هر چه هست از زندگی سرمایه دار
هر چه هست از زندگی سرمایه دار
میرد اندر عنصر ناسازگار
ترجمہ
جو کچھ بھی زندگی کی پونجی اور سرمایہ رکھتا ہے، وہ ناموافق عنصر اور ناسازگار ماحول میں مر جاتا ہے۔
تشریح
یہ شعر اقبال کے اجتماعی فلسفے کا نہایت اہم اصول بیان کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر وہ چیز جس میں زندگی کا سرمایہ موجود ہو، اگر ناسازگار عنصر میں پہنچ جائے تو مر جاتی ہے۔ بظاہر بات فطری اور سادہ معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے اندر بہت بڑا تہذیبی، اخلاقی اور روحانی نکتہ پوشیدہ ہے۔ زندگی صرف جسمانی حیات کا نام نہیں؛ ایمان، خودی، محبت، غیرت، حیا، علم، فن، اور ملت کا اجتماعی مزاج بھی زندگی رکھتے ہیں۔ اگر ان سب کو ایسے ماحول میں ڈال دیا جائے جو ان کی فطرت کے خلاف ہو تو وہ آہستہ آہستہ مرجھا جاتے ہیں۔
پچھلے اشعار میں بوستان، شاخ، صفیر اور اجتماعی آہنگ کی بات ہوئی تھی۔ اب اقبال اس کی علت واضح کرتے ہیں: اس لیے کہ زندہ چیز ناسازگار عنصر میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ مسلمان کی روح اگر ایسے ماحول میں پلنے لگے جہاں رحمت کے بجائے سنگ دلی ہو، حیا کے بجائے بے پردگی ہو، صدق کے بجائے مصلحت ہو، اور نسبتِ محمدی کے بجائے نفسانی مرکزیت ہو، تو اس کی روحانی زندگی کمزور پڑ جائے گی۔ اقبال کا کلام اسی خطرے کے خلاف تنبیہ ہے۔
عنصر اور ماحول:
“عنصر” سے مراد صرف مادی فضا نہیں بلکہ وہ مجموعی ماحول بھی ہے جس میں انسان جیتا ہے۔ اس میں گھر، صحبت، تہذیب، تعلیم، معاشرت، فکری فضا، اور وہ اخلاقی معیار سب شامل ہیں جو انسان کے باطن کو شکل دیتے ہیں۔ ہر زندگی ایک خاص موافق فضا مانگتی ہے۔ مچھلی پانی میں زندہ رہتی ہے، خشکی پر نہیں۔ بیج مناسب مٹی، ہوا اور نمی چاہتا ہے۔ اسی طرح ایمان اور نبوی اخلاق بھی ایک خاص فضا چاہتے ہیں۔
اقبال کا مدعا یہ ہے کہ اگر ہم اپنے اندر زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے ماحول کے بارے میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ محض نیت کافی نہیں؛ فضا بھی اہم ہے۔ جو ماحول بار بار نفس کو ابھارے، سچائی کو کمزور کرے، اور نسبتِ امت کو بے معنی بنائے، وہ آہستہ آہستہ زندگی کا سرمایہ کھا جاتا ہے۔
ناسازگاری کی پہچان:
ہر چمکتی ہوئی چیز موافق نہیں ہوتی۔ بعض ماحول ظاہراً دل کش ہوتے ہیں مگر باطناً روح کے لیے ناسازگار۔ وہ انسان کو وقتی لذت، آسان شہرت یا آزاد محسوس ہونے کا دھوکا دیتے ہیں، مگر اس کے اندر کی سنجیدگی، حیا، وفا اور معنویت کم کرتے جاتے ہیں۔ اقبال اسی خطرے کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ محض یہ نہیں کہتے کہ زندہ رہو؛ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اپنی زندگی کو ناسازگار عنصر سے بچاؤ۔
یہ ناسازگاری بعض اوقات ظاہر میں بہت معمولی ہوتی ہے۔ بری صحبت، بے مقصد مصروفیت، ایسے خیالات جو روح کو مسلسل شک میں رکھیں مگر کوئی تعمیر نہ دیں، ایسا اظہار جو خودنمائی بڑھائے مگر خدمت نہ سکھائے، یہ سب عناصر ناسازگار بن سکتے ہیں۔ زندگی فوراً نہیں مرتی، مگر آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔
زندگی کا سرمایہ کیا ہے:
“سرمایہ دار” یہاں دولت مند کے معنی میں نہیں بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے پاس زندگی کی پونجی موجود ہے۔ مسلمان کے پاس سب سے بڑی پونجی اس کا ایمان، اس کی نسبت، اس کی اخلاقی قوت، اس کی جمعی زندگی، اور اس کا مقصد ہے۔ اگر یہ سرمایہ محفوظ رہے تو وہ کم وسائل کے باوجود بھی باحیات رہ سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی سرمایہ ناسازگار عنصر میں ضائع ہو جائے تو پھر ظاہری ترقی بھی اندر کے زوال کو نہیں چھپا سکتی۔
اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل حفاظت باہر کی نہیں، اس سرمایۂ حیات کی کرنی ہے۔ نوجوانی، ذہانت، زبان، فن، آزادی، سب اچھی چیزیں ہیں، مگر اگر وہ زندگی کی اصل پونجی سے کٹ جائیں تو خود نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں ماحول پہلے سے کہیں زیادہ طاقت ور ہو گیا ہے۔ انسان صرف اپنے محلے یا مجلس سے نہیں، بلکہ اسکرین، میڈیا، مسلسل پیغامات اور عالمی تہذیبی لہروں سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے “عنصر ناسازگار” کا سوال اور زیادہ اہم ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی روح کو کس فضا میں رکھ رہے ہیں۔ کیا وہ فضا ہمارے ایمان، ہماری حیا، ہماری سچائی اور ہماری نسبت کو تقویت دے رہی ہے یا آہستہ آہستہ کھا رہی ہے؟
یہ شعر ہمیں منفی خوف نہیں بلکہ مثبت حکمت دیتا ہے۔ ایسا ماحول اختیار کرو جو زندگی کے سرمایہ کو بڑھائے: اچھی صحبت، معنی خیز علم، رحمت آشنا عمل، باوقار اظہار، اور ایسا اجتماعی تعلق جو روح کو زندہ رکھے۔ اگر ہم یہ اصول سمجھ لیں تو بہت سی تہذیبی اور شخصی الجھنوں کا حل سامنے آ سکتا ہے۔
مثال
جیسے ایک تازہ پودا زرخیز مٹی میں بڑھتا ہے مگر شوریدہ زمین میں سوکھ جاتا ہے، ویسے ہی ایمان اور اخلاق کی زندگی موافق فضا میں پھلتی ہے اور ناسازگار ماحول میں کمزور پڑ جاتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں سمجھاتے ہیں کہ ہر زندہ حقیقت کو اپنی فطرت کے موافق عنصر چاہیے۔ مسلمان کی روحانی اور اخلاقی زندگی بھی ناسازگار ماحول میں مرجھا جاتی ہے، اس لیے اپنے سرمایۂ حیات کی حفاظت ضروری ہے۔