رموز بے خودی

از خطیب و دیلمی گفتار او

از خطیب و دیلمی گفتار او

با ضعیف و شاذ و مرسل کار او

ترجمہ

اس کی گفتگو ایسی روایتوں اور حوالوں سے بنی ہے، اور اس کا سارا معاملہ ضعیف، شاذ اور مرسل اقوال کے ساتھ چلتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال ایک اور مذہبی انحراف کی نشاندہی کرتے ہیں: ایسا واعظ یا مذہبی متکلم جو اصل قرآنی بصیرت اور مضبوط سنتی بنیاد کے بجائے کمزور، غیر معتبر یا حاشیائی روایات، قصوں اور بے بنیاد استدلال پر دین کی عمارت کھڑی کرتا ہے۔ “خطیب و دیلمی” سے اقبال ایسے روایتی مآخذ اور منبری ذخیرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہیں لوگ محض نقل کی کثرت یا سماعی شہرت کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ “ضعیف و شاذ و مرسل” جیسی کمزور یا غیر مضبوط نوعیت کی چیزیں شامل ہو جاتی ہیں۔ شعر کے مطابق:

گفتار کا ماخذ:

اقبال کے نزدیک دین کا کلام اس مرکز سے نکلنا چاہیے جو روشن، مضبوط اور حیات بخش ہو: قرآن، صحیح سنت، اور ان سے پیدا ہونے والی بیدار فہم۔ لیکن جب گفتار ایسے ذخائر پر زیادہ تکیہ کرنے لگے جو اصل معیار سے دور ہوں، تو پھر دین کی گفتگو میں وزن کم اور التباس زیادہ ہو جاتا ہے۔

اس سے سامعین کے سامنے ایک ایسی مذہبی دنیا بنتی ہے جس میں جذبات تو بہت ہوتے ہیں، مگر ترتیب، صحت اور قرآنی مرکزیت کم رہ جاتی ہے۔

ضعیف، شاذ اور مرسل:

یہ الفاظ محض فنی اصطلاحیں نہیں، بلکہ ایک بڑے فکری مسئلے کی علامت ہیں۔ جب کمزور یا غیر مرکزی چیزیں اصل پیغام کی جگہ لے لیں تو دین کے اندر میزان بگڑ جاتا ہے۔ کمزور روایت کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کی نسبت محلِ نظر ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے دین کا ذوق، اخلاق اور شعور بے جا سمت اختیار کر سکتا ہے۔

اقبال اس تنقید کے ذریعے ہمیں بتاتے ہیں کہ امت کی فکری و روحانی تعمیر افسانوی یا کمزور مواد پر نہیں کھڑی کی جا سکتی۔ اسے مضبوط بنیاد چاہیے۔

اصل اور حاشیہ:

دین کی دنیا میں اصل اور حاشیہ دونوں ہوتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حاشیہ اصل بن جائے اور اصل پس منظر میں چلا جائے۔ اگر قرآن کی بڑی، واضح، بنیادی اور زندگی ساز تعلیمات کمزور قصوں، نادر روایات، یا عجب و غریب منقولات کے نیچے دب جائیں تو امت کا ذہن اصل مرکز کھو بیٹھتا ہے۔

اقبال اسی الٹ پھیر پر افسوس کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کمزور و شاذ مواد کا شوق بسا اوقات اس لیے بھی بڑھتا ہے کہ وہ سننے میں زیادہ دلچسپ ہوتا ہے، مگر دلچسپی ہدایت کے برابر نہیں ہوتی۔

فکری صحت کا سوال:

یہ شعر دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے دینی شعور کی غذائیت کو جانچیں۔ کیا ہماری محفلیں، خطابتیں، دروس اور دعوتیں قرآن کی محکم تعلیم پر قائم ہیں؟ یا ہم کمزور مواد سے ایسی مذہبی فضا بنا رہے ہیں جو بظاہر پُرجوش مگر اندر سے کمزور ہے؟

اقبال کے نزدیک امت کے احیا کے لیے دینی علم کی صحت بنیادی شرط ہے۔ کمزور مواد کمزور کردار پیدا کرتا ہے، جبکہ محکم بنیادیں محکم ملت پیدا کرتی ہیں۔

امت کے لیے پیغام:

امت اگر اپنے مذہبی شعور کو کمزور روایات اور مبالغہ آمیز مواد پر قائم رکھے گی تو اس کی عملی دنیا بھی غیر متوازن ہو جائے گی۔ پھر دین کا مرکز اخلاق، عدل، توحید اور قرآن کے بجائے حیران کن حکایات، بے بنیاد توقعات، یا سطحی ہیجان بن جاتا ہے۔

اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے دینی فہم کو اصل ماخذ کی طرف لوٹائیں اور صحتِ علم کو غیر ضروری اور کمزور نقل پر ترجیح دیں۔

آج کے لیے سبق:

آج سوشل میڈیا، کلپس، زبانی دین اور جلد پھیلنے والے اقتباسات کے دور میں یہ مسئلہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ لوگ وہی بات زیادہ سننا پسند کرتے ہیں جو عجیب ہو، جذباتی ہو، یا چونکا دے۔ اقبال کا شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین کی تعمیر حیرت پر نہیں، صحت و صداقت پر ہونی چاہیے۔

اگر امت کو سنجیدہ اور پائیدار احیا چاہیے تو اسے کمزور مواد کے سہارے نہیں بلکہ قرآن اور مضبوط علمی دیانت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

مثال

جیسے ایک عمارت اگر کمزور اینٹوں اور ناقص مسالے سے بنے تو کچھ دیر کھڑی رہ کر بھی گر سکتی ہے، ویسے ہی کمزور علمی مواد پر کھڑی دینی شعور کی عمارت دیرپا نہیں ہوتی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں اس دینی گفتگو پر تنقید کرتے ہیں جو کمزور، شاذ یا غیر مضبوط مواد پر کھڑی ہو۔ امت کی فکری صحت اور احیا کے لیے ضروری ہے کہ اس کی گفتار قرآن اور محکم علمی بنیاد سے جڑی ہو۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button