پیکرت دارد اگر جان بصیر
پیکرت دارد اگر جان بصیر
عبرت از احوال اسرائیل گیر
ترجمہ
اگر تیرے وجود میں دیکھنے والی جان موجود ہے تو بنی اسرائیل کے حالات سے عبرت حاصل کر۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال اپنی بات کو ایک تاریخی مثال سے مضبوط کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تمہارے پیکر میں “جان بصیر” ہے، یعنی ایسا زندہ شعور ہے جو واقعات کے باطن کو دیکھ سکتا ہے، تو بنی اسرائیل کے احوال سے سبق لو۔ یہاں “اسرائیل” سے مراد موجودہ سیاسی ریاست نہیں بلکہ تاریخی بنی اسرائیل یا یہودی قوم ہے جسے اقبال ایک تہذیبی مثال کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کی مراد یہ ہے کہ ایک منتشر اور آزمائش زدہ قوم نے اپنے دینی قانون، اجتماعی حافظے اور روایتی نظم کے ذریعے اپنی شناخت کو صدیوں تک محفوظ رکھا۔ شعر کے مطابق:
جان بصیر کیا ہے:
بصیر جان وہ ہے جو صرف ظاہری واقعات نہ دیکھے بلکہ ان کے اندر کارفرما اصول کو بھی پہچانے۔ بہت سے لوگ تاریخ پڑھتے ہیں مگر اس سے عبرت نہیں لیتے، کیونکہ ان کے پاس خبر تو ہوتی ہے، بصیرت نہیں ہوتی۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنے ماضی اور دوسروں کے احوال کو دیکھ کر اس قانون کو سمجھے جس سے قومیں باقی رہتی ہیں یا مٹ جاتی ہیں۔
گویا بصیرت تاریخ کے واقعات کو عملی حکمت میں بدلنے کا نام ہے۔
احوالِ اسرائیل سے مراد:
اقبال بنی اسرائیل کی تاریخ میں یہ دیکھتے ہیں کہ سخت آزمائشوں، جلا وطنی، انتشار اور کمزوری کے باوجود انہوں نے اپنے مذہبی قانون، اپنی اجتماعی یاد، اپنے خاندانی ربط اور اپنے مخصوص تہذیبی شعور کو مکمل طور پر ضائع نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ منتشر ہونے کے باوجود ان کی قومی ہیئت ایک حد تک باقی رہی۔
اقبال اس مثال سے یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر پہلو میں ان کی پیروی کی جائے، بلکہ یہ کہ ان کی تاریخ میں بقا کے ایک اصول کو پہچانا جائے۔
روایت اور بقا کا ربط:
یہودی قوم کی بقا میں ان کے مذہبی ضابطے، رسوم، تعلیم، خاندانی شعور اور اجتماعی یادداشت نے اہم کردار ادا کیا۔ اقبال اسی نکتے کو ملت اسلامیہ کے سامنے رکھتے ہیں کہ اگر ایک قوم اپنے ضابطے، اپنے قانون اور اپنے اجتماعی حافظے کو تھامے رکھے تو شدید انتشار میں بھی مکمل فنا سے بچ سکتی ہے۔
اس معنی میں تقلید اور ضبط ملت محض علمی بحث نہیں بلکہ تاریخی بقا کا مسئلہ بن جاتے ہیں۔
اقبال کا اصل اشارہ:
اقبال دراصل مسلمان کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ جب دوسری قومیں اپنی اجتماعی ہیئت کے تحفظ کے لیے اتنی ثابت قدم رہ سکتی ہیں تو امت محمدیہ، جس کے پاس قرآن، نبوت اور زندہ شریعت کی نعمت ہے، اسے اپنے ربط کو کیوں کمزور کرنا چاہیے۔ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بے ربط آزادی اکثر فنا کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ منظم وابستگی بقا پیدا کرتی ہے۔
تاریخ کی یہی عبرت اس شعر کا مرکز ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمانوں کے لیے اس شعر کا سبق یہ ہے کہ وہ اپنے اجتماعی حافظے، دینی تعلیم، خاندانی تربیت، فقہی نظم اور تہذیبی شناخت کو معمولی چیز نہ سمجھیں۔ اگر یہ سب کمزور پڑ گئے تو محض جذباتی وابستگی کافی نہیں رہے گی۔ بقا کے لیے منظم ربط، زندہ روایت اور اجتماعی ضبط درکار ہے۔
اقبال تاریخ کو آئینہ بنا کر ہمیں دکھاتے ہیں کہ جس قوم کے اندر بصیرت ہو، وہ دوسروں کے احوال سے اپنی حفاظت کی راہ نکال لیتی ہے۔
مثال
جیسے بکھرے ہوئے دانے اگر کسی مضبوط دھاگے میں پروئے رہیں تو اپنی صورت قائم رکھتے ہیں، ویسے ہی منتشر قومیں بھی زندہ روایت اور اجتماعی نظم کے ذریعے اپنی شناخت بچا سکتی ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ایک اصولی سبق لیتے ہیں: شدید انتشار میں بھی جو قوم اپنے دینی و اجتماعی ربط کو محفوظ رکھے وہ مٹتی نہیں۔ امت کے لیے یہ عبرت ضبط ملت اور زندہ روایت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔