صبر، ضبط اور قربانی کے میدانوں سے بھاگنے لگتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ یہ طرزِ حیات ہمیں اندر سے خالی کر سکتا ہے۔ اصل زندگی اس وقت بنتی ہے جب انسان مشکل کو گلے لگا کر، اصول پر قائم رہ کر، اور خطرے کے اندر ذمہ داری نبھا کر جیتا ہے۔
یہ شعر جدید راحت پسندی کے مقابل ایک بہت بلند دینی و انسانی معیار قائم کرتا ہے۔
مثال
جیسے عضلہ مشقت اور مزاحمت کے بغیر طاقت ور نہیں بنتا، ویسے ہی فرد اور ملت بھی خطرات کے اندر جینے سے پختہ ہوتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ فرمانِ حق کی حکمت انسان کو آسان موقع پرستی سے ہٹا کر پختہ زندگی کی طرف لے جانا ہے۔ خطرات کے اندر باوقار جینا ہی حقیقی حیات کی علامت ہے۔