بست قمری آشیان بلبل پرید
بست قمری آشیان بلبل پرید
قطرہ ی شبنم رسید و بو رمید
ترجمہ
قمری نے آشیانہ سمیٹ لیا، بلبل اڑ گئی، شبنم کا قطرہ آیا اور خوشبو بھی رخصت ہو گئی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں بہار کے چند نہایت لطیف مگر عارضی مناظر کو یکجا کر کے ایک بڑی حقیقت واضح کرتے ہیں: باغ کی زندگی کسی ایک آواز، ایک پرندے، ایک قطرے یا ایک خوشبو پر موقوف نہیں ہوتی۔ قمری کا آشیانہ بند ہو جانا، بلبل کا اڑ جانا، شبنم کا آنا اور بو کا رخصت ہونا سب تغیرات ہیں، مگر ان سے بہار کی اصل حقیقت ختم نہیں ہوتی۔ اقبال اسی تمثیل سے ملتِ محمدیہ کے دوام کو سمجھاتے ہیں کہ اس کے اندر افراد، ادوار، کیفیات اور مظاہر آتے جاتے رہتے ہیں، مگر اس کی اصل زندگی کسی ایک عارضی صورت سے بندھی ہوئی نہیں۔ شعر کے مطابق:
قمری اور بلبل کی روانگی:
قمری اور بلبل دونوں باغ کی زندگی کی دلکش علامتیں ہیں، لیکن اقبال یہ دکھاتے ہیں کہ ان کا چلے جانا باغ کی موت نہیں بنتا۔ ایک پرندہ خاموش ہو جائے یا دوسرا اڑ جائے تو اس سے باغ کے امکان ختم نہیں ہوتے۔ ملت کی تاریخ میں بھی بہت سے رجال، اہلِ دل، رہنما اور باکمال افراد آتے ہیں، اپنا حصہ ادا کرتے ہیں، پھر رخصت ہو جاتے ہیں۔
اگر ملت اپنی زندگی کو صرف چند افراد کے ساتھ وابستہ کر لے تو ان کے جانے کے بعد مایوسی پھیل جاتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم اشخاص کی قدر کریں، مگر اصل حیات کو اشخاص سے بڑا سمجھیں۔
شبنم کا قطرہ:
شبنم کا قطرہ نہایت حسین مگر بہت مختصر عمر رکھنے والی چیز ہے۔ صبح کے وقت وہ چمکتا ہے، پھر سورج نکلنے کے ساتھ مٹ جاتا ہے۔ اقبال اس سے یہ اشارہ دیتے ہیں کہ بعض کیفیات، بعض رونقیں اور بعض وقتی جلوے اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں، مگر ان کی بقا مقصود نہیں ہوتی۔ انہیں آنا اور جانا ہی ہے۔
قومیں اگر عارضی اثرات کو دائمی حقیقت سمجھ بیٹھیں تو ان کی فکری بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ شبنم کی نزاکت سے لطف لینا چاہیے، مگر اس پر اپنی پوری امید نہیں رکھنی چاہیے۔
بو کا رم جانا:
خوشبو کو پکڑا نہیں جا سکتا۔ وہ ٹھہرتی نہیں، پھیلتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے۔ اقبال کے یہاں بو کا رم جانا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ زندگی کے بعض آثار ٹھہراؤ میں نہیں بلکہ حرکت میں ہیں۔ خوشبو اگر ایک مقام سے گئی ہے تو اس کا مطلب صرف فقدان نہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی وسیع تر فضا میں پھیل رہی ہو۔
ملت کے کارنامے، اس کے اہلِ حق اور اس کے اثرات بھی بہت مرتبہ ایسی ہی خوشبو کی مانند ہوتے ہیں۔ وہ ایک صورت میں باقی نہ رہیں تب بھی ان کی تاثیر دوسری جگہ زندہ رہتی ہے۔
تغیر اور دوام:
یہ شعر سکھاتا ہے کہ تغیر، دوام کی ضد نہیں بلکہ اس کی ظاہری صورت ہے۔ جو باغ زندہ ہے، اس میں روانگی بھی ہوگی، آمد بھی ہوگی، شبنم بھی ہوگی اور اس کا مٹنا بھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا باغ کی بنیاد زندہ ہے۔ اقبال ملتِ محمدیہ کو ایسی ہی زندہ حقیقت سمجھتے ہیں جو افراد اور احوال کی تبدیلی کے باوجود قائم رہتی ہے۔
دوام کا مطلب جمود نہیں۔ اگر سب کچھ ایک ہی حال پر رکا رہے تو زندگی مر جاتی ہے۔ حیات اسی میں ہے کہ کچھ چیزیں رخصت ہوں، کچھ آئیں، اور اصل نظام جاری رہے۔
آج کے لیے سبق:
آج امت کو سب سے زیادہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وقتی شخصیات، محدود رجحانات اور عارضی کامیابیاں اس کی اصل نہیں ہیں۔ اگر کوئی آواز خاموش ہو جائے، کوئی رہنما رخصت ہو جائے یا کوئی خاص رونق باقی نہ رہے تو بھی ملت کی جڑیں زندہ رہ سکتی ہیں۔ ہمیں اصل ربط ایمان، علم، اخلاق اور مقصد کے ساتھ رکھنا چاہیے، نہ کہ صرف ان مظاہر کے ساتھ جو وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔
مثال
جیسے ایک بڑے ادارے میں کچھ نمایاں اساتذہ یا منتظمین چلے جائیں تو بظاہر یوں لگتا ہے کہ سب کچھ ختم ہو گیا، مگر اگر ادارے کی اصل روایت، اصول اور تربیتی روح باقی ہو تو وہ دوبارہ نئے لوگوں کے ساتھ زندہ رہتا ہے، ویسے ہی ملت بھی افراد کے جانے سے ختم نہیں ہوتی۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک قمری، بلبل، شبنم اور خوشبو جیسے مظاہر آتے جاتے رہتے ہیں، مگر بہار کی اصل زندگی باقی رہتی ہے۔ اسی طرح ملتِ محمدیہ کی حیات کسی ایک فرد یا عارضی کیفیت سے وابستہ نہیں بلکہ ایک گہری اور قائم حقیقت ہے۔