گرچه جابان دشمن ما بوده است
گرچه جابان دشمن ما بوده است
مسلمی او را امان بخشوده است
ترجمہ
اگرچہ جابان ہمارا دشمن رہا ہے، مگر ایک مسلمان اسے امان دے چکا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں حکایت کا فیصلہ کن قانونی اور اخلاقی نکتہ سامنے رکھتے ہیں۔ دشمنی اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے، مگر امان اس پر غالب آ گئی ہے۔ یہی محمدی تہذیب کی عظمت ہے کہ وہ دشمنی کو بھی ضابطے کے دائرے میں رکھتی ہے۔ شعر کے مطابق:
دشمنی کا انکار نہیں:
ابوعبید یہ نہیں کہتے کہ جابان دشمن نہیں تھا، یا اس کا فریب غلط نہ تھا۔ وہ حقیقت کو چھپاتے نہیں۔ اقبال اس سے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اخلاقی فیصلہ دینے کے لیے حقیقت کا انکار ضروری نہیں ہوتا۔ دشمن دشمن ہے، مکر مکر ہے، جنگ جنگ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ان حقائق کے باوجود شریعت کیا حکم دیتی ہے۔
یعنی صداقت اور اصول دونوں ایک ساتھ قائم رہتے ہیں۔
امان کی برتری:
“مسلمی او را امان بخشوده است” اس پورے باب کا مرکزی نکتہ ہے۔ ابوعبید فرد کے فعل کو وزنی بنا کر کہتے ہیں کہ چونکہ ایک مسلمان امان دے چکا، اس لیے اب اس امان کی حرمت باقی ہے۔ دشمنی بعد میں نہیں، امان کے بعد ثانوی ہو جاتی ہے۔
یہ قوتِ شریعت ہے کہ وہ غصے اور فائدے کے وقت بھی حد قائم رکھتی ہے۔
اسلامی وقار کا معیار:
یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی وقار دشمن پر غالب آنے میں ہی نہیں، بلکہ غالب آ کر بھی اپنے عہد سے نہ پھرنے میں ہے۔ اگر مسلمان اپنے وعدے کو دشمن کی اہمیت، فریب یا کمزوری کے حساب سے بدل دے تو اس کا اخلاقی وزن گھٹ جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک امان کی وفاداری ہی ملت کی اصل برتری ہے۔
قوت کی اصل شرافت اسی میں ہے کہ وہ خود اپنے لیے حد مقرر رکھے۔
فردی امان، اجتماعی ذمہ داری:
ابوعبید کے جواب سے واضح ہوتا ہے کہ فردی امان ملت کے ضمیر میں محفوظ ہے۔ یہ صرف شخصی رعایت نہیں، پوری جماعت کا اخلاقی مسئلہ ہے۔ اگر یہ دروازہ کھل جائے کہ بعد میں مصلحت کے تحت امان توڑ دی جائے، تو ملت کی اخلاقی ساکھ ٹوٹ جائے گی۔
اسی لیے دشمنی کی یاد دہانی کے باوجود فیصلہ امان کے حق میں ہوتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ چونکہ سامنے والا برا تھا، اس لیے وعدہ توڑنا یا سختی کرنا اب جائز ہو گیا۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اسلام دشمنی کے باوجود اپنے عہد کی پاسداری سکھاتا ہے۔ اگر عہد دشمن دیکھ کر بدلے تو پھر وہ عہد نہیں رہتا۔
یہی اصول ذاتی تعلقات، تجارت، سیاست اور اجتماعی معاملات سب میں یکساں وزنی ہے۔
مثال
اگر کسی مقدمے میں مخالف شخص واقعی خراب کردار کا حامل ہو، تب بھی جج یا ثالث کو اپنے اصول کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ذاتی ناپسندیدگی کے مطابق۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق دشمنی ایک حقیقت ہے، مگر امان اس سے بڑی ذمہ داری ہے۔ محمدی ملت کی اصل برتری یہی ہے کہ وہ مخالف کے فریب کے باوجود اپنے وعدے اور حرمت کو نہیں توڑتی۔