کان گوہر پروری گوہر گری
کان گوہر پروری گوہر گری
کم نگردد از شکست گوهری
ترجمہ
وہ کان جو گوہر پیدا کرتی ہے اور وہ ہنر جو گوہر تراشتا ہے، ایک گوہر کے ٹوٹ جانے سے کم نہیں ہو جاتا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں ملت کے دوام کو ایک اور بلند مثال سے سمجھاتے ہیں۔ گوہر قیمتی ہے، لیکن اصل قیمتی حقیقت صرف ایک گوہر نہیں بلکہ وہ کان ہے جو گوہر پیدا کرتی ہے، اور وہ گوہر گری ہے جو خام پتھر کو نگینہ بناتی ہے۔ اگر ایک گوہر ٹوٹ بھی جائے تو نہ کان کی قوت ختم ہوتی ہے اور نہ گوہر گری کا ہنر۔ اقبال اسی استعارے سے ملتِ محمدیہ کی باطنی تخلیقی طاقت کو بیان کرتے ہیں۔ اس امت کی اصل عظمت صرف چند درخشندہ افراد میں نہیں بلکہ اس روحانی معدن اور تربیتی فن میں ہے جو نسل در نسل نئے گوہر پیدا کرتا رہتا ہے۔ شعر کے مطابق:
کان کا استعارہ:
کان منبع ہے، سرچشمہ ہے، خزانہ ہے۔ گوہر اس سے نکلتے ہیں، مگر کان کسی ایک گوہر سے ختم نہیں ہوتی۔ اقبال ملت کو ایسی ہی معدن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کے اندر عقیدہ، شریعت، اخلاق، محبتِ رسول، ذکرِ الٰہی اور اجتماعی شعور کی وہ گہرائی موجود ہے جس سے رجال اور کارنامے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
اگر امت اپنی اصل معدن کو پہچان لے تو وہ اشخاص کی کمی پر ٹوٹنے کے بجائے اپنے منبع کی حفاظت پر توجہ دے گی۔
گوہر گری کا ہنر:
صرف کان کافی نہیں، گوہر گری بھی چاہیے۔ خام پتھر کو نگینہ بنانا ایک فن ہے۔ اسی طرح ملت کی بقا میں صرف اصولوں کا ہونا کافی نہیں بلکہ ان اصولوں کو کردار، تربیت، علم اور عمل کے ذریعے انسانوں میں ڈھالنے کا ہنر بھی ضروری ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کی زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ اس کے پاس یہ تربیتی صلاحیت موجود ہے۔
خاندان، مسجد، مدرسہ، صحبتِ صالحین، علم کی روایت اور اخلاقی تربیت سب اسی گوہر گری کی مختلف صورتیں ہیں۔ انہی سے خام قابلیتیں جواہر میں بدلتی ہیں۔
ایک گوہر کے شکستہ ہونے کا مفہوم:
ایک گوہر کے ٹوٹ جانے سے مراد کسی بڑے فرد کی رخصتی، کسی عظیم کوشش کی ناکامی، یا کسی نمایاں قوت کا زوال ہو سکتا ہے۔ بظاہر ایسے واقعات صدمہ پہنچاتے ہیں، اور ان کی قدر بھی کم نہیں۔ لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اگر اصل کان اور اصل فن سلامت ہوں تو ایک گوہر کا ٹوٹ جانا کلی افلاس نہیں لاتا۔
یہ سوچ ملت کو مایوسی سے بچاتی ہے۔ وہ نقصان کو دیکھتی ہے، مگر اسے حتمی فیصلہ نہیں مانتی۔ وہ جانتی ہے کہ جہاں معدن زندہ ہو اور فن باقی ہو، وہاں نئے نگینے پھر پیدا ہو سکتے ہیں۔
تخلیقی تسلسل:
اس شعر کا ایک بڑا سبق یہ ہے کہ زندہ ملت اپنی تخلیقی طاقت نہیں کھوتی۔ تاریخ میں اس کے بعض بہترین افراد رخصت ہو جائیں، بعض ادوار ختم ہو جائیں، بعض کارنامے ٹوٹ جائیں، تب بھی اگر اس کی روحانی اور تربیتی بنیادیں محفوظ ہیں تو اس کا تخلیقی تسلسل قائم رہتا ہے۔
یہی دوام ہے: محض باقی رہنا نہیں، بلکہ بار بار جواہر پیدا کر سکنا۔ ملتِ محمدیہ کی برتری اسی پیداواری صلاحیت میں ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری توجہ صرف نمایاں افراد پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان سرچشموں اور تربیتی نظاموں پر ہونی چاہیے جو ایسے افراد پیدا کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف ایک گوہر کو بچانے میں لگے رہیں اور کان کو بھول جائیں تو افلاس یقینی ہے۔ لیکن اگر ہم عقیدہ، علم، کردار، تربیت اور ادارہ سازی کی حفاظت کریں گے تو ٹوٹے ہوئے گوہر کے بعد بھی نئے نگینے پیدا ہوتے رہیں گے۔
مثال
ایک اچھا مدرسہ یا علمی مکتب صرف ایک بڑے عالم کی وجہ سے قیمتی نہیں ہوتا۔ اصل قیمت اس طریقۂ تعلیم، اس تربیتی ماحول اور اس علمی معیار میں ہوتی ہے جو ہر دور میں نئے اہلِ علم پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہی کان اور یہی گوہر گری ہے۔
خلاصہ
اقبال بتاتے ہیں کہ ایک گوہر کے ٹوٹ جانے سے گوہر پیدا کرنے والی کان اور گوہر تراشنے والا فن ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ملتِ محمدیہ کی اصل عظمت اس کے افراد سے بڑھ کر اس کے روحانی منبع اور تربیتی قوت میں ہے، جو اسے دائم اور تولیدی بناتی ہے۔