رموز بے خودی

تو مگر از چرخ کج رفتار پرس

تو مگر از چرخ کج رفتار پرس

زان نو آئین کہن پندار پرس

ترجمہ

اگر پوچھنا ہی ہے تو اس ٹیڑھی چال چلنے والے آسمان سے پوچھ، اور اس نئے مگر اپنے آپ کو پرانا سمجھنے والے آئین سے پوچھ۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں تاریخ کے سانحے کے اسباب پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ صرف مرثیہ نہیں کہتے بلکہ سوال اٹھاتے ہیں: اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ یہ کیا ہوا، تو زمانے کی کجی سے بھی پوچھو اور اس نئے مگر خود فریب آئین سے بھی پوچھو جو اپنے آپ کو قدیم سچائی کا وارث سمجھتا ہے۔ اس شعر میں اقبال خارجی تقدیر، تاریخی ماحول اور انسانوں کے بنائے ہوئے فکری یا تہذیبی نظام، دونوں کو کٹہرے میں لاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

چرخِ کج رفتار:

“چرخ” فارسی شاعری میں زمانہ، گردشِ ایام اور تقدیری حالات کی علامت ہے۔ “کج رفتار” کہہ کر اقبال اس زمانے کی بے رحمی، ناانصافی نما صورت اور پیچیدہ حرکت کو دکھاتے ہیں۔ بسا اوقات تاریخ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی؛ وہ غیر متوقع موڑ لاتی ہے، بڑی سلطنتوں کو گرا دیتی ہے اور حقیر نظر آنے والی قوتوں کو اٹھا دیتی ہے۔

اقبال اس لفظ سے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تاریخ کے میدان میں صرف ظاہری اخلاقی منطق کام نہیں کرتی۔ وہاں آزمائش، پیچیدگی، الٹ پھیر اور سخت گردش بھی ہوتی ہے۔ مگر وہ یہیں نہیں رکتے؛ وہ ساتھ ہی انسانی ذمہ داری کا دروازہ بھی کھولتے ہیں۔

نو آئین کہن پندار:

یہ ترکیب نہایت گہری ہے۔ “نو آئین” سے مراد ایسا نیا نظام، نئی روش یا نئی قوت ہو سکتی ہے جو تاریخ میں تازہ ظہور پذیر ہوئی ہو، مگر “کهن پندار” یعنی اپنے آپ کو قدیم جواز، دیرینہ حق یا مستقل سچائی سمجھتی ہو۔ اقبال کے نزدیک بہت سے فتنے یہی کرتے ہیں: وہ نئے ہوتے ہیں مگر خود کو اصل قرار دیتے ہیں؛ وہ حادثاتی ہوتے ہیں مگر اپنے آپ کو مقدر سمجھنے لگتے ہیں۔

اس میں ایک تہذیبی فریب کی نشاندہی ہے۔ باطل صرف طاقت سے نہیں آتا، وہ اکثر نظریہ، روایت کا دعویٰ، اور جھوٹے جواز کے لباس میں بھی آتا ہے۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ اگر پوچھنا ہے تو اس آئین سے پوچھو جو نیا ہے مگر اپنے بارے میں پرانی حقانیت کا فریب رکھتا ہے۔

سوال اٹھانے کی دعوت:

یہ شعر امت کو محض رونے یا جذباتی ردعمل تک محدود نہیں رکھتا۔ وہ اسے تحقیق، تجزیہ اور اسباب کی جستجو سکھاتا ہے۔ کیوں زوال آیا؟ کیوں فتنہ ابھرا؟ کیوں نیا باطل پرانی حقیقت کے روپ میں آیا؟ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم تاریخ کو فقط حادثات کا مجموعہ نہ سمجھیں بلکہ اس کے فکری و تہذیبی پس منظر کو پڑھیں۔

اس سوال کی عادت ہی امت کو بالغ بناتی ہے۔ جو قوم سوال نہیں کرتی، وہ بار بار ایک ہی فریب میں گرفتار ہوتی ہے۔

تقدیر اور تہذیب دونوں:

شعر کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں دو سطحیں جمع ہیں: ایک “چرخ” یعنی تاریخ و تقدیر، دوسری “آئین” یعنی انسانوں کا بنایا ہوا نظام۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے سانحات کو صرف آسمان کے کھاتے میں ڈال دینا بھی غلط ہے، اور صرف انسانوں کی تدبیر سے سمجھ لینا بھی ناکافی ہے۔ حقیقت ان دونوں کے پیچیدہ تعامل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

اقبال اسی لیے ایسے الفاظ چنتے ہیں جو قاری کو سادہ جواب سے مطمئن نہ ہونے دیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی امت کے سامنے کئی “نو آئین” موجود ہیں: نئے فکری سانچے، نئے سیاسی دعوے، نئے تہذیبی بیانیے، جو بسا اوقات اپنے آپ کو فطری، ناگزیر یا دائمی سچائی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اقبال کا شعر ہمیں ان سب سے سوال کرنے، ان کی اصل کو سمجھنے اور زمانے کی کج روی کے ساتھ ان کے تعلق کو پرکھنے کی دعوت دیتا ہے۔

اگر ہم ہر نئے نظام کو محض ترقی سمجھ کر قبول کر لیں، یا ہر آزمائش کو محض قسمت کہہ کر چھوڑ دیں، تو ہم فہمِ تاریخ سے محروم رہیں گے۔

مثال

جیسے کوئی نیا نظریہ اپنے آپ کو انسانی فطرت کا آخری اور ابدی جواب قرار دے، حالانکہ وہ محض اپنے زمانے کا پیدا کردہ سانچہ ہو، ویسے ہی اقبال کے “نو آئین کہن پندار” میں وہ فریب شامل ہے جو نئے کو قدیم حق کے لباس میں پیش کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں سانحے کے اسباب پر غور کی دعوت دیتے ہیں: زمانے کی کجی کو بھی دیکھو اور اس نئے مگر خود فریب آئین کو بھی جو اپنے آپ کو قدیم حق سمجھتا ہے۔ یہ شعر امت کو تاریخی بصیرت، فکری تحقیق اور تہذیبی بیداری کی طرف بلاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button