ذات او دیگر صفاتش دیگر است
ذات او دیگر صفاتش دیگر است
سنت مرگ و حیاتش دیگر است
ترجمہ
اس کی ذات الگ ہے اور اس کی صفات الگ نوعیت کی ہیں، اس کی زندگی اور موت کا قانون بھی بالکل مختلف ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں اپنے پورے استدلال کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ یہاں “او” سے مراد ملت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ملت کی ذات اور صفات عام فرد سے مختلف ہیں، اور اسی لیے اس کی حیات و مرگ کا قانون بھی جدا ہے۔ یہ شعر ملتِ محمدیہ کے دوام کے فلسفے کا مرکزی نکتہ ہے۔ اگر ہم ملت کو صرف افراد کے مجموعے کے طور پر دیکھیں گے تو اس کی موت بھی فرد کی موت جیسی لگے گی۔ لیکن اگر ہم سمجھ لیں کہ اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کی سنتِ حیات الگ ہے، تو پھر واضح ہو جاتا ہے کہ اس کا وجود ایک بلند تر اجتماعی حقیقت ہے۔ شعر کے مطابق:
ذات کی جدائی:
ملت کی ذات عام جسمانی وجود کی طرح نہیں۔ فرد کی ذات ایک محدود ہستی ہے جو اپنے جسم، عمر اور حالات کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ ملت کی ذات ایک روحانی و اخلاقی اجتماع ہے۔ وہ کسی ایک جسم یا ایک نسل میں محصور نہیں ہوتی۔ اسی لیے اس کی پہچان زمین، خون، خاندان یا ظاہری طاقت سے زیادہ اس مقصد اور ربط سے بنتی ہے جو اس کے افراد کو باہم جوڑتا ہے۔
ملتِ محمدیہ کی ذات کی بنیاد وحی، رسالت، کلمہ، عبادت، اخلاق اور مشترک تاریخی شعور پر ہے۔ یہی بنیاد اسے عام اجتماعیات سے بھی ممتاز کرتی ہے۔
صفات کا اختلاف:
جب ذات الگ ہے تو صفات بھی الگ ہوں گی۔ فرد کی صفات میں قوت و ضعف، جوانی و پیری، بیماری و صحت اور محدود شعور شامل ہیں۔ ملت کی صفات انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہیں: اس میں تسلسل، تولید، تربیت، اثر انگیزی، تاریخی حافظہ اور مشترک مقصد کی صفات ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ فرد کی کمزوری ملت کی کامل کمزوری نہیں ہوتی، اور ایک فرد کا زوال ملت کا قطعی زوال نہیں بنتا۔ ملت اپنے اندر نئے افراد پیدا کر کے اور اپنے ربط کو قائم رکھ کر اپنی صفات کو تازہ کر سکتی ہے۔
سنتِ مرگ و حیات:
یہ مصرعہ نہایت بنیادی ہے۔ اقبال کے نزدیک ملت کی موت اور زندگی کا قانون فرد کے قانون سے الگ ہے۔ فرد جسمانی طور پر مرتا ہے، مگر ملت اس وقت مرتی ہے جب اس کا مقصد مر جائے، اس کا ربط ٹوٹ جائے، اس کی روحانی غیرت بجھ جائے اور اس کا اجتماعی ضمیر فاسد ہو جائے۔ اسی طرح ملت کی زندگی صرف عددی بقا سے نہیں، بلکہ مقصد، ایمان اور اخلاقی قوت کے قائم رہنے سے ہوتی ہے۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو کوئی ملت بظاہر کمزور ہوتے ہوئے بھی زندہ ہو سکتی ہے، اور کوئی بظاہر طاقتور اجتماع باطنی طور پر مردہ بھی ہو سکتا ہے۔ اقبال حیات و مرگ کا معیار باہر سے اٹھا کر اندر لے آتے ہیں۔
ملتِ محمدیہ کی خصوصیت:
ملتِ محمدیہ کی زندگی چونکہ ایک الٰہی پیغام سے وابستہ ہے، اس لیے اس کا دوام محض تاریخی عادت نہیں بلکہ معنوی حقیقت ہے۔ اس کی بقا کا راز یہ ہے کہ یہ اپنے اصل سے جڑ کر بار بار اپنی حیات تازہ کر سکتی ہے۔ جب تک اس کے اندر کلمہ، قرآن، محبتِ رسول، ذکرِ حق اور اخلاقی مقصد کی آگ باقی ہے، اس کی سنتِ حیات جاری رہ سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال اسے عام قومی نظریات سے بڑھ کر ایک زندہ اور موعود حقیقت سمجھتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج ہمیں ملت کی زندگی کو صرف سیاسی غلبہ، مادی طاقت یا عددی وسعت کے پیمانے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کا اخلاقی مقصد باقی ہے، کیا اس کے باہمی رشتے زندہ ہیں، کیا اس کی روحانی حرارت موجود ہے۔ اگر یہ چیزیں باقی ہیں تو اس کی سنتِ حیات بھی باقی ہے۔ اور اگر یہ چیزیں مر جائیں تو ظاہری قوت بھی حقیقی زندگی نہیں دے سکتی۔
مثال
جیسے ایک جسمانی طور پر کمزور مگر باحوصلہ اور صاحبِ مقصد انسان زندہ دل ہوتا ہے، جبکہ ایک مضبوط جسم والا مگر بالکل بے مقصد شخص اندر سے مردہ محسوس ہو سکتا ہے، اسی طرح ملت کی حیات بھی صرف ظاہری طاقت سے نہیں بلکہ اس کے باطنی مقصد اور ربط سے طے ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں فیصلہ کن طور پر بتاتے ہیں کہ ملت کی ذات، صفات اور قانونِ حیات و مرگ فرد سے مختلف ہے۔ اسی لیے ملتِ محمدیہ کی بقا کو فرد کے پیمانے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کی زندگی اس کے روحانی مقصد، اجتماعی ربط اور اخلاقی دوام سے قائم رہتی ہے۔