رموز بے خودی

غنچه ئی از شاخسار مصطفی

غنچه ئی از شاخسار مصطفی

گل شو از باد بهار مصطفی

ترجمہ

تو مصطفی کی شاخ کا ایک غنچہ ہے، پس مصطفی کی بہار کی ہوا سے پھول بن جا۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال پدرانہ ملامت کے بعد اچانک ایک نہایت امید افزا اور تعمیری رخ اختیار کرتے ہیں۔ اب لہجہ صرف تنبیہ کا نہیں رہتا بلکہ تربیت کے مثبت راز کو کھولتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اے نوجوان، تو مصطفی کی شاخسار کا ایک غنچہ ہے، اس لیے مصطفوی بہار کی ہوا سے پھول بن جا۔ اس میں ایک مکمل ملی اور روحانی تصور پوشیدہ ہے۔ انسان اپنی اصل میں خام، بند، محدود اور ابھی پوری طرح کھلا ہوا نہیں ہوتا۔ وہ غنچہ ہے۔ مگر اگر وہ صحیح نسبت، صحیح فضا اور صحیح بادِ تربیت پا لے تو اسی غنچے سے گل کی کامل صورت نمودار ہو سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ بادِ بہار، سیرتِ مصطفی کی بہار ہے۔

غنچہ اور گل کی تمثیل اقبال کے ہاں نہایت معنی خیز ہے۔ غنچہ حسن کا وعدہ تو رکھتا ہے، مگر ابھی بند ہے۔ اس میں رنگ بھی پوشیدہ ہے، خوشبو بھی، مگر وہ ابھی ظاہر نہیں ہوئی۔ اسی طرح نوجوانی میں انسان کے اندر بے پناہ امکانات ہوتے ہیں، مگر وہ امکانات اپنے آپ کھل نہیں جاتے۔ اگر انہیں مصطفوی تربیت کی نسیم نہ ملے تو وہ مرجھا بھی سکتے ہیں، یا بکھر بھی سکتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ انسان کس بہار کی ہوا میں پل رہا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر تو محمدی شاخ سے وابستہ ہے تو تیرے کھلنے کا صحیح راستہ بھی وہی ہے۔

شاخسارِ مصطفی کا مفہوم:

“شاخسار مصطفی” محض نسبتِ نامی نہیں، بلکہ ایک زندہ روحانی و اخلاقی نسب ہے۔ اس سے مراد وہ ملت، وہ سیرت، وہ مزاج، وہ رحمت، وہ ادب، وہ علم اور وہ عمل ہے جو نبی اکرم کی ذاتِ مبارکہ سے پھوٹا۔ اگر مسلمان اس شاخسار سے واقعی وابستہ ہے تو اس کی تربیت اسی شجر سے رس لے گی۔ وہ اپنی شناخت باہر سے مستعار نہیں کرے گا، بلکہ اپنے اصل درخت سے زندگی حاصل کرے گا۔

یہاں اقبال امت کو یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ شاخ سے وابستگی صرف دعوے سے نہیں ہوتی۔ غنچہ اگر شاخ پر ہے تو اس کے اندر شاخ کا مزاج بھی آنا چاہیے۔ اگر مسلمان اپنے آپ کو نسبتِ مصطفی سے جوڑتا ہے تو اس کے اندر بھی رحمت، حیا، عدل، تواضع، جرات اور انسان دوستی کے آثار آنے چاہئیں۔ ورنہ نسبت لفظ رہ جاتی ہے، رس بن کر نہیں اترتی۔

بادِ بہار کی تربیت:

بہار کی ہوا زبردستی نہیں کرتی، مگر اس کے لمس سے غنچہ کھلنے لگتا ہے۔ اقبال اس مثال کے ذریعے بتاتے ہیں کہ نبوی تربیت کا اصل مزاج قہر سے زیادہ حیات آفریں ہے۔ وہ انسان کو توڑتی نہیں، کھولتی ہے۔ اس کی بند صلاحیتوں کو آشکار کرتی ہے۔ اس کے دل میں نرمی، اس کے مزاج میں حسن، اور اس کے عمل میں ثمر پیدا کرتی ہے۔ یہ تربیت حکم بھی دیتی ہے، مگر اس کے اندر روح بھی پھونکتی ہے۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کی تکمیل کسی بے روح ضابطے سے نہیں، بلکہ ایک زندہ نسبت سے ہوتی ہے۔ مصطفوی بہار کی ہوا وہی ہے جو عبادت کو روح دیتی ہے، اخلاق کو رنگ دیتی ہے، اور مزاج کو خشکی سے نکال کر زندگی کی نرمی عطا کرتی ہے۔ جو اس باد سے محروم ہو وہ غنچہ ہی رہ جاتا ہے، اور کبھی پورا گل نہیں بن پاتا۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلم نوجوان کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ بہت سی ہواؤں کے درمیان کھڑا ہے۔ شناخت کی ہوائیں، خواہش کی ہوائیں، مقابلے کی ہوائیں، شہرت کی ہوائیں، اور کبھی بے معنویت کی ہوائیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر کھلنا ہے تو کسی بھی ہوا میں نہیں، مصطفوی بہار کی ہوا میں کھلنا ہے۔ ورنہ ممکن ہے شخصیت چمکے، مگر خوشبو نہ آئے؛ قوت ہو، مگر حسن نہ ہو؛ اظہار ہو، مگر وقار نہ ہو۔

یہ شعر فرد کے لیے بھی پیغام ہے اور امت کے لیے بھی۔ فرد کو یہ سوچنا ہے کہ وہ کس نسیم میں اپنی روح کو کھول رہا ہے۔ امت کو یہ سوچنا ہے کہ کیا اس کی تربیتی فضا واقعی بہارِ مصطفی کی نسیم رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر نہیں، تو غنچے پھول کیسے بنیں گے؟

مثال

جیسے باغ کا غنچہ سرد اور بے موسم ہوا میں بند رہ جاتا ہے مگر بہار کی نرم نسیم سے کھل اٹھتا ہے، ویسے ہی انسان صحیح روحانی نسبت سے اپنی اصل خوبی ظاہر کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ مسلمان اپنی اصل میں غنچہ ہے اور اس کی تکمیل بہارِ مصطفوی کی تربیت سے ہوتی ہے۔ اگر وہ صحیح نسبت کی نسیم پا لے تو اس کی شخصیت گل بن کر کھل سکتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button