خون گران سیر است در رگهای او
خون گران سیر است در رگهای او
سنگ صد دهلیز و یک سیمای او
ترجمہ
اس کی رگوں میں آہستہ مگر بھاری خون دوڑتا ہے، اور وہ گویا سو دہلیزوں کا سنگ ہے مگر اس کی صورت ایک ہی رہتی ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال بنی اسرائیل کی سرشت کے دو پہلو دکھاتے ہیں: ایک داخلی مزاج، اور دوسرا خارجی حالت میں بھی باقی رہنے والی شناخت۔ “خون گران سیر” سے وہ ایسی طبیعت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو جلد باز نہیں، دیرپا ہے، بوجھ اٹھانا جانتی ہے، اور شدید تاریخی جھٹکوں کے باوجود خود کو پوری طرح ضائع نہیں ہونے دیتی۔ پھر “سنگ صد دهلیز و یک سیمای او” کے ذریعے وہ ایک نہایت بلیغ تصویر بناتے ہیں: وہ قوم بہت سے گھروں، شہروں، ملکوں اور دہلیزوں سے گزری، ان پر پڑی، ان سے ٹکرائی، مگر اپنی ایک شناخت باقی رکھنے میں کامیاب رہی۔ شعر کے مطابق:
خون گران سیر کا مفہوم:
یہ ترکیب سستی یا مردگی کا بیان نہیں، بلکہ ایک ایسے مزاج کی علامت ہے جو جلد بھڑکتا نہیں اور جلد بکھرتا بھی نہیں۔ بھاری خون میں تحمل، دیرپائی، ضبط اور ایک قسم کی تاریخی صبوری ہوتی ہے۔ اقبال شاید یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بعض قوموں کی بقا صرف جوش سے نہیں ہوتی، بلکہ سخت حالات میں اپنے آپ کو سنبھال کر رکھنے کی صلاحیت سے بھی ہوتی ہے۔
ایسا مزاج کبھی کبھی تخلیقی سرعت کو کم کر دیتا ہے، مگر بقا کے دور میں یہی صفت ڈھال بن سکتی ہے۔
سنگ صد دهلیز:
“سنگ صد دهلیز” کی تعبیر میں ذلت، آوارگی، کثرتِ مقامات اور مسلسل در بدر زندگی کا سایہ موجود ہے۔ دہلیز کا پتھر ہر آنے جانے والے قدم کو سہتا ہے۔ اگر ایک قوم صدیوں تک مختلف دروازوں، شہروں اور حکومتوں کے نیچے زندگی گزارے تو اس کی یہ حالت سنگ صد دهلیز جیسی ہو جاتی ہے۔
اقبال اس تصویر سے دکھاتے ہیں کہ تاریخی انتشار کس قدر سخت اور توہین آمیز بھی ہو سکتا ہے، مگر اس کے باوجود بقا ممکن ہے اگر اندرونی شناخت مکمل طور پر نہ ٹوٹے۔
یک سیمای او:
دوسری سطر کا سب سے گہرا نکتہ “یک سیما” ہے۔ بہت سی دہلیزوں کے باوجود ایک چہرہ۔ یعنی کثرتِ مقام کے باوجود ایک مرکزی شناخت، ایک تاریخی حافظہ، ایک مذہبی حوالہ، ایک اجتماعی خود آگاہی۔ اقبال کے نزدیک یہی چیز بنی اسرائیل کی سخت جانی کو سمجھنے کی کنجی ہے۔
یہاں وہ ملت اسلامیہ کو بتا رہے ہیں کہ جغرافیائی بکھراؤ اتنا تباہ کن نہیں جتنا تہذیبی بے صورتی۔ اگر سیما ایک رہے تو پراگندگی کے باوجود بقا رہ سکتی ہے۔
رابطہ اور شناخت:
کسی قوم کی بقا اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے افراد اپنے آپ کو ایک مسلسل تاریخ کا حصہ سمجھتے رہیں۔ قانون، عبادات، رسوم، تعلیم، زبان، نام اور شعائر سب اس ایک سیما کی تشکیل کرتے ہیں۔ اقبال کا اشارہ یہی ہے کہ بے شمار دہلیزوں پر پڑا رہنے کے باوجود اگر قوم اپنی صورت محفوظ رکھے تو وہ ختم نہیں ہوتی۔
اسی لیے وہ تقلید کے موضوع کو محض فقہی مسئلہ نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے تہذیبی بقا کے اصول تک بلند کر دیتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمانوں کا بھی بڑا حصہ مختلف ملکوں، زبانوں، سیاسی نظاموں اور معاشرتی دباؤ میں بکھرا ہوا ہے۔ اگر اس بکھراؤ کے ساتھ ایک سیما، ایک قرآنی مرکز، ایک اخلاقی سانچہ اور ایک زندہ روایت باقی رہے تو امت کا ربط محفوظ رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر صورت ہی بدل جائے تو محض تعداد بقا نہیں دیتی۔
اقبال سکھاتے ہیں کہ بقا کے دور میں گہرا ربط، تاریخی شعور اور اجتماعی شناخت نعمتِ عظمیٰ ہیں۔
مثال
جیسے ایک مہر مختلف کاغذوں پر لگے مگر اپنی نقش گری ایک ہی رکھے، ویسے ہی قومیں بھی مختلف زمینوں میں رہ کر اپنی اصل صورت محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بنی اسرائیل کی صبوری اور ان کی محفوظ شناخت کو مثال بناتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کثرتِ مقامات اور سخت حالات کے باوجود اگر سیما ایک رہے تو قوم مٹتی نہیں۔