این گهر از بحر بی پایان اوست
این گهر از بحر بی پایان اوست
ما که یک جانیم از احسان اوست
ترجمہ
یہ گوہر اسی کے بے پایاں سمندر سے آیا ہے، اور ہمارا ایک جان ہو جانا بھی اسی کے احسان سے ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امت کی وحدت، اس کے دینی سرمایہ اور اس کی باطنی قدر کو ایک گوہر سے تعبیر کرتے ہیں، اور بتاتے ہیں کہ یہ سب نبوی بحرِ بے پایاں سے نکلا ہے۔ نہ صرف ہمارے پاس موجود خزانہ اسی سے ہے، بلکہ ہمارا ایک جان ہونا بھی اسی کی عطا ہے۔ شعر کے مطابق:
گوہر کی تعبیر:
گوہر قیمتی چیز کو کہتے ہیں، مگر وہ سطح پر نہیں ملتا؛ اسے گہرائی سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کی وحدت، اس کا دین، اس کی تہذیبی روح اور اس کی باطنی روشنی سب ایک گوہر ہیں۔ یہ معمولی سرمایہ نہیں، بلکہ وہ قیمتی حقیقت ہے جس کے بغیر امت کی شناخت ادھوری رہتی ہے۔
گوہر کا ذکر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نبوی نسبت سے ملا ہوا سرمایہ صرف مفید نہیں، نہایت قیمتی بھی ہے۔
بحرِ بے پایاں کیوں:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو بحرِ بے پایاں کہنا اقبال کے اس احساس کی علامت ہے کہ نبوی فیضان محدود، وقتی یا یک رخی نہیں۔ اس میں علم بھی ہے، حکمت بھی، اخلاق بھی، وحدت بھی، عدل بھی، عبادت بھی، تہذیب بھی۔ جو کچھ امت کے پاس حقیقی سرمایہ ہے، وہ اسی بحر سے نکلتا ہے۔
اس بحر کا بے پایاں ہونا یہ بھی بتاتا ہے کہ اس سے فیض لینے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔
ایک جان ہونا:
امت کا ایک جان ہونا اقبال کے نزدیک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کا مطلب صرف سیاسی اتحاد نہیں، بلکہ دلوں کے درمیان ایسا ربط ہے جو ایک مشترک روح، ایک مشترک غیرت اور ایک مشترک مقصد پیدا کرے۔ شاعر واضح کرتا ہے کہ یہ حالت انسانوں کی خود ساختہ چالاکی سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ نبوی احسان سے پیدا ہوئی ہے۔
یعنی امت کی وحدت کمائی ہوئی بھی ہے اور عطا بھی؛ مگر اس عطا کا سرچشمہ رسالت ہے۔
احسان کا مفہوم:
احسان عطا کا وہ رنگ ہے جس میں فضل، کرم اور حسن شامل ہوتا ہے۔ اقبال یہاں امت کو متکبر نہیں بناتے کہ گویا اس نے اپنی وحدت خود بنا لی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر تم ایک جان ہو سکے، اگر تمہارے پاس یہ گوہر آیا، تو یہ اس رسول کے احسان سے آیا جس نے تمہیں بکھرے ہوئے حال سے نکال کر ایک معنی بخش وجود دیا۔
یہ احساس شکر امت کے اندر تواضع اور وفاداری دونوں پیدا کرتا ہے۔
آج کا سبق:
آج امت اپنے بہت سے قیمتی گوہر سستے میں گنوا دیتی ہے، کیونکہ اسے ان کی قیمت کا احساس کم ہو گیا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ وحدت، نبوی نسبت، اور ایک جان ہونے کی کیفیت کوئی معمولی چیز نہیں۔ اگر یہ احساس واپس آ جائے تو امت اپنے سرمایہ کو زیادہ عزت سے سنبھالے گی اور اسے پھر سے زندگی کا مرکز بنائے گی۔
بحر ابھی موجود ہے، سوال صرف یہ ہے کہ ہم پھر اس کی گہرائی تک اترنا چاہتے ہیں یا نہیں۔
مثال
کبھی کسی خاندان کو ایک بزرگ کی محنت، اخلاق اور دعا سے ایسی میراث ملتی ہے جو نسلوں کو جوڑے رکھتی ہے۔ اگر بعد کی نسلیں اس کی قدر نہ کریں تو خزانہ ہوتے ہوئے بھی بکھر جاتی ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امت کی وحدت اور اس کا قیمتی روحانی سرمایہ نبوی بحرِ بے پایاں سے نکلا ہوا گوہر ہے۔ ہمارا ایک جان ہونا بھی اسی رسول کے احسان کا ثمر ہے، اس لیے اس نعمت کی حفاظت شکر اور وفاداری دونوں مانگتی ہے۔

