رموز بے خودی

صیقلش آئینه سازد سنگ را

صیقلش آئینه سازد سنگ را

از دل آهن رباید زنگ را

ترجمہ

اس کا صیقل پتھر کو بھی آئینہ بنا دیتا ہے، اور لوہے کے دل سے زنگ بھی دور کر دیتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال شریعت اور دینِ مصطفی کی اصلاحی قوت کو دو انتہائی بلیغ تصویروں میں سمیٹ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا صیقل پتھر کو آئینہ بنا دیتا ہے اور لوہے کے دل سے زنگ اتار دیتا ہے۔ یعنی وہ تربیت جو بظاہر سخت، بے حس، بے نور یا زنگ آلود وجود ہے، اسی کو صاف، روشن، باطن شناس اور قابلِ انعکاس بنا دیتی ہے۔ یہ صرف اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسان کی باطنی ساخت کے بدل جانے کا اعلان ہے۔

پتھر جمود، کثافت اور بے نوری کی علامت ہے۔ آئینہ صفائی، روشنی، حقیقت کے انعکاس اور خود بینی کی علامت ہے۔ اسی طرح لوہا قوت رکھتا ہے مگر زنگ اسے بے کار کر دیتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ شریعت محض حکم نہیں دیتی، بلکہ صیقل بھی دیتی ہے۔ وہ انسان کو صرف روکتی نہیں، بلکہ صاف کرتی ہے؛ صرف ڈراتی نہیں، بلکہ روشن بھی کرتی ہے؛ صرف نظم نہیں دیتی، بلکہ باطن کی زنگ آلودگی بھی دور کرتی ہے۔

پتھر سے آئینہ:

یہ استعارہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی سخت، غافل یا بے کیف کیوں نہ ہو، اگر وہ حق کی تربیت میں آ جائے تو اس کے اندر انعکاسِ حق کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ آئینہ خود کچھ نہیں گھڑتا، بلکہ حقیقت کو صاف دکھاتا ہے۔ جب انسان کا دل آئینہ بنتا ہے تو وہ چیزوں کو خواہش کی دھند میں نہیں بلکہ حقیقت کی روشنی میں دیکھنے لگتا ہے۔ یہی بصیرت ہے، یہی تہذیبِ نفس ہے، اور یہی شریعت کی بڑی نعمت ہے۔

اقبال کا اشارہ یہ بھی ہے کہ اصل تبدیلی اندر سے آتی ہے۔ کوئی بھی بیرونی نظام اس وقت تک مکمل اثر نہیں دکھا سکتا جب تک دل صاف نہ ہو۔ شریعت عبادت، حلال و حرام، ضبط، ذمہ داری اور ذکر کے ذریعے انسان کے باطن کو صیقل دیتی ہے، تاکہ وہ خود بھی صاف ہو اور حقیقت کو بھی صاف دیکھ سکے۔

لوہے کے دل سے زنگ ہٹانا:

زنگ اس فساد کا نام ہے جو قوت کو بے کار کر دیتا ہے۔ حسد، خوف، حرص، تکبر، سستی، بے عملی، نفس پرستی اور غفلت سب دل کے زنگ ہیں۔ انسان کے پاس صلاحیت ہو سکتی ہے، مگر یہی زنگ اسے صحیح کام میں آنے نہیں دیتا۔ اقبال کے مطابق شریعت کی صیقل اس زنگ کو دور کرتی ہے۔ پھر وہی دل جو پہلے خواہش کا قیدی تھا، حق کا حامل بن جاتا ہے۔ وہی شخصیت جو پہلے اپنی قوت ضائع کر رہی تھی، اب بامقصد اور مفید ہو جاتی ہے۔

یہاں “دلِ آهن” بھی نہایت معنی خیز ترکیب ہے۔ بعض اوقات آدمی میں قوت ہوتی ہے مگر لطافت نہیں، استحکام ہوتا ہے مگر صفائی نہیں، ارادہ ہوتا ہے مگر پاکیزگی نہیں۔ شریعت اس قوت کو ضائع نہیں کرتی بلکہ اس کے زنگ کو دور کر کے اسے صحیح مصرف دیتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کے زمانے میں انسان کے پاس معلومات بہت ہیں مگر صفائی کم ہے۔ قوت بہت ہے مگر مقصد کم ہے۔ وسائل بہت ہیں مگر دلوں پر زنگ بھی بہت ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل اصلاح اس وقت ہوگی جب انسان کے باطن پر صیقل چلے گی۔ جب دل شفاف ہوگا، تب ہی علم نافع ہوگا، قوت مفید ہوگی، اور عمل درست رخ پر چلے گا۔

یہ شعر ہمیں دین کو محض حکم نامہ سمجھنے سے روکتا ہے۔ دین ایک صیقل بھی ہے۔ وہ اندر کی کثافتیں دور کرتا ہے، بصیرت پیدا کرتا ہے، اور شخصیت کو ایسا بناتا ہے کہ وہ حق کی روشنی کو منعکس کر سکے۔

مثال

جیسے سنار مسلسل رگڑ اور صفائی سے دھات کو چمکا دیتا ہے، ویسے ہی حق کی تربیت دل کے زنگ کو مٹا کر شخصیت کو روشن بنا دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق شریعت کی صیقل سخت دل کو روشن اور زنگ آلود قوت کو پاک کر دیتی ہے۔ پتھر آئینہ بن سکتا ہے اور لوہے کا دل بھی صاف ہو سکتا ہے، اگر انسان حق کی تربیت قبول کرے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button