رموز بے خودی

بتگری مانند آزر پیشه اش

بتگری مانند آزر پیشه اش

بست نقش تازه ئی اندیشه اش

ترجمہ

اس کا پیشہ آزر کی طرح بت تراشی تھا، اور اس کی سوچ نے ایک نیا بت بنا کر کھڑا کر دیا۔

تشریح

اقبال اس شعر میں اپنی پوری تنقید کو ایک نہایت گہرے قرآنی استعارے میں سمیٹ دیتے ہیں۔ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کے طور پر بت تراشی کی علامت بن گیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہ جدید سیاسی مفکر بھی ایک نئے زمانے کا بت گر تھا۔ اس نے پتھر کے بت نہیں تراشے، بلکہ خیال، نظریہ، سیاست اور طاقت کے ایسے نئے بت بنائے جنہیں تہذیب نے مقدس سمجھنا شروع کر دیا۔ شعر کے مطابق:

بتگری:

بت گری کا مطلب محض مورتی تراشنا نہیں، بلکہ ایسی چیز کو مرکزِ تعظیم بنا دینا ہے جو اصل میں معبود ہونے کی اہل نہیں۔ اقبال کے نزدیک جب قوم، ریاست، طاقت، مصلحت یا اقتدار کو ایسی حیثیت دے دی جائے کہ ان کے سامنے حق، عدل اور اخلاق پیچھے ہٹ جائیں، تو یہ جدید بت گری ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب بت سنگ و گل کے نہیں، تصورات اور نظاموں کے ہیں۔

بت بدلنے سے بت پرستی ختم نہیں ہوتی، کبھی وہ اور زیادہ مہذب لباس پہن لیتی ہے۔

مانند آزر:

آزر کی نسبت سے اقبال بتاتے ہیں کہ تاریخ کا قدیم شرک جدید دنیا میں نئے روپ سے واپس آ سکتا ہے۔ حضرت ابراہیم نے جس شرک کو توڑا تھا، وہ صرف مجسموں میں محدود نہ تھا؛ اس کی اصل یہ تھی کہ باطل کو معبود کا مقام دے دیا گیا تھا۔ اقبال اسی اصول کو جدید سیاست پر منطبق کرتے ہیں۔ اگر قوم یا طاقت آخری مرجع بن جائے تو آزر کی دکان نئے زمانے میں پھر کھل گئی۔

ابراہیمی توحید کا امتحان ہر زمانے میں نئے بتوں کے مقابل آتا ہے۔

نقش تازه:

یہ نیا نقش دراصل وہ نیا سیاسی معبود ہے جو پرانی مذہبی مرکزیت کے ٹوٹنے کے بعد سامنے آیا۔ اس میں ریاست کی تقدیس، اقتدار کی برتری، اور مصلحت کی عبادت شامل تھی۔ لوگ سمجھتے تھے کہ انہوں نے پرانے بت توڑ دیے ہیں، مگر اقبال کہتے ہیں کہ درحقیقت ایک نئے بت کے گرد جمع ہو گئے۔ اس لیے مسئلہ صرف مذہب کے رد یا قبول کا نہیں، مرکزِ وفا کی صحت کا ہے۔

نیا پن ہمیشہ نجات نہیں لاتا، کبھی وہ پرانے شرک کو زیادہ دل کش بنا دیتا ہے۔

اندیشه اش:

یہ سب کچھ محض تلوار یا طاقت سے نہ ہوا، بلکہ سوچ اور نظریے کے ذریعے ہوا۔ اقبال اس بات کو بہت اہم سمجھتے ہیں کہ سب سے خطرناک بت وہ ہے جو ذہن میں نصب ہو جائے۔ ایک بار اگر فکر یہ مان لے کہ اقتدار خود خیر ہے، یا قوم ہر اصول سے بالاتر ہے، تو پھر دل اور نظام دونوں اسی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اندیشے کی اصلاح عبادت گاہ کی اصلاح سے کم ضروری نہیں۔

خیال کا بت ٹوٹے بغیر کردار کا سجدہ سیدھا نہیں ہو سکتا۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دنیا بھر میں کئی نئے بت موجود ہیں: قوم، منڈی، شہرت، طاقت، ریاست، شناخت، جماعت، اور نفس۔ اقبال کا شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ توحید کا مطلب صرف زبان سے ایک خدا مان لینا نہیں، بلکہ ان تمام جھوٹے مراکز کو بھی پہچاننا ہے جنہیں انسان دل میں معبود بنا لیتا ہے۔ اگر ہم نے ان نئے بتوں کو مقدس بنا دیا تو آزر کا پیشہ ختم نہیں ہوا، صرف اس کی ورکشاپ جدید ہو گئی ہے۔

اسلامی خودی کا کام صرف سجدہ کرنا نہیں، اپنے دل اور زمانے کے بتوں کو توڑنا بھی ہے۔

مثال

اگر کوئی معاشرہ اس درجے پر پہنچ جائے کہ قوم یا ریاست کے نام پر ہر سوال، ہر انصاف اور ہر اخلاقی اعتراض خاموش کر دیا جائے، تو سمجھنا چاہیے کہ وہاں ایک نیا بت تراش لیا گیا ہے اور لوگ اس کے سامنے دل سے جھکنے لگے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق اس جدید سیاسی فکر نے آزر کی طرح ایک نیا بت تراشا۔ یہ بت پتھر کا نہیں، اقتدار، قوم اور مصلحت کے نظریاتی تقدس کا بت تھا، جسے تہذیب نے معبودانہ مقام دے دیا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button