رموز بے خودی

زندگی قوم از دم او یافت است

زندگی قوم از دم او یافت است

این سحر از آفتابش تافت است

ترجمہ

قوم نے اپنی زندگی اسی کے دم سے پائی ہے، اور یہ سحر اسی کے آفتاب سے روشن ہوئی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال یہاں واضح کرتے ہیں کہ امت کی اجتماعی زندگی کسی حادثاتی قوت، نسبی رشتے یا محض سیاسی تدبیر کی پیداوار نہیں، بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دم، یعنی ان کے روحانی فیضان، پیغام اور تربیت سے پیدا ہوئی ہے۔ امت کا سحر، اس کی صبح، اس کی نئی تاریخ اسی آفتابِ رسالت سے روشن ہوئی۔ شعر کے مطابق:

دمِ نبوی کا مفہوم:

یہاں “دم” سے مراد محض سانس نہیں، بلکہ حیات بخش اثر، روحانی نفَس، اور وہ زندہ تاثیر ہے جو نبی کے پیغام اور صحبت سے پیدا ہوتی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے بکھرے ہوئے، متنازع اور جاہلی ماحول کو ایک نئی زندگی دی۔ اقبال کے نزدیک یہ محض سماجی اصلاح نہ تھی، بلکہ مردہ زمین میں نئی روح پھونک دینے کے مانند تھی۔

اسی لیے شاعر قوم کی زندگی کو براہِ راست دمِ نبوی سے منسوب کرتے ہیں۔

سحر اور آفتاب کا ربط:

سحر روشنی کا آغاز ہے، مگر اس کے پیچھے آفتاب ہوتا ہے۔ امت کی تاریخ میں جو نئی صبح آئی، وہ اپنے آپ نہیں آئی؛ اس کے پیچھے نبوی آفتاب تھا۔ اقبال اس تصویر سے یہ بتاتے ہیں کہ ہماری تہذیبی بیداری، اخلاقی انقلاب اور روحانی روشنی سب ایک ہی بڑے مرکز سے پھوٹے۔

گویا رسالت صرف روشنی کی ایک کرن نہ تھی، بلکہ پورا سورج تھی جس سے صبحِ امت نے طلوع پایا۔

قوم کی پیدائشِ نو:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے عرب میں قبائلی تفاخر، انتقام، بے سمت بہادری، فکری پراکندگی اور روحانی تاریکی تھی۔ نبوی پیغام نے انہی اجزا کو ایک نئی قوم میں بدل دیا۔ اس لیے اقبال قوم کی “زندگی” کی بات کرتے ہیں، یعنی ایک نئی صورتِ وجود پیدا ہوئی۔

اس شعر میں زندگی صرف بقا نہیں، بلکہ با مقصد اور باوقار تاریخی وجود ہے۔

تاریخی حقیقت اور موجودہ ضرورت:

اقبال ماضی کا بیان صرف تاریخ سنانے کے لیے نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت یہ سمجھے: جس سرچشمے نے اسے پہلی بار زندہ کیا تھا، اس سے دور ہو کر وہ پائیدار زندگی نہیں پا سکتی۔ اگر نئی سحر چاہیے تو پھر اسی آفتاب کی طرف رجوع ضروری ہے۔

امت کا زوال اس وقت بڑھتا ہے جب وہ اپنی صبح کو تو یاد رکھے، مگر اپنے سورج کو نہ پہچانے۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج مسلمانوں کو اگر اپنی اجتماعی زندگی میں نئی صبح چاہیے، تو یہ صرف ادارہ جاتی مرمت یا سیاسی حکمت عملی سے مکمل نہیں ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم پھر سے دمِ نبوی سے وابستہ ہو رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی صبح کو اس کے سورج سے پھر جوڑ رہے ہیں؟

اقبال کا جواب واضح ہے: امت کی حقیقی زندگی اور اس کی روشنی دونوں رسالت سے پھوٹتی ہیں۔

مثال

کسی معاشرے میں قانون اور عمارتیں موجود ہوں، مگر اگر اس کے پاس بامعنی قیادت اور اخلاقی روح نہ ہو تو وہ زندہ نہیں رہتا۔ اصل زندگی اس قیادت کے نفَس سے آتی ہے جو دل اور نظم دونوں بدل دے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق امت کی زندگی اور اس کی صبح دونوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے پیدا ہوئی ہیں۔ نئی اجتماعی بیداری بھی اسی نبوی آفتاب کی طرف رجوع سے ممکن ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button