رموز بے خودی

جلوه اش ما را ز ما بیگانه کرد

جلوه اش ما را ز ما بیگانه کرد

ساز ما را از نوا بیگانه کرد

ترجمہ

اس کی چمک دمک نے ہمیں خود ہم سے بیگانہ کر دیا، اور ہمارے اپنے ساز کو اس کی اصل نوا سے محروم کر دیا۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال موجودہ دور کے ظاہری حسن، فریب انگیز جلوے اور تہذیبی مرعوبیت کے اثرات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس دور کے جلوے نے ہمیں “ہم سے” بیگانہ کر دیا، یعنی ہم اپنی اصل پہچان، اپنی روحانی جڑ، اپنے تہذیبی مزاج اور اپنی خودی کے مرکز سے کٹنے لگے۔ پھر وہ مزید کہتے ہیں کہ اس نے “ساز ما” کو بھی “نوا” سے بیگانہ کر دیا۔ گویا ہمارے پاس ساز تو باقی ہے، مگر اس سے وہ اصل دھن، وہ سچا ترنم، وہ زندگی بخش آواز نہیں نکل رہی جو پہلے اس کی پہچان تھی۔ شعر کے مطابق:

جلوه کا مفہوم:

جلوہ یہاں صرف ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ جدید تہذیب کی وہ چمک ہے جو آنکھ کو خیرہ اور دل کو مرعوب کر دیتی ہے۔ اس میں طاقت، علم، صنعت، ظاہری ترقی، معاشی رنگینی، فکری خود اعتمادی اور تہذیبی غلبہ سب شامل ہو سکتے ہیں۔ اقبال ان چیزوں کے مجرد وجود کے منکر نہیں، مگر وہ اس مرعوبیت کے ناقد ہیں جس میں آدمی ان جلووں کو دیکھ کر اپنا اصل مرکز بھول جائے۔

جلوہ جب معیار بن جائے اور حق پس منظر میں چلا جائے تو انسان ظاہری روشنی کے بدلے اندرونی اندھیرا خرید لیتا ہے۔

ز ما بیگانہ ہونا:

خود سے بیگانگی اقبال کے ہاں ایک بڑی تہذیبی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف اپنی تاریخ بھول جائے، بلکہ یہ کہ وہ اپنے باطن کے مرکز، اپنی صلاحیت، اپنے دینی مزاج اور اپنے مقصدی وجود سے دور ہو جائے۔ وہ پھر دوسروں کے آئین سے خود کو ناپنے لگتا ہے، دوسروں کی آنکھ سے اپنی قیمت دیکھتا ہے، اور دوسروں کی زبان میں اپنی زندگی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بیگانگی سب سے پہلے دل میں جنم لیتی ہے، پھر فکر، زبان، تہذیب اور اجتماعی سانچے میں پھیلتی جاتی ہے۔

ساز اور نوا:

اقبال کا “ساز” امت کی فطرت، اس کی تہذیب، اس کی خودی، اس کی اجتماعی ساخت اور اس کے تخلیقی امکانات کی علامت ہے۔ “نوا” اس ساز کی حقیقی آواز ہے، یعنی وہ سچا ترنم جو قرآن، ایمان، عشق، عدل اور خودی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ ساز نوا سے بیگانہ ہو گیا، تو مطلب یہ ہے کہ امت کا وجود باقی ہے مگر اس کی روحانی و تہذیبی آواز مدھم یا غائب ہو گئی ہے۔

ایسا ساز پھر محض نقل، شور، یا بے معنی صوت پیدا کر سکتا ہے، مگر وہ اپنی اصل نوا نہیں نکال سکتا۔

مرعوبیت کا نقصان:

مرعوب قومیں اپنی قوت خود استعمال نہیں کرتیں؛ وہ دوسروں کے سانچوں میں خود کو فٹ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس سے نہ وہ پوری طرح دوسروں جیسی بنتی ہیں، نہ اپنی رہتی ہیں۔ یہی حالت ساز کے نوا سے بیگانہ ہونے کی ہے۔ شکل رہ جاتی ہے، روح جاتی رہتی ہے۔ اقبال اسی اندرونی المیے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اس لیے ان کے نزدیک مسئلہ صرف بیرونی غلبہ نہیں، بلکہ داخلی خود فراموشی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان دنیا میں اپنی ترقی اور بقا کی بحث میں اکثر اس حد تک مرعوب ہو جاتے ہیں کہ اپنے اصل پیمانے ہی بھول بیٹھتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دوسروں کے جلوے کو دیکھنا اور اس سے سیکھنا الگ چیز ہے، مگر اس کے سامنے خود سے بیگانہ ہو جانا تباہ کن ہے۔

امت کو اپنا ساز پھر سے اپنی نوا کے ساتھ جوڑنا ہوگا، اور وہ نوا قرآن، خودی، اور زندہ ایمانی شعور کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔

مثال

جیسے کوئی فنکار دوسروں کی کامیابی سے اتنا مرعوب ہو جائے کہ اپنی اصل آواز ہی کھو بیٹھے، ویسے ہی قومیں بھی اپنی تہذیبی نوا سے بیگانہ ہو سکتی ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ موجودہ دور کی چمک نے امت کو خود اس کی اصل شناخت سے بیگانہ کر دیا اور اس کی تہذیبی ساز کو اس کی سچی نوا سے دور کر دیا۔ علاج یہ ہے کہ امت دوبارہ اپنی اصل قرآنی آواز کو پہچانے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button