بوعبید آن سید فوج حجاز
بوعبید آن سید فوج حجاز
در وغا عزمش ز لشکر بی نیاز
ترجمہ
ابوعبید، جو فوجِ حجاز کے سردارِ عالی مرتبت تھے، میدانِ جنگ میں ایسا عزم رکھتے تھے کہ گویا لشکر کی کثرت سے بے نیاز تھے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ابوعبید کا تعارف کراتے ہیں، مگر صرف تاریخی شناخت کے لیے نہیں۔ وہ ان کے عزم، سیادت اور باطنی استحکام کو سامنے لاتے ہیں تاکہ یہ واضح ہو کہ آگے آنے والا فیصلہ کسی کمزور یا خوف زدہ شخص کا نہیں، بلکہ ایک جری اور صاحبِ عزم قائد کا ہے۔ شعر کے مطابق:
سید فوج حجاز:
یہ تعبیر محض منصبی تعارف نہیں بلکہ وقار اور اخلاقی وزن کی علامت ہے۔ ابوعبید صرف جنگی کمانڈر نہیں، ایسے شخص ہیں جن کے ذریعے فوجِ حجاز کا مزاج اور اسلامی تہذیبی شعور بولتا ہے۔ اقبال ان کے تعارف میں عزت اور سیادت کا رنگ دے کر بتاتے ہیں کہ فیصلہ کرنے والا آدمی بھی ملت کی روح کا نمائندہ ہونا چاہیے۔
یعنی حکمت، شجاعت اور اخلاق سب ایک شخصیت میں جمع ہیں۔
عزمش ز لشکر بی نیاز:
یہ نہایت اہم نکتہ ہے۔ ابوعبید کا عزم لشکر کی تعداد پر نہیں کھڑا، بلکہ اندرونی پختگی پر قائم ہے۔ اقبال کے نزدیک ایسا قائد ہی اصول پر قائم رہ سکتا ہے جس کی قوت صرف بیرونی وسائل سے نہ ہو۔ جو آدمی اپنی ہمت کو صرف لشکر کی کثرت سے لیتا ہو، وہ مصلحت کے سامنے آسانی سے جھک سکتا ہے۔
مگر جو اپنے عزم میں مستقل ہو، وہ اخلاقی فیصلے کرتے وقت بھی کمزور نہیں پڑتا۔
قائد کی اصل شان:
یہ شعر بتاتا ہے کہ اسلامی قیادت کی شان صرف فتح دلانے میں نہیں بلکہ میدانِ قوت میں بھی اصول کو قائم رکھنے میں ہے۔ ابوعبید کا تعارف اسی لیے عزم کے ساتھ کیا گیا ہے، تاکہ بعد میں جب وہ جابان کے بارے میں فیصلہ کریں تو یہ واضح ہو کہ یہ رحم کمزوری کا نتیجہ نہیں، طاقت کے اندر اخلاق کا ظہور ہے۔
یہی فرق نبوی قیادت کو عام جنگی سیاست سے ممتاز کرتا ہے۔
سیادت اور خودی:
اقبال کے ہاں “سید” ہونے کا مطلب صرف نسبی برتری نہیں، بلکہ اخلاقی قیادت ہے۔ ایسا شخص اپنے نفس، اپنے خوف اور اپنے غصے پر بھی حاکم ہو۔ ابوعبید کا عزم اسی طرح کی خودی کی علامت ہے: وہ لشکر رکھتے ہیں مگر لشکر کے محتاج نہیں، طاقت رکھتے ہیں مگر طاقت کے غلام نہیں۔
اسی لیے وہ ملت کے اصول کا امین بننے کے قابل ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی اصولی فیصلے وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کی ہمت داخلی ہو، صرف بیرونی طاقت پر قائم نہ ہو۔ جو قیادت اپنی اخلاقی بنیاد میں کمزور ہو، وہ مفاد کے وقت وعدہ اور اصول قربان کر دیتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ سچی قیادت شجاعت اور امانت دونوں کو جمع کرتی ہے۔
اگر عزم اندر سے آزاد ہو تو فیصلے بھی زیادہ باوقار ہوتے ہیں۔
مثال
ایک منتظم یا جج جو اپنی رائے عوامی شور یا دباؤ کے بجائے اپنے ضمیر اور قانون سے بناتا ہے، وہی مشکل وقت میں بھی اصولی فیصلہ دے سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال ابوعبید کو ایسے قائد کے طور پر پیش کرتے ہیں جو طاقت ور بھی ہیں اور اندر سے مستقل بھی۔ یہی داخلی عزم انہیں جنگ کے میدان میں بھی ملت کے اصول کے مطابق فیصلہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔