رموز بے خودی

از رضا مسلم مثال کوکب است

از رضا مسلم مثال کوکب است

در رہ هستی تبسم بر لب است

ترجمہ

رضا کی بدولت مسلمان ستارے کی مانند ہو جاتا ہے، اور زندگی کی راہ میں اس کے لبوں پر تبسم رہتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں یأس اور غم کے مقابل ایک نہایت روشن اور باوقار کیفیت پیش کرتے ہیں: رضا۔ جب بندہ اپنے رب کے فیصلے پر راضی، اس کی حکمت پر مطمئن، اور اس کی رحمت سے وابستہ ہوتا ہے تو اس کے باطن میں ایسی روشنی پیدا ہوتی ہے جو اسے ستارے کی مانند تاباں بنا دیتی ہے۔ پھر زندگی کی دشوار راہوں میں بھی اس کے لبوں پر تبسم باقی رہتا ہے۔ شعر کے مطابق:

رضا کا صحیح مفہوم:

رضا کا مطلب بےحسی یا تقدیر کے سامنے مردہ پڑ جانا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسان جد و جہد کرتے ہوئے بھی اپنے رب کی حکمت پر بدگمان نہ ہو۔ وہ دکھ میں شکوہ کناں نہیں رہتا، نعمت میں غافل نہیں ہوتا، اور آزمائش میں اپنا رشتہ خدا سے نہیں توڑتا۔ اقبال کے نزدیک یہی رضا دل کو تلخی سے بچاتی اور انسان کو باوقار بناتی ہے۔

یہ کیفیت انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے حالات کے اندر رہ کر بھی ان کا غلام نہ بنے۔ رضا اسے اندر سے بلند رکھتی ہے۔

مسلم بطور کوکب:

ستارہ رات کے اندھیرے میں اپنی روشنی سے پہچانا جاتا ہے۔ اقبال جب مسلمان کو کوکب سے تشبیہ دیتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ وہ مشکلات، تاریکیوں اور آزمائشوں کے اندر بھی اپنی روشنی کھو نہیں دیتا۔ اس کی روشنی کسی مصنوعی خوشی سے نہیں، بلکہ اپنے رب پر اعتماد اور رضا سے پیدا ہوتی ہے۔

گویا سچا مومن ماحول کی تاریکی سے مغلوب نہیں ہوتا، بلکہ اپنے اندر کی روشنی سے اسے معنی دیتا ہے۔ یہی اس کی امتیازی شان ہے۔

راہِ ہستی میں تبسم:

“تبسم بر لب است” ایک نہایت گہری بات ہے۔ یہ تبسم سطحی خوش مزاجی نہیں بلکہ ایک باطنی سکون اور اعتماد کی علامت ہے۔ انسان کو دکھ بھی ملتے ہیں، بچھڑنے بھی آتے ہیں، آزمائشیں بھی گھیرتی ہیں، مگر رضا اس کے چہرے سے وقار اور امید نہیں چھینتی۔ وہ شکست خوردہ مسکراہٹ نہیں بلکہ اعتماد سے بھرا تبسم ہوتا ہے۔

اقبال کے نزدیک یہی تبسم زندگی کی دلیل ہے۔ جو دل خدا سے راضی ہو، وہ کڑوا نہیں ہوتا، بلکہ آزمائش میں بھی حسنِ اخلاق برقرار رکھتا ہے۔

رضا اور قوتِ عمل:

رضا کو کبھی کبھی غلط طور پر بےعملی سمجھ لیا جاتا ہے، لیکن اقبال کے ہاں ایسا نہیں۔ یہاں رضا انسان کو مفلوج نہیں کرتی بلکہ اس کے دل کی پراگندگی کو کم کرتی ہے، اس کے غم کو زہر بننے نہیں دیتی، اور اسے باطنی استحکام دیتی ہے۔ یہی استحکام انسان کو زیادہ جمعیت، زیادہ حوصلے اور زیادہ اچھے عمل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

یعنی رضا رکاوٹ نہیں، بلکہ دل کے انتشار سے آزادی ہے۔ اس آزادی سے انسان کی جد و جہد زیادہ صاف اور زیادہ بامعنی ہو جاتی ہے۔

ملت کے لیے پیغام:

ایک امت اگر رضا کی اس روح سے خالی ہو جائے تو وہ ہر مشکل میں تلخ، شاکی اور مایوس ہو سکتی ہے۔ مگر اگر اس کے اندر توحیدی رضا پیدا ہو تو وہ اپنی تکلیفوں کے باوجود وقار، امید اور اخلاقی روشنی کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہی کیفیت قوم کو شکست میں بھی ٹوٹنے نہیں دیتی اور فتح میں بھی مغرور نہیں ہونے دیتی۔

اقبال چاہتے ہیں کہ ملت اس باطنی ستارگی کو دوبارہ حاصل کرے، تاکہ اس کا سفر تاریکی میں بھی منور رہے۔

مثال

کچھ لوگ مشکل ترین حالات میں بھی دوسروں کو حوصلہ دیتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس مسئلے بھی ہوتے ہیں مگر ان کے چہرے پر ایک پختہ سکون ہوتا ہے۔ یہ سکون عموماً کسی گہری رضا اور اعلیٰ اعتماد سے پیدا ہوتا ہے، نہ کہ ظاہری آسانیوں سے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک رضا مسلمان کو ستارے کی مانند روشن اور باوقار بناتی ہے۔ یہی کیفیت اسے زندگی کی راہ میں اندھیرے کے باوجود تبسم، سکون اور استقامت عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button