رموز بے خودی

نسخه ئی بهر شهنشاهان نوشت

نسخه ئی بهر شهنشاهان نوشت

در گل ما دانه ی پیکار کشت

ترجمہ

اس نے بادشاہوں کے لیے ایک نسخہ لکھا، اور ہمارے گلشن میں لڑائی کا بیج بو دیا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں اس فکر کے عملی اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں جس کا ذکر پچھلے شعر میں آیا تھا۔ اب بات کسی شخص کے تعارف سے آگے بڑھ کر اس کے کام تک پہنچتی ہے۔ اس نے حکمرانوں کے لیے ایک ایسا سیاسی نسخہ تیار کیا جو اقتدار کی حفاظت، مخالف کو زیر کرنے، چالاکی سے کام لینے، اور مصلحت کو اخلاق پر مقدم رکھنے کی تعلیم دیتا تھا۔ اقبال کے نزدیک یہی نسخہ انسانی باغ میں پیکار کے بیج بونے والا بنا۔ شعر کے مطابق:

نسخه ئی:

نسخہ عام طور پر علاج کے لیے ہوتا ہے، یعنی کسی مرض کا شفا بخش طریقہ۔ مگر اقبال یہاں طنزاً یہ لفظ لاتے ہیں۔ بظاہر یہ حکمرانوں کے لیے رہنمائی تھی، مگر حقیقت میں اس نے بیماری بڑھائی۔ یہ ایسی سیاست تھی جو اجتماعی صحت کے بجائے اقتدار کی بقا کو اصل علاج سمجھتی تھی۔ گویا مرض انسانیت کا تھا اور دوا طاقت کو بنا دیا گیا۔

غلط تشخیص سے لکھا گیا نسخہ دوا کے لباس میں زہر بھی بن سکتا ہے۔

بهر شهنشاهان:

یہ نسخہ عام انسان کے لیے نہیں، بادشاہوں اور اہلِ اقتدار کے لیے تھا۔ اقبال اس سے ایک اہم نکتہ نکالتے ہیں کہ جب سیاست کی زبان اقتدار کے گرد بنائی جائے تو اس کا محور عوامی خیر، انسانی حرمت یا عدل نہیں رہتا۔ حکمران کو مرکز بنا دینے سے سارا نظام بالا سے نیچے کی طرف طاقت کے منطقے میں ڈھلنے لگتا ہے۔

جس فکری دستور کا پہلا مخاطب اقتدار ہو، اس میں انسان اکثر بعد میں یاد آتا ہے۔

در گل ما:

گلشن سے مراد انسانی آبادی، تہذیب، معاشرہ اور اجتماعی زندگی ہے۔ اقبال “ما” کہہ کر یہ واضح کرتے ہیں کہ ایک خطے کی سیاسی فکر باقی دنیا تک سرایت کر سکتی ہے۔ یہ صرف مغرب کی اندرونی کتاب نہ رہی، بلکہ اس کے اثرات پوری انسانیت کے باغ تک پہنچے۔ قوموں، ریاستوں اور حکمرانوں نے اس منطق کو اپنایا اور یوں باغ کی فضا بدلنے لگی۔

فکر اگر اثر رکھتی ہو تو وہ سرحدوں سے پہلے ذہنوں میں سفر کرتی ہے۔

دانه ی پیکار کشت:

بیج چھوٹا ہوتا ہے مگر اس سے پورا درخت نکل آتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس نسخے نے پیکار کا بیج بویا، یعنی ایسی ذہنیت پیدا کی جس میں اعتماد کی جگہ شک، اخوت کی جگہ رقابت، اور اصول کی جگہ مصلحت نے لے لی۔ جب حکمران یہ سیکھ جائیں کہ مقصد صرف بقا اور غلبہ ہے تو لازماً معاشرے میں لڑائی کی جڑیں گہری ہونے لگتی ہیں۔

بعض جنگیں میدان میں نہیں، نظریے کے بیج میں شروع ہو جاتی ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دنیا میں بہت سی سیاسی تدابیر اسی منطق پر چلتی ہیں کہ اقتدار بچا رہے تو ہر چال درست ہے۔ اقبال ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ ایسی تدبیریں وقتی کامیابی دے سکتی ہیں، مگر وہ معاشرے میں پیکار کے بیج بو دیتی ہیں۔ جو سیاست سچائی، امانت اور عدل کے بغیر چلتی ہے، وہ جلد یا بدیر اپنے ماحول کو بدگمانی، خوف اور کشمکش سے بھر دیتی ہے۔

اسلامی خودی ایسی سیاست چاہتی ہے جو گلشن کو آباد کرے، نہ کہ اپنے فائدے کے لیے اس میں پیکار کی کاشت کرے۔

مثال

اگر کسی حکومت کو یہ مشورہ دیا جائے کہ اقتدار بچانے کے لیے قوم کو مستقل خوف، تقسیم یا بیرونی دشمنی کے بیانیے میں رکھا جائے، تو یہ عین وہی دانه ی پیکار ہے جس کا اقبال ذکر کر رہے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق حکمرانوں کے لیے لکھی گئی اس سیاسی فکر نے انسانی معاشرے میں کشمکش کا بیج بو دیا۔ اس نے علاج کے نام پر اقتدار کی منطق دی، مگر انجام کار گلشنِ انسانیت کو پیکار کی طرف دھکیلا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button