گفت شه از کرده خجلت برده ام
گفت شه از کرده خجلت برده ام
اعتراف از جرم خود آورده ام
ترجمہ
بادشاہ نے کہا: میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں، اور اپنے جرم کا اعتراف کرنے آیا ہوں۔
تشریح
یہ شعر حکایت کے اندر اخلاقی انقلاب کی باقاعدہ تکمیل ہے۔ پہلے سلطان کے چہرے پر شرمندگی تھی، اب زبان پر اعتراف آ گیا۔ اقبال کے نزدیک عظمت صرف غلبے میں نہیں بلکہ سچ کے سامنے جھکنے میں بھی ہے۔ بادشاہ جب اپنے جرم کو تسلیم کرتا ہے تو وہ دراصل عدل کی بالادستی کو اپنے اختیار پر مقدم کر دیتا ہے۔ شعر کے مطابق:
خجلت کا اقرار:
“از کرده خجلت برده ام” میں صرف رسمی معذرت نہیں، ایک اندرونی شکست بول رہی ہے۔ اقبال یہ دکھاتے ہیں کہ جرم کی سچی پہچان صرف قانونی دباؤ سے نہیں، ضمیر کی بیداری سے پیدا ہوتی ہے۔ بادشاہ اپنے فعل سے الگ ہو کر اسے دیکھنے لگا ہے، اسی لیے شرمندگی زبان تک آ سکی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اقتدار کا غرور سچ کے سامنے پگھلنا شروع کرتا ہے۔
اعترافِ جرم:
اقرار کا مطلب یہ ہے کہ سلطان نہ دلیل بازی کر رہا ہے، نہ ذمہ داری ٹال رہا ہے، نہ کسی اور پر الزام ڈال رہا ہے۔ وہ جرم کو اپنی ذات سے نسبت دے رہا ہے۔ اسلامی اخلاق میں یہ ایک بڑی بات ہے، کیونکہ نفس کی سب سے عام چال یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ظلم کو توجیہات کے پردے میں چھپا لے۔ اقبال اس کے برعکس سچا اعتراف دکھاتے ہیں۔
جو شخص اپنے جرم کا نام لے لے، وہ اصلاح کی راہ پر قدم رکھ چکا ہوتا ہے۔
سلطانی وقار کی نئی تعریف:
عام تصور میں بادشاہ کی عزت اس بات میں سمجھی جاتی ہے کہ وہ کبھی نہ جھکے، کبھی نہ مانے، کبھی نہ ہارے۔ اقبال اس تصور کو بدل دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل وقار یہ ہے کہ انسان حق کے آگے جھک جائے، خواہ وہ سلطان ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح اعتراف ذلت نہیں رہتا بلکہ اخلاقی بلندی بن جاتا ہے۔
یہی اسلامی تہذیب کی وہ لطافت ہے جس میں طاقت اور توبہ ایک دوسرے کی ضد نہیں بنتے۔
مساوات کا اخلاقی کمال:
اسلامی مساوات صرف ادارہ جاتی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ اگر بادشاہ عدالت میں حاضر ہو مگر اندر سے انا پر قائم رہے تو برابر کھڑا ہونا کافی نہیں۔ مگر جب وہ خود کہے کہ میں جرم کے اعتراف کے لیے آیا ہوں، تو برابری کی روح مکمل ہو جاتی ہے۔ یہاں طاقت ور نے خود اپنے لیے وہی معیار قبول کر لیا ہے جو عام انسان کے لیے ہوتا ہے۔
یہ داخلی رضا ہی قانون کی حرمت کو مزید روشن کرتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج دنیا میں بہت سے بااختیار لوگ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے تکنیکی دفاع، سیاسی بیان یا لفظی چالبازی سے کام لیتے ہیں۔ اقبال سکھاتے ہیں کہ اصل اخلاقی عظمت اس میں ہے کہ جرم واضح ہو تو اسے مان لیا جائے۔ ایسا اقرار نہ صرف فرد کی اصلاح کرتا ہے بلکہ اداروں اور معاشروں میں اعتماد بھی پیدا کرتا ہے۔
جو طاقت اپنے اوپر سچ برداشت نہ کر سکے، وہ آخرکار دوسروں پر بھی انصاف قائم نہیں رکھ سکتی۔
مثال
کسی بڑے افسر یا سربراہ کا یہ کہنا کہ فیصلہ غلط تھا، ذمہ داری میری ہے، اور میں اصلاح کے لیے حاضر ہوں، ایک ادارے کے اخلاقی ماحول کو بدل سکتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال دکھاتے ہیں کہ سلطان کی اصل عظمت اپنے جرم کے اعتراف میں ظاہر ہوتی ہے۔ سچا اقرار اسلامی مساوات کی اس روح کو مکمل کرتا ہے جس میں طاقت بھی حق کے سامنے سر جھکا دیتی ہے۔
