رموز بے خودی

از تو این یک کار آسان هم نشد

از تو این یک کار آسان هم نشد

یعنی آن انبار گل آدم نشد»

ترجمہ

تجھ سے یہ ایک آسان کام بھی نہ ہو سکا، یعنی وہ ڈھیر بھر پھول بھی آدمی نہ بن سکا۔

تشریح

یہ شعر پچھلے مصرعے میں شروع ہونے والی اس نہایت لرزا دینے والی ملامت کو مکمل کرتا ہے جو والد گویا حضورِ نبی کی زبان سے سن رہے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ ایک مسلمان نوجوان نے دبستانِ محمدی سے کیا پایا۔ اب اس کا جواب نہایت درد کے ساتھ آتا ہے: تجھ سے یہ ایک آسان کام بھی نہ ہو سکا، یعنی وہ پھولوں کا انبار بھی “آدم” نہ بن سکا۔ اقبال کے ہاں یہ جملہ نہ صرف نوجوان کی لغزش پر تبصرہ ہے، بلکہ پوری تربیت کے مقصد کی تعریف بھی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ نوجوان باصلاحیت تھا یا نہیں، خوب صورت تھا یا نہیں، ذہین تھا یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ “آدم” بنا یا نہیں۔

“انبار گل” کی تعبیر نہایت معنی خیز ہے۔ پھول خوب صورتی، نرمی، لطافت، رنگ اور خوشبو کی علامت ہیں۔ ایک انسان بظاہر بہت سی خوبیوں کا مجموعہ ہو سکتا ہے: ذہانت، حسنِ بیان، قوت، ذوق، علم، قابلیت، معاشرتی مقام۔ لیکن اگر ان سب کے باوجود وہ کمزور انسان کے ساتھ درست سلوک نہ کرے، اگر اس کے مزاج میں رحمت نہ آئے، اگر اس میں نبوی ادب نہ ہو، تو اقبال کے نزدیک وہ ابھی “آدم” نہیں بنا۔ پھول بہت ہیں، مگر ان کے اندر انسانیت کی وحدت اور اخلاقی پختگی پیدا نہیں ہوئی۔

آدم بننے کا مفہوم:

اقبال کے ہاں “آدم” محض حیاتیاتی انسان نہیں، بلکہ اخلاقی و روحانی انسان ہے۔ ایسا انسان جو اپنے نفس کی تیزی پر قابو رکھے، جس کے اندر نسبتِ حق کی روشنی ہو، اور جو دوسرے انسان کی حرمت کو پہچانے۔ آدم ہونا اس وقت مکمل ہوتا ہے جب قوت کے ساتھ رحم، علم کے ساتھ تواضع، جوانی کے ساتھ ضبط، اور نسبت کے ساتھ ذمہ داری آ جائے۔

اس لحاظ سے شعر کا درد بہت گہرا ہے۔ گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ تمہارے اندر خوبیاں تو بہت تھیں، مگر تمہاری یہ ایک حرکت بتا رہی ہے کہ ابھی وہ سب آدمی بننے کے سانچے میں نہیں ڈھلا۔ اس سے بڑی ملامت شاید کوئی نہ ہو کہ ایک شخص کے اندر رنگ و بو بہت ہو، مگر انسانیت کی اصل حرارت کم ہو۔

آسان کام کیوں کہا:

“این یک کار آسان” کہہ کر اقبال ایک بہت اہم نکتہ سامنے لاتے ہیں۔ کمزور انسان کے ساتھ نرمی، محتاج کے ساتھ رحم، غصے پر قابو، اور سائل کی حرمت کا پاس رکھنا دراصل بنیادی اخلاقیات ہیں۔ یہ کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں، نہ کوئی دور کی منزل۔ اگر آدمی ان ہی ابتدائی آداب میں ناکام ہو تو اس کی بڑی بڑی دعوے داریاں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اس لیے والد کے تصور میں نبوی ملامت یہ ہے کہ یہ تو ایک آسان مرحلہ تھا، اگر یہ بھی نہ نبھ سکا تو پھر بڑی باتوں کا کیا اعتبار؟

یہاں “آسان” کا لفظ دراصل شرمندگی کو بڑھاتا ہے۔ جس چیز کو ہم نے ہلکا سمجھا تھا وہی بنیادی نکلی، اور جسے ہم نے اپنے مزاج کی چھوٹی بات جانا تھا وہی انسانیت کا امتحان بن گیا۔

تربیت کا اصل مقصد:

اس شعر سے واضح ہوتا ہے کہ تربیت کا مقصود خوب صورت شخصیت بنانا نہیں، آدمی بنانا ہے۔ گھر، مدرسہ، ماحول، دین، علم، صحبت، سب کا خلاصہ اگر ایک لفظ میں کرنا ہو تو وہ “آدم” ہے۔ یعنی ایسا انسان جو دوسرے انسان کے درد کو محسوس کرے، اپنی قوت کو ظلم میں نہ بدلے، اور اپنی نسبتوں کے وقار کو سمجھے۔ اگر یہ نہ آیا تو سب کچھ بکھرا ہوا “انبار گل” ہے، منظم انسانی سیرت نہیں۔

اقبال اسی لیے اس مصرعے میں ایک مکمل انسانی فلسفہ سمٹا دیتے ہیں۔ حسن تب معنی رکھتا ہے جب وہ اخلاق سے جڑ جائے، علم تب نافع ہے جب وہ رحمت پیدا کرے، اور جوانی تب قیمتی ہے جب وہ نبوی ادب کے سانچے میں ڈھل جائے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم بہت سی کامیابیوں کو انسان بننے کا نام دے دیتے ہیں: ڈگری، فن، زبان، نفاست، مقام، شہرت، پیشہ ورانہ مہارت۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر ان سب کے باوجود آدمی کمزور کے ساتھ درست سلوک نہ کر سکے تو ابھی کچھ بہت بنیادی چیز باقی ہے۔ اصل تربیت وہ ہے جو مزاج کو آدمی بنائے۔

یہ شعر ہم سب کے لیے ایک کڑا سوال ہے: کیا ہم صرف “انبار گل” ہیں، یا واقعی آدم بنے ہیں؟ یہ سوال جتنا ذاتی ہے، اتنا ہی ملی بھی ہے۔ ایک امت بھی بظاہر رنگا رنگ خوبیوں کی مالک ہو سکتی ہے، مگر اگر اس کے مزاج میں انسان دوستی اور نبوی ادب کم ہو تو اسے ابھی آدمی بننے کا سفر درپیش ہے۔

مثال

جیسے بکھرے ہوئے پھول خوب صورت تو ہوتے ہیں مگر گلدستہ نہیں بنتے، ویسے ہی بے شمار صلاحیتیں اگر اخلاقی وحدت نہ پائیں تو مکمل انسان نہیں بناتیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ اصل کامیابی آدم بننا ہے، نہ کہ محض خوبیوں کا مجموعہ ہونا۔ نبوی تربیت کا بنیادی امتحان یہی ہے کہ انسان کے اندر رحمت، ضبط اور اخلاقی انسانیت پیدا ہو۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button