شمع دل در سینه ها روشن نبود
شمع دل در سینه ها روشن نبود
ملت ما از فساد ایمن نبود
ترجمہ
سینوں میں دل کی شمع روشن نہ تھی، اس لیے ہماری ملت فساد سے محفوظ نہ تھی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ملت کے مرض کی جڑ بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بیرونی خرابیوں، سیاسی کمزوریوں یا تہذیبی زوال کی اصل وجہ یہ نہیں کہ حالات سخت تھے، بلکہ یہ تھی کہ دلوں کے اندر وہ روشنی باقی نہ رہی تھی جو انسان اور قوم دونوں کو سیدھا رکھتی ہے۔ “شمعِ دل” ایک نہایت بھرپور استعارہ ہے جو ایمان، بصیرت، اخلاص اور اندرونی بیداری سب کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
شمعِ دل کیا ہے:
شمع روشنی بھی دیتی ہے، گرمی بھی، اور تاریکی کے درمیان سمت بھی۔ دل کی شمع سے مراد وہ زندہ ایمان اور باطنی شعور ہے جو انسان کو محض رسم، مصلحت یا خوف کے تابع نہیں رہنے دیتا۔ جب یہ شمع جلتی ہے تو آدمی حق و باطل میں فرق کر سکتا ہے، اپنے نفس کو پہچان سکتا ہے، اور اپنے مقصد کے ساتھ وفادار رہ سکتا ہے۔
اقبال کے نزدیک یہی شمع فرد کے باطن کی اصل زندگی ہے، اور یہی ملت کے اجتماعی وجود کی بھی بنیاد ہے۔
دلوں کا اندھیرا اور اجتماعی فساد:
جب اندر روشنی نہ ہو تو باہر کے فتنے جلد اثر کرتے ہیں۔ فساد صرف سیاسی بغاوت یا معاشرتی انتشار نہیں، بلکہ فکری الجھن، اخلاقی کمزوری، خود غرضی، باہمی بےاعتمادی اور مقصد سے دوری بھی فساد ہی کی صورتیں ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ سب اسی وقت پھیلتا ہے جب دل کے اندر ہدایت کی روشنی کمزور پڑ جائے۔
گویا ملت کی بیماری باہر سے پہلے اندر پیدا ہوتی ہے۔ دل کا اندھیرا ہی بعد میں تاریخ کے اندھیرے کی شکل اختیار کرتا ہے۔
اصلاح کی اصل جگہ:
اس شعر سے اقبال کا وہ اصول سامنے آتا ہے کہ قوموں کی اصلاح صرف قوانین، نظم و ضبط یا نعروں سے نہیں ہوتی۔ اصل اصلاح دلوں میں ہوتی ہے۔ اگر اندر ایمان، غیرت، اخلاص اور خدا خوفی زندہ ہو تو بیرونی نظام بھی نسبتاً سیدھا رہتا ہے؛ لیکن اگر دل مردہ ہوں تو بہترین ڈھانچے بھی جلد بگڑ جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال سیاسی مسئلے کو بھی روحانی جڑ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تہذیب کے زخم کا مداوا صرف ادارہ جاتی نہیں، قلبی بھی ہونا چاہیے۔
ملت کی عدمِ امان:
“ایمن نبود” میں ایک گہرا اضطراب ہے۔ یعنی ملت کے پاس نہ اندرونی سلامتی تھی، نہ بیرونی حفاظت۔ جب دلوں سے روشنی اٹھ جائے تو قوم اپنی ہی خواہشات، اپنی ہی تقسیموں اور باہر کی یلغاروں کے سامنے کمزور ہو جاتی ہے۔ اقبال اس عدمِ امان کو صرف سیاسی حادثہ نہیں سمجھتے بلکہ باطنی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
اس سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ حقیقی امن صرف طاقت سے نہیں، دل کے نور سے آتا ہے۔
آج کا پیغام:
یہ شعر ہر دور کے مسلمانوں سے پوچھتا ہے کہ کیا ہماری سینوں میں شمعِ دل روشن ہے؟ اگر دل علم، ذکر، فکر، عدل اور اخلاص سے خالی ہو رہے ہوں تو محض شور، ردعمل یا ظاہری منصوبے فساد کو نہیں روک سکتے۔ اصل حفاظت اندر کی بیداری سے آئے گی۔
اقبال اس لیے فرد اور ملت دونوں کو دل کی اس شمع کو دوبارہ جلانے کی دعوت دیتے ہیں، کیونکہ یہی روشنی فساد کے اندھیروں سے اصل امان دیتی ہے۔
مثال
اگر ایک شہر میں روشن سڑکیں نہ ہوں تو چھوٹے حادثے بھی بڑھ جاتے ہیں، راستے بھٹکنے لگتے ہیں اور خوف میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جب دل کی روشنی بجھ جائے تو فرد اور قوم دونوں فساد کے لیے زیادہ آسان شکار بن جاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ملت کے فساد کی جڑ دلوں کے اندھیرے میں ہے۔ جب شمعِ دل روشن نہ رہے تو قوم نہ اخلاقی طور پر محفوظ رہتی ہے، نہ فکری اور نہ اجتماعی طور پر۔ اصل اصلاح دل کی روشنی بحال کرنے سے شروع ہوتی ہے۔