رموز بے خودی

در شریعت معنی دیگر مجو

در شریعت معنی دیگر مجو

غیر ضو در باطن گوهر مجو

ترجمہ

شریعت میں کوئی دوسرا معنی مت تلاش کر، اور اس گوہر کے باطن میں اس کی روشنی کے سوا کچھ اور نہ ڈھونڈ۔

تشریح

اس شعر سے علامہ اقبال بخش ۱۹ کا موضوع کھولتے ہیں۔ پچھلے باب میں انہوں نے انحطاط کے دور میں جمعیت، تقلید اور قرآنی ربط کی ضرورت بیان کی تھی، اور اب وہ اس ربط کے حقیقی سرچشمے یعنی شریعت کی طرف لے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ شریعت میں “معنی دیگر” مت تلاش کرو، یعنی اس کو اس کی الٰہی حقیقت سے ہٹا کر کوئی ایسا مطلب نہ دو جو اس کے اصل مقصد سے بیگانہ ہو۔ پھر دوسری سطر میں وہ ایک نہایت لطیف تمثیل لاتے ہیں: شریعت ایک گوہر ہے، اور اس کے باطن میں اسی کی روشنی ہے؛ وہاں کوئی خارجی، بے جوڑ یا مصنوعی معنی تلاش کرنا گمراہی ہے۔ شعر کے مطابق:

شریعت کا صحیح مفہوم:

اقبال کے نزدیک شریعت محض قانونی بندش یا ظاہری احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ منظم راہ ہے جو انسان کے ظاہر و باطن، فرد و ملت، عبادت و تہذیب اور اخلاق و اجتماع سب کو ایک سمت دیتی ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی “معنی دیگر” مت تلاش کرو، تو مراد یہ ہے کہ شریعت کو خواہش، مرعوبیت، محض فلسفیانہ کھیل، یا نفسانی آزادی کے مطابق از سر نو معنی نہ پہنائے جائیں۔

شریعت کی حرمت اسی میں ہے کہ اسے اس کے اپنے الٰہی محل میں سمجھا جائے، نہ کہ انسانی پسند کے تابع بنا دیا جائے۔

معنی دیگر کیوں خطرناک ہے:

جب کسی الٰہی چیز کے لیے “معنی دیگر” تراشا جاتا ہے تو اصل میں انسان اپنے ذوق کو وحی پر حاکم بنانے لگتا ہے۔ کبھی وہ شریعت کو صرف رسم بنا دیتا ہے، کبھی صرف باطن کی چیز کہہ کر ظاہر سے جدا کر دیتا ہے، اور کبھی اسے زمانے کے دباؤ کے مطابق کھینچتا اور موڑتا ہے۔ اقبال اسی تحریفِ ذوق سے خبردار کرتے ہیں۔

یہاں ان کی تنبیہ صرف فقہی نہیں، روحانی بھی ہے: اگر معنی بدل جائے تو تعلق بھی بدل جاتا ہے، اور اگر تعلق بدل جائے تو زندگی کی سمت بھی بدل جاتی ہے۔

باطنِ گوہر میں ضو:

“گوہر” کی تمثیل شریعت کی قدر، لطافت اور الٰہی ساخت کو ظاہر کرتی ہے۔ موتی کے باطن میں روشنی، چمک اور ایک خاص صفا ہوتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس گوہر کے باطن میں “ضو” یعنی نور، لمعان اور معنوی روشنی کے سوا کچھ اور نہ ڈھونڈو۔ مطلب یہ کہ شریعت کے اندر روشنی ہے، حکمت ہے، زندگی ہے، یقین ہے؛ اسے بے روح سختی یا محض بوجھ سمجھنا اس گوہر کے باطن سے ناواقف ہونا ہے۔

گویا شریعت کی اندرونی حقیقت نورانی ہے، اور اسی نور کو پا کر دل و ملت دونوں سنورتے ہیں۔

ظاہر و باطن کا ربط:

اس شعر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اقبال ظاہر اور باطن کو جدا نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ گوہر کے ظاہر کو چھوڑ کر صرف باطن دیکھو، یا باطن کو چھوڑ کر صرف شکل پکڑو۔ بلکہ وہ باطن کی روشنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوری تمثیل کو شریعت کے گرد قائم کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کا ظاہر اور اس کا باطن ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی گوہر کی دو جہتیں ہیں۔

اسی جامع نگاہ کے بغیر یا تو ظاہر خشک ہو جاتا ہے یا باطن بے قاعدہ۔

آج کے لیے سبق:

آج دو انتہائیں دکھائی دیتی ہیں: کچھ لوگ شریعت کو محض سخت ضابطہ سمجھتے ہیں، اور کچھ اسے باطنی آزادی کے نام پر بے صورت کرنا چاہتے ہیں۔ اقبال دونوں کو روکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شریعت کو اس کے الٰہی معنی کے ساتھ سمجھو؛ اس کے باطن میں نور تلاش کرو، نہ کہ اپنی خواہش کا نیا فلسفہ۔

یہ شعر ہمیں شریعت کے ساتھ ادب، اعتماد اور صحیح فہم کا تعلق سکھاتا ہے۔

مثال

جیسے ایک قیمتی نگینہ اپنی اصل چمک کے ساتھ ہی پہچانا جاتا ہے، اگر کوئی اس پر مصنوعی رنگ چڑھائے تو اس کی حقیقت چھپ جاتی ہے، ویسے ہی شریعت پر من گھڑت معنی چڑھانے سے اس کا اصل نور اوجھل ہو جاتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں فرماتے ہیں کہ شریعت کو اس کے اصل الٰہی معنی کے ساتھ سمجھنا چاہیے اور اس کے باطن میں اسی کی نورانیت کو تلاش کرنا چاہیے۔ من گھڑت تعبیرات اس گوہر کی حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button