رموز بے خودی

آن هنرمندی که دستش سنگ سفت

آن هنرمندی که دستش سنگ سفت

داستان جور سلطان باز گفت

ترجمہ

وہ ہنرمند، جس کا ہاتھ سخت پتھر کو بھی قابو میں رکھتا تھا، اس نے سلطان کے ظلم کی داستان کھول کر بیان کر دی۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ایک نہایت معنی خیز تبدیلی دکھاتے ہیں۔ ابھی تک معمار کا ہاتھ تعمیر، صنعت اور محنت کی علامت تھا؛ اب وہی معمار ظلم کا گواہ بن کر زبان کھولتا ہے۔ جس شخص کا ہاتھ پتھر کو تراش سکتا تھا، وہ اب حق کو لفظوں میں تراش رہا ہے۔ اقبال کے نزدیک اسلامی مساوات صرف اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہنرمند انسان کو ظلم کے خلاف بولنے کا حق اور حوصلہ بھی حاصل ہو۔ شعر کے مطابق:

ہنرمند کی پہچان باقی ہے:

اقبال معمار کو اس کے زخم سے نہیں، اس کے ہنر سے یاد کرتے ہیں۔ وہ “بیچارہ” بھی تھا، زخمی بھی تھا، مگر یہاں پھر “ہنرمندی” کی نسبت سے سامنے آتا ہے۔ یہ ایک بڑا اخلاقی نکتہ ہے: ظلم کسی انسان کی اصل قدر کو ختم نہیں کر دیتا۔ معمار کا ہاتھ زخمی ہوا، مگر اس کی ہنری شناخت باقی رہی۔

گویا طاقت جسم کو کمزور کر سکتی ہے، مگر حقیر نہیں بنا سکتی، جب تک خودی زندہ ہو۔

سنگ سفت کا استعارہ:

“دستش سنگ سفت” میں محض جسمانی قوت مراد نہیں، بلکہ مہارت، ثبات اور صبر بھی شامل ہیں۔ جو ہاتھ سخت پتھر کو تراشتا ہے، وہ جلد گھبرانے والا ہاتھ نہیں۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ یہ معمار محض فریادی نہیں، وہ ایک پختہ مزاج انسان ہے جس نے زندگی بھر سخت مادّے سے معاملہ کیا ہے۔ اسی لیے جب ظلم ہوتا ہے تو وہ سچائی کا بوجھ بھی اٹھا سکتا ہے۔

فن انسان کے باطن میں بھی ایک قسم کی استقامت پیدا کرتا ہے۔

داستانِ جور کا بیان:

“باز گفت” یعنی اس نے کھول کر بیان کیا، چھپایا نہیں، دبا کر نہیں کہا، اشارے میں نہیں چھوڑا۔ یہ اسلامی عدالت کی ایک بنیادی شرط ہے کہ مظلوم کو اپنی کہانی پوری طرح کہنے دی جائے۔ اقبال کے یہاں بیان کرنا محض بولنا نہیں، ظلم کو پردے سے باہر لانا ہے۔ جب ظلم لفظوں میں آتا ہے تو وہ اجتماعی شعور کے سامنے جواب دہ ہونے لگتا ہے۔

خاموش مظلوم کا زخم ذاتی رہ جاتا ہے، مگر بولتا ہوا مظلوم حق کو اجتماعی مسئلہ بنا دیتا ہے۔

زبان اور ہاتھ کا تعلق:

اقبال کی تصویری قوت یہاں بہت خوب صورت ہے۔ پہلے ہاتھ سے مسجد بنتی ہے، پھر ہاتھ کٹتا ہے، پھر زبان عدالت میں کھلتی ہے۔ گویا جب طاقت نے ہاتھ کو روکا تو حق نے زبان کو حرکت دی۔ اس ترتیب میں یہ سبق ہے کہ انسان کی کرامت ایک ہی ذریعے پر موقوف نہیں۔ اگر ایک در بند ہو جائے تو حق دوسرے دروازے سے ظاہر ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی مساوات صرف روزی کی حفاظت نہیں، اظہارِ حق کی حفاظت بھی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے ہنرمند، کارکن اور عام لوگ اس لیے خاموش رہتے ہیں کہ ان کے سامنے طاقت ور فریق کھڑا ہوتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر سکھاتا ہے کہ مہارت رکھنے والا انسان محض کام کرنے کے لیے نہیں، اپنے حق کے دفاع کے لیے بھی باوقار ہے۔ اگر ظلم کو زبان نہ دی جائے تو وہ روایت بن جاتا ہے۔

انصاف کا پہلا قدم اکثر یہی ہوتا ہے کہ مظلوم ڈر کے باوجود سچ پوری طرح بیان کرے۔

مثال

کسی فیکٹری کا ماہر کارکن اگر حادثے یا ظلم کے بعد ادارے کے خلاف گواہی دیتا ہے تو وہ صرف اپنی شکایت نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ پورے نظام کو ایک سچ کے سامنے لا رہا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق سچا ہنرمند صرف تعمیر کرنے والا نہیں، ظلم کے خلاف بولنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ معمار کا قصہ سنانا اسلامی مساوات کی اس روح کو ظاہر کرتا ہے جس میں محنت کش انسان کو زبانِ حق کا پورا حق حاصل ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button