رموز بے خودی

در سفر یار است و صحبت قائم است

در سفر یار است و صحبت قائم است

فرد رہ گیر است و ملت قائم است

ترجمہ

سفر میں یار موجود ہے اور صحبت قائم رہتی ہے، فرد راستے میں رک جانے والا ہے مگر ملت قائم رہتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں سفر، صحبت، فرد اور ملت کے باہمی ربط سے ایک بڑی اجتماعی حقیقت واضح کرتے ہیں۔ زندگی ایک سفر ہے، اس میں رفاقت بھی ہے، یار بھی ہے اور منزلوں کی تبدیلی بھی۔ لیکن فرد اس سفر میں کسی مقام پر رک سکتا ہے، تھک سکتا ہے، گر سکتا ہے یا اس کی راہ ختم ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس ملت قائم رہتی ہے، کیونکہ اس کا سفر انفرادی قدموں سے کہیں بڑا ہے۔ اقبال ملتِ محمدیہ کو ایک جاری قافلے کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں اشخاص آتے ہیں، اپنا حصہ ادا کرتے ہیں، پھر رک جاتے ہیں، مگر صحبت یعنی اجتماعی ربط اور قافلے کی حرکت باقی رہتی ہے۔ شعر کے مطابق:

سفر کا استعارہ:

اقبال کے نزدیک زندگی سکونِ محض نہیں بلکہ سفر ہے۔ سفر میں تبدیلی، آزمائش، امید، مشقت اور ترقی سب شامل ہوتے ہیں۔ ملت بھی ایک جاری سفر ہے۔ وہ کسی ایک مقام پر بند نہیں ہو جاتی بلکہ مسلسل آگے بڑھتی ہے۔ اس سفر میں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

جب امت اپنے آپ کو سفر میں دیکھتی ہے تو وہ کسی ایک عارضی حالت کو اپنی آخری شکل نہیں سمجھتی۔ وہ جانتی ہے کہ راستہ جاری ہے، اور راستہ جاری ہے تو امکان باقی ہے۔

یار اور صحبت:

“یار” اور “صحبت” دونوں الفاظ نہایت گہرے ہیں۔ یار سے مراد وہ سچا ربط، وہ روحانی تعلق اور وہ باہمی موافقت بھی ہے جو قافلے کو قائم رکھتی ہے۔ صحبت سے مراد وہ اجتماعی فضا ہے جس میں افراد تنہا نہیں رہتے بلکہ ایک بڑے مقصد کے اندر ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔

اقبال کے نزدیک ملت کی بقا کا ایک بڑا راز یہی صحبت ہے۔ فرد اگر جماعت، صالح صحبت، مشترک ذکر اور مشترک مقصد سے کٹ جائے تو کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن جب صحبت قائم ہو تو فرد کی محدودیت کے باوجود ملت کی قوت باقی رہتی ہے۔

فرد رہ گیر است:

فرد راہ میں رک جانے والا ہے۔ یہ رکنا جسمانی موت بھی ہو سکتا ہے، نفسیاتی تھکن بھی، یا عمر و قوت کی حد بھی۔ اقبال اس سے فرد کی محدودیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ کوئی فرد کتنا ہی باکمال کیوں نہ ہو، وہ اپنے سفر کی ایک حد تک ہی جا سکتا ہے۔

اگر پوری زندگی ایک فرد پر قائم ہو تو اس کے رکنے سے سب کچھ رک جائے گا۔ لیکن اقبال فوراً اس کے مقابل ملت کو قائم قرار دیتے ہیں، تاکہ معلوم ہو کہ اجتماعی زندگی فرد کی حد پر ختم نہیں ہوتی۔

ملت قائم است:

ملت کا قائم رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی بنیادیں شخصی نہیں بلکہ اصولی ہیں۔ اس کے اندر صحبت کی زنجیر، مقصد کی وحدت اور روحانی نسبت کا تسلسل موجود ہے۔ اسی وجہ سے ایک فرد کے رکنے پر دوسرا آگے بڑھتا ہے، ایک نسل کے گزرنے پر دوسری آتی ہے، اور قافلہ جاری رہتا ہے۔

ملتِ محمدیہ کا یہ دوام کسی حیاتیاتی بقا کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ ایمانی ربط کا نام ہے جو اشخاص کے گزرنے کے باوجود باقی رہتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کو انفرادی کامیابی یا ناکامی سے آگے بڑھ کر صحبت اور اجتماعی ربط کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم صرف افراد پیدا کریں گے مگر جماعتی روح، ادارہ جاتی تسلسل اور صالح رفاقت قائم نہ ہوگی تو ہر فرد کے رکنے پر نئی کمزوری پیدا ہوگی۔ لیکن اگر صحبت قائم ہوگی تو ملت کا سفر بھی قائم رہے گا۔

مثال

جیسے ایک خیراتی ادارہ صرف ایک بانی کی محنت سے شروع ہوتا ہے مگر اگر اس کے بعد ایک مضبوط ٹیم، واضح مقصد اور خدمت کی روایت قائم ہو جائے تو بانی کے رخصت ہونے کے بعد بھی کام چلتا رہتا ہے، ویسے ہی ملت کی اصل قوت بھی قائم صحبت میں ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ فرد سفر میں رک سکتا ہے، مگر یار، صحبت اور ملت کا ربط قائم رہتا ہے۔ ملتِ محمدیہ کی بقا اسی اجتماعی تسلسل، رفاقت اور اصولی وحدت میں ہے، نہ کہ محض انفرادی قوت میں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button