تا سیاست مسند مذهب گرفت
تا سیاست مسند مذهب گرفت
این شجر در گلشن مغرب گرفت
ترجمہ
جب سیاست نے مذہب کی مسند سنبھال لی تو یہ درخت مغرب کے گلشن میں جڑ پکڑ گیا۔
تشریح
اقبال اس شعر میں جدید قومیّت کے تاریخی اور فکری پس منظر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شجر، یعنی وطن پرستی اور نئی قومیّت، اُس وقت مغرب میں پروان چڑھا جب سیاست نے مذہب کی مسند پر قبضہ کر لیا۔ مراد یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کا مقدس مرکز بدل گیا۔ پہلے مذہب انسان کو مقصد، اخلاق، حتمی معیار اور وسیع تر ربط دیتا تھا، مگر جب سیاست نے اسی مقام کو لے لیا تو طاقت، مفاد اور ریاستی ترجیحات نے مقدس حیثیت اختیار کر لی۔ شعر کے مطابق:
مسندِ مذہب:
مسندِ مذہب صرف علما یا عبادت گاہ کی کرسی نہیں، بلکہ وہ بلند مقام ہے جہاں سے انسان اپنی زندگی کے آخری معنی، خیر و شر کے پیمانے، اور وفاداری کے اصول اخذ کرتا ہے۔ مذہب جب اپنی اصل صحت میں موجود ہو تو وہ سیاست کو بھی اخلاقی جواب دہی کے تحت رکھتا ہے۔ اقبال کے نزدیک مسئلہ وہاں شروع ہوا جہاں سیاست نے خود کو اسی بلند مقام پر بٹھا لیا اور یوں ریاستی مفاد نے اخلاقی مطلقات کی جگہ لے لی۔
جب فیصلہ کن مقام بدل جائے تو پوری تہذیب کی روحانی سمت بھی بدل جاتی ہے۔
سیاست مسند پر کیوں آئی:
اقبال یہ نہیں کہہ رہے کہ سیاست اپنی جگہ بے معنی ہے۔ سیاست اجتماعی نظم کی ضرورت ہے۔ اعتراض یہ ہے کہ اسے اس درجے تک اٹھا دیا گیا کہ گویا وہی نجات، وہی سچ، وہی حتمی وفاداری، اور وہی مقدس نظم ہے۔ اس کے بعد قوم، ریاست، طاقت اور مصلحت نے وہ حیثیت اختیار کر لی جو پہلے خدا، اخلاق اور دین کے اعلیٰ معیارات کی تھی۔
سیاست جب خادم رہے تو نظم پیدا کرتی ہے، اور جب معبود بن جائے تو روح کو زخمی کرتی ہے۔
این شجر:
یہی وہ شجر ہے جس کے بارے میں اقبال پچھلے اشعار میں بتا رہے تھے کہ اس نے جنت چھین لی اور پیکار کی تلخی پیدا کی۔ اب وہ اس کی جڑ دکھاتے ہیں۔ قومیّت کا درخت صرف قومی جذبات سے نہیں اگا؛ اسے اس تبدیلی نے غذا دی کہ اجتماعی شعور کا قبلہ مذہبی اور اخلاقی مرکز سے ہٹ کر سیاسی مرکز کی طرف ہو گیا۔ پھر وطن پرستی محض ایک سماجی عادت نہیں رہی بلکہ تقریبا مقدس تصور بن گئی۔
خراب پھل کی جڑ اکثر مرکزِ وفا کی خاموش تبدیلی میں ملتی ہے۔
گلشنِ مغرب:
مغرب کا گلشن کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ پورا عمل یورپی تاریخ کی مخصوص زمین میں پیش آیا۔ وہاں مذہبی کمزوری، کلیسائی بحران، سیاسی کشمکش اور قومی ریاستوں کے عروج نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا جہاں سیاست نے مذہبی مقام چھین لیا۔ اقبال اس تاریخی تجربے کو محض مغرب کی کہانی نہیں رہنے دیتے، بلکہ اس کے نتائج سے پوری دنیا کو خبردار کرتے ہیں۔
ایک خطے کی فکری بیماری اگر چمکدار ہو تو دوسروں کو بھی اپنے رنگ میں لے سکتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سے معاشروں میں سیاست صرف انتظام کا نام نہیں رہی، بلکہ لوگوں کی آخری وفاداری، آخری زبان اور آخری پہچان بن چکی ہے۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر سیاست اخلاقی مرکز پر بیٹھ جائے تو وہ قوم، ریاست اور مفاد کو اس حد تک بلند کر دیتی ہے کہ سچائی، انصاف اور اخوت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ہمیں سیاست کی ضرورت ہے، مگر اسے دین، اخلاق اور حق کے تابع رہنا چاہیے۔
اسلامی خودی سیاست کو اختیار کرتی ہے، مگر اسے مسندِ مذهب پر نہیں بٹھاتی۔
مثال
جب لوگ حق یا باطل کا فیصلہ اس بنیاد پر کرنے لگیں کہ ان کی جماعت، ریاست یا قومی مفاد کیا کہتا ہے، نہ کہ اصول، انصاف اور اخلاق کیا تقاضا کرتے ہیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ سیاست نے مسندِ مذہب پر جگہ لے لی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک جدید قومیّت کا درخت اُس وقت مغرب میں جڑ پکڑ گیا جب سیاست نے مذہب کے اخلاقی اور روحانی مقام پر قبضہ کر لیا۔ یہی تبدیلی وطن پرستی کو ایک مقدس سیاسی عقیدے میں بدلنے کا سبب بنی۔