پیش قرآن بنده و مولا یکی است
پیش قرآن بنده و مولا یکی است
بوریا و مسند دیبا یکی است
ترجمہ
قرآن کے سامنے بندہ اور آقا ایک ہیں، اور بوریے کی چٹائی اور ریشمی تخت ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔
تشریح
یہ شعر اس پوری حکایت کا آخری اور جامع فیصلہ ہے۔ اقبال اب واقعے کی تفصیل سے نکل کر اس کے کلی اصول کو بیان کرتے ہیں۔ قرآن کے سامنے بندہ اور مولا، فقیر اور سلطان، غلام اور آزاد، بوریا اور دیبا، سب اپنے ظاہری امتیازات کھو کر ایک مشترک انسانی سطح پر آ جاتے ہیں۔ یہی اسلامی مساوات کا جوہر ہے۔ شعر کے مطابق:
پیش قرآن کی معنویت:
اہم بات “پیش قرآن” ہے۔ اقبال انسانوں کو آپس میں برابر نہیں کہہ رہے کسی مبہم اخلاقی خواہش کی بنا پر، بلکہ ایک بلند تر میزان کے سامنے ان کی برابری دکھا رہے ہیں۔ جب سب ایک کتاب، ایک حکم، ایک رب اور ایک قانون کے سامنے کھڑے ہوں تو دنیاوی فاصلوں کا جادو ٹوٹ جاتا ہے۔
اسلامی مساوات کی جڑ یہی توحیدی مرکزیت ہے۔
بنده و مولا:
بندہ اور مولا کے درمیان تاریخ، سماج اور معیشت کے بڑے فرق ہو سکتے ہیں، مگر قرآن ان فرقوں کو آخری معیار نہیں مانتا۔ اقبال یہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کی بنیادی حرمت اور جواب دہی مشترک ہے۔ جو آقا ہے وہ بھی بندہ ہے، اور جو بندہ ہے وہ بھی خدا کے سامنے صاحبِ کرامت ہے۔
اسی لیے اسلام میں فوقیت کا معیار نسب، دولت یا مسند نہیں، تقویٰ، عدل اور عمل بنتا ہے۔
بوریا اور مسند دیبا:
بوریہ سادگی، فقر اور عام زندگی کی علامت ہے، جبکہ مسندِ دیبا جاہ، آسائش اور سلطانی شان کا نشان۔ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن کے سامنے یہ دونوں ایک ہیں۔ مطلب یہ نہیں کہ معاشرتی حالات مٹ جاتے ہیں، بلکہ یہ کہ حق اور قانون کے فیصلے میں ان کی کوئی فیصلہ کن برتری باقی نہیں رہتی۔
یہ مصرع مادی تفاخر پر ایک نہایت خوب صورت اور قاطع ضرب ہے۔
حکایت کا خلاصہ:
ساری حکایت کو اگر اس شعر میں سمیٹا جائے تو یہی بنتا ہے: ایک معمار زخمی ہوا، قاضی نے سلطان کو بلایا، قرآن کی ہیبت غالب آئی، قصاص کا اصول قائم ہوا، اور پھر احسان نے معاملہ بلند کر دیا۔ ان سب مراحل کے پیچھے یہی ایک حقیقت تھی کہ قرآن کسی کا خون زیادہ قیمتی اور کسی کا حق کم قیمتی نہیں مانتا۔
اسی لیے اقبال اس شعر کو اختتام نہیں، ایک دائمی اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا میں طبقاتی فرق، ادارہ جاتی طاقت، سرمایہ، شہرت، منصب، یونیفارم، خاندانی نام اور سیاسی اثر بہت کچھ طے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر کوئی معاشرہ واقعی اسلامی روح رکھنا چاہتا ہے تو اسے قرآن کے سامنے ان سب کو ثانوی بنانا ہوگا۔ قانون، عزت، جان اور سماعت کے حق میں بوریہ اور دیبا ایک ہوں، تبھی مساوات حقیقت بنے گی۔
یہ شعر آج بھی ہر عدالت، ہر ریاست اور ہر دینی دعوے کے سامنے ایک آئینہ رکھتا ہے۔
مثال
جب کسی ادارے میں فیصلہ کرتے وقت یہ نہ دیکھا جائے کہ سامنے عام ملازم ہے یا بڑا چیئرمین، بلکہ یہ دیکھا جائے کہ حق کس کے ساتھ ہے، تو بوریہ اور دیبا واقعی ایک ہو جاتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس آخری شعر میں پوری حکایت کا اصولی نتیجہ بیان کرتے ہیں: قرآن کے سامنے سب انسان برابر ہیں۔ طبقہ، تخت، لباس اور ظاہری شان قانون اور حرمت کی میزان میں کوئی اضافی وزن نہیں رکھتے۔
