روز هیجا لشکر اعدا اگر
روز هیجا لشکر اعدا اگر
بر گمان صلح گردد بی خطر
ترجمہ
جنگ کے دن اگر دشمن کا لشکر صلح کے گمان سے بے خطر ہو جائے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال شریعت کے ایک نہایت بلند اخلاقی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ ایسی صورت بیان کرتے ہیں جہاں دشمن کا لشکر صلح کے گمان میں بے فکر اور بے خطر ہو جائے۔ یہاں مقصود محض جنگی منظر کشی نہیں، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ اسلام کی شریعت محض فتح نہیں چاہتی؛ وہ ایسی قوت چاہتی ہے جس میں وقار، دیانت، خود اعتمادی اور اخلاقی ضبط موجود ہو۔ اگر دشمن کسی اعتماد یا صلح کے گمان میں اپنی نگہبانی ڈھیلی کر دے تو اس صورتِ حال میں مسلمان کی آزمائش صرف عسکری نہیں، اخلاقی بھی بن جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:
روزِ هیجا کی فضا:
“روز هیجا” جنگ، ٹکراؤ، شدید آزمائش اور قوت کے امتحان کا دن ہے۔ اقبال اس لفظ سے بتاتے ہیں کہ اصل مردانگی اور اصل اجتماعی کردار سکون کے اوقات میں نہیں بلکہ کشمکش کے میدان میں کھلتا ہے۔ ایسے دن میں قوم کی اخلاقی ساخت بھی سامنے آتی ہے اور اس کی شجاعت بھی۔
گویا یہاں جنگ ایک ظاہری واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملت کی باطنی تربیت کا میدان بھی ہے۔
گمانِ صلح کا مفہوم:
دشمن کا “گمان صلح” میں بے خطر ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس نے کم از کم وقتی طور پر اپنی سخت جنگی چوکسی چھوڑ دی ہے۔ اس میں اعتماد، غفلت یا اطمینان تینوں پہلو ہو سکتے ہیں۔ اقبال اس صورت کو اس لیے سامنے لاتے ہیں کہ یہاں آسان فائدہ حاصل کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے، مگر شریعت کی حکمت دیکھتی ہے کہ کیا ہر آسان موقع اخلاقاً درست بھی ہوتا ہے یا نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کی جنگی اخلاقیات محض غلبے کے منطق سے بلند نظر آتی ہیں۔
اخلاقی قوت کا امتحان:
اگر کوئی قوم صرف دشمن کی غفلت سے فائدہ اٹھانے کو ہی کمال سمجھے تو اس کی قوت میں وقار کم رہ جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک شریعت ایسی قوت چاہتی ہے جو دھوکے، کم ظرفی یا غیر ذمہ دار فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنے بازو کی حقیقی آزمائش کے ساتھ آگے بڑھے۔ یہ نکتہ بعد کے اشعار میں اور واضح ہوتا ہے، جہاں زندگی کو خطرات کے اندر جینا بتایا گیا ہے۔
پس یہاں اصل سوال یہ ہے کہ مسلمان کس قسم کی قوت پیدا کرنا چاہتا ہے: چالاک مگر کمزور، یا باوقار مگر مضبوط۔
شریعت کا مزاج:
شریعت کے احکام میں صرف جواز و عدمِ جواز نہیں، تربیت بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ تربیت مسلمان کو ایسا کردار دیتی ہے جو دشمن کے سامنے بھی اپنی اخلاقی بلندی نہیں کھوتا۔ اگر موقع آسان بھی ہو، تب بھی مسلمان کی نگاہ صرف فوری فائدے پر نہیں بلکہ اس کردار پر ہوتی ہے جس سے امت کی طویل المیعاد طاقت بنتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال بار بار شریعت کو قوت، نظم اور زندگی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج یہ شعر ہمیں وسیع معنی میں یہ سبق دیتا ہے کہ کمزور حریف، وقتی فائدہ، یا اعتماد کے ماحول سے ناجائز فائدہ اٹھانا حقیقی قوت نہیں بناتا۔ چاہے میدان جنگ ہو، سیاست ہو، تجارت ہو یا علمی بحث، باوقار قوت وہ ہے جو امانت، ضبط اور بلند اخلاق کے ساتھ کام کرے۔
اقبال کی نظر میں ایسی شرافت کمزوری نہیں بلکہ پختہ ملت کے کردار کی علامت ہے۔
مثال
جیسے ایک سچا پہلوان کمزور یا غافل حریف پر چال سے نہیں بلکہ اپنے زور کے ساتھ غالب آنا چاہتا ہے، ویسے ہی ملت کی اصل قوت بھی باوقار آزمائش سے بنتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ شریعت ایسی قوت چاہتی ہے جو دشمن کی غفلت کے آسان موقع سے بڑھ کر اخلاقی وقار کو اہم سمجھے۔ یہی مزاج ملت کے اندر پختہ، بااعتماد اور ذمہ دار طاقت پیدا کرتا ہے۔