رموز بے خودی

فرد بر می خیزد از مشت گلی

فرد بر می خیزد از مشت گلی

قوم زاید از دل صاحب دلی

ترجمہ

فرد ایک مٹی کی مٹھی سے اٹھتا ہے، مگر قوم کسی صاحب دل کے دل سے جنم لیتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور قوم کی پیدائش کے درمیان ایک نہایت بنیادی فرق واضح کرتے ہیں۔ فرد کی تخلیق جسمانی ہے: وہ مٹی، خون، جسم، عمر اور حالات کے دائرے میں آتا ہے۔ مگر قوم کی پیدائش صرف جسموں کے اکٹھے ہو جانے سے نہیں ہوتی۔ قوم تب پیدا ہوتی ہے جب کسی صاحب دل کے سینے میں ایک زندہ مقصد، ایک اخلاقی بصیرت اور ایک ایسا شعلہ بیدار ہو جو دوسروں کے دلوں میں بھی اتر جائے۔ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ انسانی ہجوم خود بخود قوم نہیں بنتا؛ قوم کسی زندہ باطن، کسی سچے درد، کسی بڑے نصب العین اور کسی صاحب دل قیادت سے پیدا ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:

مشت گلی کا مفہوم:

“مشت گلی” سے مراد انسان کا وہ مادی وجود ہے جو خاک سے وابستہ ہے۔ فرد کی ابتدا اسی خاکی حقیقت سے ہوتی ہے۔ اس کا جسم بنتا ہے، وہ بڑھتا ہے، جوان ہوتا ہے، بوڑھا ہوتا ہے اور آخرکار مٹی میں لوٹ جاتا ہے۔ اقبال اس سچائی سے انکار نہیں کرتے۔ وہ یہ مانتے ہیں کہ فرد کی ایک فطری، جسمانی اور محدود پیدائش ہے۔

لیکن اسی کے ساتھ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ہم قوم کو بھی صرف اسی درجے کی چیز سمجھیں گے تو اس کی اصل حقیقت کھو دیں گے۔ افراد کی تعداد، آبادی کا پھیلاؤ یا جسمانی طاقت اپنے آپ میں قوم پیدا نہیں کرتے۔ یہ سب “مشت گلی” کے دائرے کی چیزیں ہیں۔ قوم کی حقیقت اس سے بلند تر ہے۔

دلِ صاحب دل:

“صاحب دل” اقبال کے ہاں وہ انسان ہے جس کے اندر سوز بھی ہو، شعور بھی، اخلاص بھی اور خدا سے جڑا ہوا مقصد بھی۔ ایسا شخص محض مقرر یا منتظم نہیں ہوتا بلکہ روحانی مرکز بن جاتا ہے۔ اس کے دل میں جو درد پیدا ہوتا ہے وہ دوسروں کی بے حسی توڑتا ہے، اس کی نگاہ لوگوں کی خودی جگاتی ہے، اور اس کی محبت منتشر انسانوں کو ایک مرکز پر جمع کر دیتی ہے۔

گویا قوم کسی جغرافیے سے کم اور کسی زندہ دل کی تاثیر سے زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ تاریخ میں انبیا، مصلحین، صادق علما اور مجددین اسی معنی میں “صاحب دل” ہوتے ہیں۔ وہ محض افراد نہیں رہتے بلکہ ایک نئی اجتماعی روح کے بانی بن جاتے ہیں۔

قوم کی پیدائش کیسے ہوتی ہے:

جب بہت سے لوگ ایک ہی دل کی حرارت سے متاثر ہو کر ایک ہی مقصد، ایک ہی اخلاق، ایک ہی تصورِ خیر اور ایک ہی یاد کے ساتھ جڑنے لگتے ہیں تو قوم پیدا ہوتی ہے۔ قوم کی اصل پیدائش ذہنی، اخلاقی اور روحانی ہوتی ہے۔ وہ قانون، معیشت اور اداروں تک بعد میں پہنچتی ہے؛ پہلے وہ دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اقبال کے نزدیک قوم سازی کا پہلا میدان دل ہے، محض دفتر یا بازار نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کوئی بڑا صاحب دل اگر ایک زندہ نصب العین دے جائے تو اس کی تاثیر نسلوں تک چلتی ہے۔ جسمانی نسبتیں کمزور پڑ سکتی ہیں، مگر دل سے نکلنے والی سچی نسبت ایک تہذیب کی بنیاد بن سکتی ہے۔

افراد کا ہجوم اور قوم کا فرق:

ہر آبادی قوم نہیں ہوتی۔ لوگوں کا اکٹھا ہو جانا، ایک شہر میں رہنا یا ایک زبان بولنا کافی نہیں۔ قوم تب بنتی ہے جب ان کے اندر ایک مشترک ضمیر بیدار ہو۔ اقبال اس شعر سے ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر دل مر جائیں تو آبادیاں بھیڑ بن جاتی ہیں، اور اگر دل بیدار ہو جائیں تو منتشر افراد بھی قوم بن سکتے ہیں۔

یہی فرق ملتِ محمدیہ کی اصل میں بھی موجود ہے۔ اس کی بنیاد نسل، رنگ یا سرزمین پر نہیں بلکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے پیغام سے جڑے ہوئے دلوں پر ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے بہت سے مسائل کا سبب یہ ہے کہ ہم قوم کو صرف آبادی، ووٹ، طاقت، وسائل یا ردعمل کے پیمانوں سے دیکھتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اندر کوئی زندہ دل مقصد باقی ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے، مساجد، خاندان اور قیادت دلوں کو جوڑ رہے ہیں؟ اگر صاحب دل پیدا نہ ہوں تو افراد بڑھتے رہتے ہیں مگر قوم کمزور رہتی ہے۔

اس لیے اصلاح کا آغاز باطن سے، تربیت سے، سچے درد سے اور زندہ قیادت سے ہونا چاہیے۔ قومیں فیکٹریوں میں نہیں، دلوں میں بنتی ہیں۔

مثال

جیسے ایک مدرسہ صرف عمارت، طلبہ کی تعداد اور فنڈ سے زندہ نہیں ہوتا۔ اس کی اصل جان وہ استاد ہوتا ہے جس کے دل میں علم کی حرارت، دین کا درد اور تربیت کا اخلاص ہو۔ اگر ایسا صاحب دل موجود ہو تو معمولی ادارہ بھی نسلیں بنا دیتا ہے؛ اور اگر وہ نہ ہو تو بڑی عمارت بھی بے روح رہتی ہے۔ اسی طرح قوم کی پیدائش بھی کسی صاحب دل کے دل سے ہوتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک فرد کی پیدائش مادی ہے، مگر قوم کی پیدائش روحانی و اخلاقی ہے۔ فرد مٹی سے اٹھتا ہے، لیکن قوم کسی صاحب دل کے دل میں جنم لینے والے مقصد، درد اور محبت سے وجود میں آتی ہے۔ اس لیے قوم کو سمجھنے کے لیے جسم نہیں بلکہ دل، تعداد نہیں بلکہ تاثیر، اور ہجوم نہیں بلکہ مشترک ضمیر کو دیکھنا ضروری ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button