رموز بے خودی

عقل محکم از اساس چون و چند

عقل محکم از اساس چون و چند

عشق عریان از لباس چون و چند

ترجمہ

عقل کی بنیاد “کیوں” اور “کس طرح” کے سوالات پر مضبوط ہوتی ہے، جبکہ عشق “چون و چند” کے لباس سے عریاں ہوتا ہے۔

تشریح

اقبال اس شعر میں عقل اور عشق کے ادراکی انداز کا ایک نہایت نازک فرق بیان کرتے ہیں۔ عقل کی عمارت سوال، دلیل، اندازہ اور تحلیل پر قائم ہوتی ہے؛ وہ ہر چیز کی کیفیت، علت، صورت اور امکان کو پوچھتی ہے۔ عشق بھی اندھا نہیں، مگر اس کی اصل حرکت ان سوالات میں نہیں رُکتی۔ وہ ایک مقام پر “کیوں” سے آگے بڑھ کر “ہے” اور “ضروری ہے” کے یقین تک پہنچ جاتا ہے۔ شعر کے مطابق:

چون و چند کی عقل:

“چون و چند” میں کیفیت، سبب، مقدار، صورت اور تفصیل کے وہ سب سوال شامل ہیں جن سے عقل اپنا نظام بناتی ہے۔ یہ سوال بہت اہم ہیں، کیونکہ ان سے فہم پیدا ہوتی ہے۔ مگر اقبال کا مسئلہ یہ ہے کہ عقل کئی بار انہی سوالوں کو آخری منزل سمجھ بیٹھتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان تحلیل تو بہت کرتا ہے، مگر اپنے آپ کو کسی بلند تر وفاداری کے سپرد نہیں کرتا۔

سوال جب مرکز بن جائیں تو یقین پیچھے رہ سکتا ہے۔

عشق کی عریانی:

عشق “عریان” ہے، یعنی وہ غیر ضروری حجابات، توجیہات، پیچیدگیوں اور مصلحتی پردوں سے آزاد ہے۔ اس کا تعلق اصل حقیقت سے براہ راست ہے۔ اقبال کے نزدیک سچا عشق اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں حق کے تقاضے کے سامنے چون و چرا کم ہو جاتی ہے۔ یہ بے عقلی نہیں، بلکہ وہ باطنی بصیرت ہے جو سوالات سے گزر کر مرکز کو پا لیتی ہے۔

عشق کے پاس دلیل کم اور حضوری زیادہ ہوتی ہے۔

کربلا کا منظر:

کربلا عقل کے چون و چند کے لیے ایک بہت مشکل واقعہ ہے: کیوں اتنی قلت میں قیام؟ کیوں اس ظاہری انجام کے ساتھ سفر؟ کیوں خاندان سمیت نکلنا؟ کیوں سمجھوتا نہ کرنا؟ مگر عشق کے نزدیک جواب ایک ہی ہے: حق کی حفاظت۔ اقبال بتاتے ہیں کہ حسینیت کو صرف سوالات کے لباس میں نہیں سمجھا جا سکتا؛ اسے عشق کی عریانی میں دیکھنا ہوگا۔

اسی لیے کربلا استدلال سے بڑھ کر شہادت کا درس دیتی ہے۔

اسلامی حریت کی صفائی:

آزادی کا فیصلہ بھی کئی بار چون و چند کے جال میں کمزور پڑ جاتا ہے۔ آدمی پوچھتا رہتا ہے: کیا یہ وقت مناسب ہے؟ کیا یہ طریقہ کارآمد ہے؟ کیا نقصان زیادہ تو نہیں؟ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ ایک مرحلے پر عشق کو حق کی صفائی چاہیے، نہ کہ سوالات کے لباس۔ جب حق واضح ہو جائے تو اس کے لیے کھڑا ہونا “چون و چند” سے اوپر اٹھنے کا نام ہے۔

یہی صفائی اسلامی خودی کو فیصلہ کن بناتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلسل سوال کرنا علمی خوبی سمجھا جاتا ہے، اور اپنی جگہ درست بھی ہے۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ اگر سوال ہی سوال رہ جائیں اور دل کبھی کسی سچے عہد تک نہ پہنچے تو شخصیت بکھر جاتی ہے۔ زندگی میں ایسے لمحے بھی آتے ہیں جب حق کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے زائد سوالات کے لباس اتارنے پڑتے ہیں۔

اسلامی حریت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب فہم کے بعد عہد بھی پیدا ہو۔

مثال

ایک شخص کسی ناانصافی کے خلاف سب دلائل سمجھ لینے کے بعد بھی اگر مسلسل یہی سوچتا رہے کہ ابھی کیوں، کیسے، کس طرح، کس قیمت پر، اور کبھی قدم نہ اٹھائے، تو وہ چون و چند کے لباس میں گرفتار رہتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عقل سوالات اور تفصیلات کے نظام پر قائم ہے، جبکہ عشق حق کے سامنے اضافی چون و چرا کے پردے اتار دیتا ہے۔ یہی کیفیت حریت کو محض سمجھ سے نکال کر وفاداری میں بدلتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button