رموز بے خودی

مؤمن از عشق است و عشق از مؤمنست

مؤمن از عشق است و عشق از مؤمنست

عشق را ناممکن ما ممکن است

ترجمہ

مومن عشق سے بنتا ہے اور عشق مومن سے پہچانا جاتا ہے؛ ہمارے لیے جو چیز ناممکن دکھائی دیتی ہے، عشق کے لیے وہ ممکن ہو جاتی ہے۔

تشریح

اقبال یہاں مومن کی اصل جوہر کو بیان کرتے ہیں۔ مومن صرف احکام یاد رکھنے والی ہستی نہیں بلکہ عشق سے زندہ شخصیت ہے۔ اور عشق بھی کوئی بے سمت جذبہ نہیں؛ وہ مومن کے دل، عمل اور وفا میں اپنی سچی صورت پاتا ہے۔ آگے کربلا کی پوری فضا اسی حقیقت پر قائم ہے کہ عشق ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:

مومن اور عشق کا باہمی ربط:

“مؤمن از عشق است” یعنی ایمان کی حرارت، حرکت، استقامت اور ایثار عشق سے پیدا ہوتے ہیں۔ محض حسابی عقل یا رسمی مذہب انسان کو بڑی قربانیوں کے قابل نہیں بناتے۔ دوسری طرف “عشق از مؤمنست” کا مطلب یہ ہے کہ عشق اپنی پاک اور باوقار صورت اسی دل میں پاتا ہے جو ایمان سے روشن ہو۔ ورنہ جذبہ محض خواہش بھی بن سکتا ہے۔

اقبال کے نزدیک ایمان اور عشق ایک دوسرے کی تکمیل ہیں، ایک دوسرے کے بدیل نہیں۔

ناممکن کا ممکن ہونا:

عقل بہت سی چیزوں کو ناممکن سمجھ کر رک جاتی ہے: قلیل افراد سے بڑی تبدیلی، سچ کے لیے جان دینا، شکست میں فتح دیکھنا، اور ظاہر کے نقصان میں باطن کی بقا تلاش کرنا۔ عشق ان حدود کو توڑ دیتا ہے، کیونکہ اس کا معیار صرف دنیاوی حساب نہیں ہوتا۔ وہ حق، وفا اور مقصد کے لیے ایسے راستے اختیار کرتا ہے جو حسابی ذہن کو غیر عملی لگتے ہیں۔

یہی عشق تاریخ کو نئے معنی دیتا ہے۔

کربلا کے تناظر میں:

اگر صرف دنیاوی عقل سے دیکھا جائے تو کربلا ایک ناممکن معرکہ ہے: قلیل ساتھی، سامنے سلطنت، ظاہری کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔ مگر عشق نے ناممکن کو ممکن کیا۔ حسین کی قربانی نے شکست کو بقا میں اور قلیل کو ابدی اثر میں بدل دیا۔ اقبال اس شعر سے پہلے ہی قاری کو بتا دیتے ہیں کہ آگے جو واقعہ آئے گا وہ حسابی منطق سے نہیں، عشق کے قانون سے سمجھا جائے گا۔

اسی لیے کربلا محض جنگ نہیں، ایمان کی عاشقانہ منطق ہے۔

عشق کی تخلیقی قوت:

اقبال کے ہاں عشق تباہ کار جذبہ نہیں، تخلیقی قوت ہے۔ وہ کمزور کو جرات، منتشر کو مرکز، اور خوف زدہ کو ثبات دیتا ہے۔ عشق کا کام یہی ہے کہ وہ انسان کے اندر وہ امکانات بیدار کرے جو صرف عقلِ معاش کی نگاہ سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کے لیے عشق صرف ایک کیفیت نہیں، وجود کی اصل توانائی ہے۔

جو دل عشق سے خالی ہو، وہ اکثر مصلحت سے بھر جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے بڑے اور سچے کام اس لیے نہیں ہوتے کہ لوگ انہیں “ممکن” نہیں سمجھتے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ایمان جب عشق سے جڑ جائے تو انسان محض محفوظ راستے نہیں دیکھتا، حق کے راستے دیکھتا ہے۔ یہی عشق فرد، تحریک اور امت کو نئی جان دیتا ہے۔

اسلامی حریت صرف پابندیوں سے نکلنے کا نام نہیں، بلکہ ایسے قلب کی پیدائش ہے جو حق کے لیے ناممکن کو بھی ممکن سمجھنے لگے۔

مثال

ایک چھوٹی مگر سچی تحریک، یا ایک تنہا آدمی کی اصولی مزاحمت، عقلِ مصلحت کے نزدیک بے فائدہ لگ سکتی ہے؛ مگر تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ یہی “ناممکن” عمل بعد میں بڑے بیداری کے سرچشمے بن گئے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق مومن کی اصل جان عشق ہے، اور عشق کی خالص صورت ایمان میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہی عشق انسانی حدود سے اوپر اٹھ کر ناممکن کو ممکن بنانے کی قوت رکھتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button