رموز بے خودی

بزم اقوام کهن برهم ازو

بزم اقوام کهن برهم ازو

شاخسار زندگی بی نم ازو

ترجمہ

قدیم اقوام کی سجی ہوئی بزم اسی کے باعث بکھر گئی، اور زندگی کی شاخ بھی اسی سے بے نم اور بے رونق ہو گئی۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال اپنے پہلے بیان کو مزید کھولتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس موجودہ فتنہ گر دور نے صرف ایک قوم یا ایک علاقے کو متاثر نہیں کیا، بلکہ قدیم اقوام کی پوری بزم کو درہم برہم کر دیا۔ “بزم” تہذیب، اجتماعی حسن، آداب، روایت، تعلق اور انسانوں کے باہم مربوط رہنے کی علامت ہے۔ پھر دوسری سطر میں وہ بتاتے ہیں کہ اس کے اثر سے “شاخسار زندگی” بے نم ہو گیا، یعنی زندگی کے درخت سے وہ شادابی، وہ رس اور وہ تازگی چھن گئی جو اسے پھلنے پھولنے کے قابل بناتی تھی۔ شعر کے مطابق:

بزمِ اقوامِ کہن:

اقوامِ کہن سے مراد محض بوڑھی قومیں نہیں بلکہ وہ تاریخی تہذیبیں ہیں جن کے پاس کوئی اجتماعی شعور، روایت، وقار، اخلاقی ڈھانچہ اور زندگی کا آزمودہ نظام موجود تھا۔ ان کے اندر خامیاں بھی ہوں گی، مگر ان کے پاس ایک اجتماعی صورت تھی۔ اقبال کہتے ہیں کہ عہدِ حاضر کی بے پروا روح نے ان کے اس نظم کو بھی جھنجھوڑ دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید فتنے محض نئی چیزیں لانے تک محدود نہیں رہے، انہوں نے پرانی تہذیبی بنیادوں کو بھی بے ترتیب کر دیا۔

بزم کا برہم ہونا:

بزم میں ترتیب، آہنگ، آداب اور مناسبت ہوتی ہے۔ جب بزم برہم ہوتی ہے تو چیزیں صرف منتشر نہیں ہوتیں، حسن بھی ضائع ہوتا ہے۔ اقبال اس لفظ کے ذریعے بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانہ صرف سیاسی نقشے نہیں بدلتا، وہ تہذیبی آہنگ کو بھی توڑ دیتا ہے۔

قومیں پھر اپنے معنی کھو بیٹھتی ہیں۔ ان کا ادب، ان کی روایات، ان کی اجتماعی شرم، ان کی غیرت اور ان کے اندرونی ربط کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

شاخسارِ زندگی:

زندگی کو شاخسار کہنا اس کی نمو، پھیلاؤ اور قدرتی تنظیم کی طرف اشارہ ہے۔ شاخسار اس وقت سرسبز رہتا ہے جب اس میں نمی ہو، رس ہو، جڑ سے ربط ہو۔ اگر یہی نمی جاتی رہے تو شاخیں خشک ہو جاتی ہیں، اگرچہ درخت ظاہراً ابھی کھڑا نظر آئے۔

اقبال کے نزدیک عہدِ حاضر کی سب سے بڑی آفت یہی ہے کہ وہ زندگی کی جڑ میں خشکی پیدا کر دیتا ہے۔ شور بہت ہوتا ہے، حرکت بہت ہوتی ہے، مگر اندرونی رس کم ہو جاتا ہے۔

بی نم ہونے کا مطلب:

“بی نم” صرف بے رونقی نہیں بلکہ روحانی و اخلاقی خشکی کی علامت ہے۔ جب زندگی میں خدا کا خوف، تعلق کی لطافت، اخلاق کی نمی، روایت کی حرارت اور اجتماعی مقصد کی تازگی کم ہو جائے تو شاخسار بے نم ہو جاتا ہے۔ اس کے پھول کم، کانٹے زیادہ اور سائے کمزور ہو جاتے ہیں۔

یہی وہ کیفیت ہے جس میں قومیں باہر سے آباد اور اندر سے پژمردہ دکھائی دیتی ہیں۔ اقبال امت کو ایسی زندگی سے خبردار کر رہے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج دنیا میں ترقی، رفتار اور سہولت کے باوجود انسان کی اندرونی خشکی ایک نمایاں مسئلہ ہے۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ اگر تہذیبی ربط، اخلاقی شادابی اور قرآنی نمی نہ ہو تو زندگی کی شاخیں خشک ہونے لگتی ہیں۔ صرف عمارتیں، ادارے اور وسائل زندگی کی اصل نم قائم نہیں رکھ سکتے۔

امت کے لیے علاج یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے شاخسار کو دوبارہ اس سرچشمے سے جوڑے جہاں سے اصل نمی آتی ہے: ایمان، تقویٰ، قرآن اور زندہ اخلاق۔

مثال

جیسے ایک باغ میں آبپاشی بند ہو جائے تو کچھ عرصہ تک درخت کھڑے رہتے ہیں، مگر رفتہ رفتہ ان کی تازگی اور پھل دونوں ختم ہو جاتے ہیں، ویسے ہی تہذیبیں بھی نمیِ روح کے بغیر خشک ہونے لگتی ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ عہدِ حاضر نے قدیم اقوام کے تہذیبی نظم کو بھی درہم برہم کر دیا اور زندگی کی شاخوں سے شادابی چھین لی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ دور کا بحران صرف ظاہری نہیں بلکہ روحانی و تہذیبی بھی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button