رموز بے خودی

پخته تر سودای خام از زور او

پخته تر سودای خام از زور او

در فتد با سنگ ، جام از زور او

ترجمہ

اس کی قوت سے خام سودا بھی زیادہ پختہ ہو جاتا ہے، اور اسی کے زور سے نازک جام بھی پتھر سے ٹکرا جانے کی جرأت پا لیتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال قرآنِ حکیم کی تربیتی اور انقلابی قوت کو نہایت مؤثر استعاروں میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی طاقت ایسی ہے کہ خام خیال بھی اس کے زیرِ اثر پختہ ہو جاتا ہے، اور نازک جام بھی اس کے زور سے پتھر سے ٹکرا جانے کا حوصلہ پیدا کر لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن صرف معلومات نہیں دیتا، وہ شخصیت بناتا ہے؛ صرف نصیحت نہیں کرتا، ارادہ بدلتا ہے؛ صرف دل نہیں گرماتا، کمزور کو ثابت قدم اور خام کو پختہ بنا دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:

خام سودا کا پختہ ہونا:

“سودای خام” سے مراد انسان کی وہ ابتدائی، ناپختہ، منتشر یا محض جذباتی خواہش ہو سکتی ہے جو ابھی صحیح شعور اور مضبوط سمت سے محروم ہو۔ اقبال بتاتے ہیں کہ قرآن کی قوت اسے پختگی عطا کرتی ہے۔ یعنی جس دل میں صرف خواہش تھی، وہاں ارادہ پیدا ہوتا ہے؛ جہاں صرف جذبہ تھا، وہاں حکمت شامل ہوتی ہے؛ جہاں صرف خواب تھا، وہاں تعمیر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔

یہ پختگی محض فکری نہیں، اخلاقی اور عملی بھی ہے۔ قرآن انسان کے اندر ایک ایسا توازن پیدا کرتا ہے جس سے اس کی خواہشیں مقصدی جہد میں بدلنے لگتی ہیں۔

زورِ قرآن:

یہاں “زور” سے مراد خارجی جبر نہیں بلکہ وہ داخلی طاقت ہے جو وحی انسان کو دیتی ہے۔ یہی زور ضمیر کو جگاتا ہے، نیت کو سیدھا کرتا ہے، خوف کو کم کرتا ہے اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک قرآن کی اصل تاثیر یہی ہے کہ وہ کمزور طبیعتوں کو بھی بلند ہمت اور صاحبِ عزم بنا سکتا ہے۔

اسی لیے ابتدائی مسلمان دنیاوی اعتبار سے کمزور تھے مگر قرآن کے زور سے تاریخ کے سب سے مضبوط کرداروں میں بدل گئے۔

جام اور سنگ:

جام نازکی، لطافت اور شکستگی کے امکان کی علامت ہے، جبکہ سنگ سختی، جمود، رکاوٹ اور مخالف قوت کی علامت ہے۔ عام حالت میں جام پتھر سے ٹکرائے تو ٹوٹ جائے گا، مگر اقبال کہتے ہیں کہ قرآن کے زور سے یہی جام سنگ سے در آویزد ہو جاتا ہے۔ اس میں یہ معنی پوشیدہ ہے کہ وحی نازک دلوں میں بھی ایسا عزم پیدا کرتی ہے کہ وہ بڑی سے بڑی مزاحمت کے سامنے حق کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔

یہ قوت مادی برتری سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ یقین، بصیرت اور باطنی استحکام سے پیدا ہوتی ہے۔

تربیت سے جرأت تک:

شعر کا ایک بڑا مفہوم یہ ہے کہ قرآن انسان کے اندر تدریجی تربیت کے ذریعے پختگی پیدا کرتا ہے اور پھر اسی پختگی سے جرأت جنم لیتی ہے۔ بغیر پختگی کے جرأت محض جذباتی خطرہ مول لینا ہوتی ہے، مگر قرآن ایسی جرأت پیدا کرتا ہے جس کے پیچھے علم، یقین، اخلاق اور مقصد ہو۔ یہی وہ جرأت ہے جو حق کی گواہی دیتی ہے اور تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔

اقبال ملت کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر اس کے افراد خام رہیں گے تو وہ ہر طوفان میں بہہ جائیں گے، لیکن اگر قرآن ان کی تربیت کرے تو وہ پتھر جیسے نظاموں کو بھی چیلنج کر سکیں گے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے نوجوانوں کے پاس جذبہ بہت ہے مگر اس جذبے کو پختہ کرنے والا قرآنی سانچہ کمزور پڑ گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا تو خام جذبات جلد بجھ جاتے ہیں، یا پھر بے حکمت تصادم میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر سکھاتا ہے کہ قرآنی تربیت جذبات کو عزم، کمزوری کو وقار، اور نازکی کو حق پر استقامت میں بدل دیتی ہے۔

اگر امت واقعی اپنی نئی نسل کو پختہ بنانا چاہتی ہے تو اسے قرآن کو صرف تلاوت کا نہیں بلکہ تربیت، فکر اور کردار سازی کا مرکز بنانا ہوگا۔

مثال

جیسے خام لوہے کو آگ، ضرب اور ترتیب سے گزار کر مضبوط اوزار بنایا جاتا ہے، ویسے ہی قرآنی تربیت انسان کی خام خواہش کو پختہ ارادے میں بدل دیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک قرآن کی قوت خام جذبے کو پختگی اور نازک طبیعت کو جرأت عطا کرتی ہے۔ اسی زور سے کمزور بھی حق کے لیے پتھر جیسے سخت نظاموں سے ٹکرا جانے کا حوصلہ پاتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button