زندہ فرد از ارتباط جان و تن
زندہ فرد از ارتباط جان و تن
زندہ قوم از حفظ ناموس کہن
ترجمہ
فرد جان اور تن کے باہمی ارتباط سے زندہ رہتا ہے، جبکہ قوم اپنے قدیم ناموس کے تحفظ سے زندہ رہتی ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد کی حیات اور قوم کی حیات کا معیار الگ الگ متعین کرتے ہیں۔ فرد اس وقت زندہ ہوتا ہے جب اس کی روح اور اس کا جسم ایک دوسرے سے مربوط ہوں۔ لیکن قوم کی زندگی جسمانی نہیں بلکہ معنوی، اخلاقی اور تاریخی ہوتی ہے۔ وہ اپنے “ناموس کہن” یعنی اپنے مقدس ورثے، اپنے بنیادی اصول، اپنے اخلاقی ضمیر اور اپنی اصل امانت کی حفاظت سے زندہ رہتی ہے۔ اقبال کے نزدیک قوم اگر اپنے ناموس سے کٹ جائے تو اس کی ظاہری تعداد اور شور و شکوہ بھی اسے حقیقی زندگی نہیں دے سکتے۔ شعر کے مطابق:
جان و تن کا ربط:
فرد کے لیے جان اور تن کا تعلق بنیادی ہے۔ جسم ہو مگر جان نہ ہو تو مردہ ہے، جان ہو مگر جسم سے تعلق منقطع ہو جائے تو دنیاوی حیات ختم ہو جاتی ہے۔ اس مثال سے اقبال فرد کی زندگی کی سادہ اور محسوس حقیقت سامنے لاتے ہیں۔ فرد کی بقا ایک حیاتیاتی ربط پر قائم ہے۔
مگر اسی تمثیل کے ذریعے وہ ہمیں اگلے درجے کی بات سمجھاتے ہیں کہ جس طرح فرد ایک باطنی اور ظاہری تعلق سے زندہ ہے، اسی طرح قوم بھی ایک ربط سے زندہ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قوم کا ربط جسمانی نہیں بلکہ اقداری اور تاریخی ہے۔
ناموس کہن کیا ہے:
“ناموس کہن” سے مراد محض پرانی رسمیں نہیں ہیں۔ اقبال کے ہاں یہ لفظ اس مقدس اور باوقار امانت کے لیے آتا ہے جو کسی قوم کی اصل شناخت بناتی ہے۔ ملتِ محمدیہ کے حق میں یہ ناموس وحی، توحید، رسالت، قرآن، سنت، اخلاق، امانت، حیا، عدل اور اس تاریخی شعور کا مجموعہ ہے جو امت کو اس کے اصل سے جوڑے رکھتا ہے۔
اس ناموس کو “کهن” کہنا اس لیے ہے کہ یہ وقتی ایجاد نہیں بلکہ ایک آزمودہ، جڑ پکڑی ہوئی، مسلسل منتقل ہونے والی حقیقت ہے۔ یہ پرانا ضرور ہے مگر فرسودہ نہیں؛ یہ اصل ہے، بنیاد ہے اور حیات کا مرکز ہے۔
تحفظ کا مطلب جمود نہیں:
اقبال جب “حفظ” کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد اندھی تقلید نہیں ہوتی۔ اصل حفاظت یہ ہے کہ قوم اپنے بنیادی اصولوں کو زندہ رکھے اور ہر نئے دور میں انہیں نئی قوت کے ساتھ ظہور دے۔ اگر صورتیں بدل جائیں مگر اصل روح باقی رہے تو ناموس محفوظ ہے۔ لیکن اگر ظاہری رسمیں باقی ہوں اور باطن مر جائے تو حفاظت محض دھوکا ہے۔
اس لیے قوم کی زندگی اس بات میں ہے کہ وہ اپنے ماضی کے ساتھ صحیح تعلق قائم رکھے: نہ اس سے بغاوت کرے، نہ اسے بت بنا لے۔ بلکہ اس سے قوت لے، اس کی روح سمجھے اور اسے عمل میں تازہ کرے۔
قوم کی حیات کا پیمانہ:
بہت ممکن ہے کوئی قوم معاشی طور پر ترقی یافتہ نظر آئے، اس کے پاس طاقت بھی ہو، عمارتیں بھی ہوں اور دنیاوی نفوذ بھی، مگر اگر وہ اپنے ناموسِ اصل سے کٹ گئی ہو تو اقبال کے نزدیک وہ اندر سے مردہ ہے۔ اسی کے برعکس کوئی قوم وقتی کمزوری، محکومی یا غربت میں مبتلا ہو مگر اس کا ضمیر، اس کی امانت اور اس کا اصل شعور محفوظ ہو تو اس میں حیات باقی ہے۔
یہی زاویہ ملتِ محمدیہ کی بقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی زندگی آبادی کی کثرت سے کم اور اپنے امانتی شعور کے تحفظ سے زیادہ وابستہ ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کے سامنے بڑا سوال یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنے وسائل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کا ناموس محفوظ ہے؟ کیا سچ بولنے کی جرأت، امانت، حیا، قرآن سے تعلق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت، اور عدل و خیر کی ذمہ داری اب بھی ہمارے اندر زندہ ہے؟ اگر یہ چیزیں کمزور پڑ جائیں تو ظاہری ترقی بھی نجات نہیں دے سکتی۔
قوم کی تجدید اسی وقت ہوگی جب وہ اپنے ناموس کو بوجھ نہیں بلکہ امانت سمجھے، اور اس کی حفاظت کو محض نعرہ نہیں بلکہ اجتماعی کردار بنائے۔
مثال
جیسے ایک پرانی علمی روایت صرف کتابوں کے محفوظ رہنے سے زندہ نہیں رہتی بلکہ اس وقت زندہ رہتی ہے جب نئی نسل اس کے علم، اس کے آداب اور اس کے معیار کو عزت کے ساتھ آگے بڑھائے۔ اگر کتابیں الماری میں ہوں مگر روایت ٹوٹ جائے تو حقیقت مر جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح قوم اپنے ناموس کہن کے تحفظ سے زندہ رہتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ فرد جان اور تن کے باہمی ربط سے زندہ ہے، مگر قوم اپنی اصل امانت، اپنے تاریخی و اخلاقی ناموس اور اپنے بنیادی اصولوں کی حفاظت سے زندہ رہتی ہے۔ اگر ناموس محفوظ ہو تو قوم میں حیات باقی رہتی ہے، اور اگر یہ ربط ٹوٹ جائے تو ظاہری طاقت بھی اسے زندہ نہیں رکھ سکتی۔