رموز بے خودی

زانکه ما را فطرت ابراهیمی است

زانکه ما را فطرت ابراهیمی است

هم به مولا نسبت ابراهیمی است

ترجمہ

اس لیے کہ ہماری سرشت ابراہیمی ہے، اور ہمارے مولا سے بھی ہماری نسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے طریق پر قائم ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ملتِ اسلامیہ کی اصل شناخت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمان محض ایک تاریخی جماعت نہیں بلکہ ایک ایسی امت ہے جس کی فطرت ہی توحید، قربانی، ہجرت، جرأت اور باطل شکنی سے بنی ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ “ما را فطرت ابراہیمی است” تو مراد یہ ہے کہ ملت کا باطنی مزاج بت شکنی سے آشنا، آگ میں اترنے سے بے خوف، اور ایک خدا کے سامنے مکمل سپردگی کے لیے تیار ہے۔ پھر دوسری سطر میں وہ اس نسبت کو اور گہرا کرتے ہیں کہ ہمارے مولا سے بھی ہمارا رشتہ ابراہیمی ہے، یعنی ہماری دینی اساس محض قومی روایت نہیں بلکہ اس الٰہی عہد سے جڑی ہوئی ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے تاریخ میں روشن ہوا۔ شعر کے مطابق:

فطرتِ ابراہیمی:

ابراہیمی فطرت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے باطن میں بھی وہی روحانی سانچہ زندہ ہونا چاہیے جو ہر دور کے باطل سے ٹکرا سکے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں، چاند، سورج اور بتوں کی پرستش کے ماحول میں حق کی آواز بلند کی۔ اس لیے ابراہیمی فطرت وہ ہے جو رائج باطل کو محض اس لیے قبول نہیں کرتی کہ وہ عام ہے، بلکہ دلائل، بصیرت اور توحیدی یقین سے اسے چیلنج کرتی ہے۔

اقبال ملت کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر وہ واقعی ابراہیمی ہے تو اسے راحت پرستی، تقلیدِ جامد اور مصلحت زدگی سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ ابراہیمی سرشت کا تقاضا ہے کہ انسان حق کے لیے تنہا کھڑا ہونے کی ہمت رکھے۔

مولا سے نسبت:

“ہم به مولا نسبت ابراهیمی است” میں مولا سے مراد وہ رب ہے جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا، ان کے اخلاص کو قبول کیا اور ان کی نسل میں توحید کے چراغ روشن کیے۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ مسلمان کی نسبت محض نسبی یا تاریخی نہیں بلکہ ربانی ہے۔ اس کا اصل حوالہ کوئی زمین، زبان یا نسل نہیں، بلکہ وہ عہد ہے جو بندے کو خدا سے وابستہ کرتا ہے۔

یہی نسبت امت کو وقار دیتی ہے۔ جب انسان کا تعلق براہ راست مولا سے جڑ جائے تو وہ دنیاوی طاقتوں کے سامنے غلام نہیں بنتا۔ ابراہیمی نسبت دراصل آزادی کی نسبت ہے، کیونکہ جو خدا کا ہو جائے وہ باطل کے جبر سے نکل آتا ہے۔

ابراہیمی روش کے عناصر:

اقبال کے نزدیک ابراہیمی روش میں کئی بڑے اوصاف جمع ہیں: توحید پر کامل یقین، قربانی کے لیے آمادگی، ہجرت کی قوت، آزمائش میں استقامت، اور تعمیرِ کعبہ کی طرح اجتماعی مرکز سازی۔ یہ سب ملتِ اسلامیہ کے مزاج کا حصہ ہونے چاہییں۔ اگر امت کے اندر یہ اوصاف زندہ ہوں تو وہ ہر دور میں نئی زندگی پیدا کر سکتی ہے۔

یہ شعر اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مسلمان کا اصل سرمایہ اس کی فکری اور روحانی نسبت ہے۔ اگر یہ نسبت کمزور ہو جائے تو پھر ظاہری کثرت، ماضی کا فخر یا سیاسی نعرے کچھ زیادہ کام نہیں آتے۔

باطل شکنی اور خودی:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری داستان بتاتی ہے کہ خودی کی تکمیل خدا سے وفاداری میں ہے، نہ کہ ماحول کی خوشنودی میں۔ اقبال جب ابراہیمی فطرت کا ذکر کرتے ہیں تو دراصل امت کی خودی کو جگا رہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے اندر ایسا شعور پیدا کرے جو اسے ہر جھوٹے مرکز، ہر فاسد نظام اور ہر نمرودی دعوے کے مقابل لا کھڑا کرے۔

اس لیے یہ شعر صرف ایک تعارف نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو ابراہیمی کہتے ہیں تو ہمیں اپنے اعمال، ترجیحات اور اجتماعی مزاج میں بھی ابراہیمی نشانیاں پیدا کرنی ہوں گی۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کو سب سے زیادہ اسی یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ اس کی اصل قوت ابراہیمی نسبت میں ہے۔ جب مسلمان اپنی دینی شناخت کو محض رسوم، ظاہری وابستگی یا تاریخی یادگار تک محدود کر دیتا ہے تو اس کی روح کمزور ہو جاتی ہے۔ مگر جب وہ ابراہیمی فطرت کے تقاضے سمجھتا ہے تو اس کے اندر حق گوئی، قربانی، غیرت اور ربانی اعتماد دوبارہ زندہ ہونے لگتا ہے۔

اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے ماضی پر صرف فخر نہ کرے بلکہ اس زندہ نسبت کو اپنے حال میں منتقل کرے۔ یہی نسبت اسے آزمائش میں ثابت قدم اور تعمیر میں خلاق بناتی ہے۔

مثال

جیسے کوئی درخت اپنی اصل جڑ سے کٹا ہو تو ہرا نہیں رہ سکتا، ویسے ہی ملت اگر اپنی ابراہیمی جڑ سے دور ہو جائے تو اس کی روحانی تازگی ختم ہونے لگتی ہے۔ لیکن جب وہ اسی اصل نسبت سے جڑتی ہے تو اس میں پھر سے زندگی دوڑنے لگتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ ملتِ اسلامیہ کی سرشت ہی ابراہیمی ہے اور اس کا اپنے مولا سے تعلق بھی اسی توحیدی روایت میں قائم ہے۔ اس لیے مسلمان کی اصل پہچان جرأت، قربانی، حق گوئی اور ربانی وابستگی میں ہے، نہ کہ محض تاریخی نام میں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button