رموز بے خودی

تا صداقت زنده گردد از دمش

تا صداقت زنده گردد از دمش

غیر حق سوزد ز برق پیهمش

ترجمہ

تاکہ اس کے سانس سے صداقت زندہ ہو جائے، اور اس کی مسلسل بجلی سے غیرِ حق جل جائے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں اس ابراہیمی اور محمدی امت کے اثر کو بیان کرتے ہیں۔ یہ امت صرف وجود رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ اس کے دم سے صداقت زندہ ہو اور اس کی پے در پے برق سے باطل جلتا رہے۔ یہاں اقبال امت کے دو بنیادی کام واضح کرتے ہیں: ایک مثبت، یعنی سچائی کو حیات دینا؛ دوسرا منفی، یعنی غیرِ حق کو مٹا دینا۔ گویا امت کی زندگی محض اپنی بقا میں نہیں بلکہ حق کی تجدید اور باطل کی نفی میں ہے۔ شعر کے مطابق:

دم سے صداقت کا زندہ ہونا:

“دم” سے مراد صرف سانس نہیں بلکہ روحانی تاثیر، زندہ کلام، سچے کردار اور قلبی حرارت ہے۔ جب کسی زندہ امت کا دم سچا ہو تو اس کے الفاظ، اس کی عبادت، اس کی دعوت، اس کا علم اور اس کی اجتماعی مثال دوسروں کے اندر بھی سچائی کی روح جگا دیتی ہے۔ صداقت صرف نظری تعریف سے زندہ نہیں ہوتی؛ اسے زندہ انسانوں کے سانس، عمل اور نمونے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اقبال کے نزدیک امتِ مسلمہ کا منصب یہی ہے کہ وہ انسان کے ضمیر میں سچ کو پھر سے بیدار کرے۔ جہاں جھوٹ عادت بن گیا ہو، وہاں راست گوئی پیدا کرے؛ جہاں منافقت رائج ہو، وہاں اخلاص پیدا کرے؛ جہاں حق کو مصلحت کے نیچے دبا دیا گیا ہو، وہاں حق کو دوبارہ زبان دے۔

صداقت کی زندگی کیا ہے:

صداقت زندہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صرف سچ بولنے والے کچھ افراد پیدا ہو جائیں، بلکہ یہ کہ سچ ایک اجتماعی فضا بنے۔ فیصلوں میں، علم میں، گواہی میں، معیشت میں، محبت میں اور قیادت میں صداقت زندہ ہو۔ اقبال اس شعر سے امت کو فردی اخلاق سے اٹھا کر ایک تہذیبی ذمہ داری دیتے ہیں۔

جب امت کا دم مردہ ہو جاتا ہے تو سچ رسمی لفظ بن جاتا ہے۔ مگر جب اس کا دم زندہ ہو تو معاشرہ جھوٹ سے شرمندہ اور سچ سے مطمئن ہونے لگتا ہے۔ یہی صداقت کی حقیقی حیات ہے۔

برقِ پیہم کا مفہوم:

“برق پیہم” سے مراد ایسی لگاتار چمک اور ضرب ہے جو باطل کو مہلت تو دے سکتی ہے مگر اسے بے نقاب ہونے سے بچنے نہیں دیتی۔ امت کا کردار ایک وقتی احتجاج نہیں بلکہ مسلسل روشنی اور مسلسل ضرب ہے۔ کبھی علم کے ذریعے، کبھی کردار کے ذریعے، کبھی دعوت کے ذریعے اور کبھی قربانی کے ذریعے غیرِ حق کو جلاتی رہنا اس کی ذمہ داری ہے۔

یہاں جلانا مراد جسمانی تباہی نہیں بلکہ باطل کے پردے، اس کے فریب، اس کے استحکام اور اس کی نفسیاتی گرفت کو توڑنا ہے۔ حق کی بجلی جب چمکتی ہے تو جھوٹ اپنا اصل چہرہ دکھانے لگتا ہے۔

غیرِ حق کیا ہے:

غیرِ حق میں صرف کھلا ہوا ظلم ہی شامل نہیں بلکہ وہ سب کچھ شامل ہے جو انسان کو خدا سے ہٹا دے، نفس کا غلام بنا دے، جھوٹ کو مصلحت بنا دے، اور زندگی کو مقصد سے خالی کر دے۔ شرک، ریا، فریب، ظلم، اخلاقی بزدلی اور حق فروشی سب غیرِ حق کے رنگ ہیں۔

امت اگر واقعی حق کی امت ہے تو اسے صرف اپنے اندر نیکی پیدا نہیں کرنی بلکہ غیرِ حق کے نظام، مزاج اور تہذیبی اثر کو بھی چیلنج کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال صداقت کے ساتھ برق کا ذکر بھی کرتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ یا تو نرمی کے نام پر باطل کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتی ہے، یا ردعمل کے نام پر حکمت کھو دیتی ہے۔ اقبال اس شعر میں توازن دیتے ہیں: دم ایسا ہو کہ صداقت زندہ ہو، اور برق ایسی ہو کہ غیرِ حق جل جائے۔ یعنی نرمی ہو مگر کمزوری نہ ہو، شدت ہو مگر اندھا پن نہ ہو، اور حق کی خدمت میں مسلسل اخلاقی قوت ہو۔

اگر ہمارے افراد، مدارس، منبر، قلم اور اجتماعی ادارے صداقت کو زندہ کرنے لگیں تو جھوٹ خود بخود دفاعی پوزیشن میں چلا جائے گا۔ یہی امت کی اصل تاثیر ہے۔

مثال

جیسے ایک سچا معلم اپنے اخلاص اور علمی دیانت سے طلبہ میں حقیقت پسندی پیدا کرتا ہے، اور اس کی مسلسل فکری روشنی غلط نظریات کو جگہ نہیں لینے دیتی، ویسے ہی امت کے زندہ دم سے صداقت اٹھتی ہے اور اس کی برق سے باطل کی تاریکی گھٹتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں امت کا منصب دو لفظوں میں بیان کرتے ہیں: صداقت کو زندہ کرنا اور غیرِ حق کو جلانا۔ اس کے دم میں سچائی کی حیات ہونی چاہیے اور اس کی برق میں باطل کو بے نقاب کرنے کی مسلسل قوت۔ یہی اس کی حیات کا جواز ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button