رموز بے خودی

شاه رمز آگاه شد محو نماز

شاه رمز آگاه شد محو نماز

خیمه بر زد در حقیقت از مجاز

ترجمہ

وہ بادشاہ، جو حقیقت کے رمز سے آگاہ تھا، نماز میں محو ہو گیا اور مجاز سے اٹھ کر حقیقت میں اپنا خیمہ گاڑ دیا۔

تشریح

یہ شعر پوری حکایت کے روحانی مرکز کو سامنے لاتا ہے۔ اقبال اب صاف بتا دیتے ہیں کہ عالمگیر کی اصل طاقت اس کے منصب، اس کی تلوار یا اس کے نام میں نہیں، بلکہ اس نسبت میں ہے جو اسے نماز کے ذریعے حقیقت سے جوڑتی ہے۔ “محوِ نماز” اور “حقیقت از مجاز” جیسی تعبیرات اس واقعے کو محض تاریخی قصہ نہیں رہنے دیتیں بلکہ اسے ایک باطنی سبق بنا دیتی ہیں۔ شعر کے مطابق:

رمز آگاه بادشاہ:

ہر بادشاہ بادشاہی جانتا ہے، مگر ہر بادشاہ “رمز” نہیں جانتا۔ رمز آگاهی سے مراد یہ ہے کہ انسان ظاہر کے پیچھے کارفرما اصل معنویت کو پہچانتا ہو۔ اقبال کے نزدیک عالمگیر اس لیے اہم ہے کہ وہ اقتدار کے ظاہری مفہوم سے آگے بڑھ کر زندگی کے باطنی راز، یعنی بندگی، حقیقت اور خدا کے ساتھ نسبت کو سمجھتا ہے۔

اس آگاہی کے بغیر بادشاہی صرف نقش و نگار رہ جاتی ہے، مگر رمز آگاهی اسے ایک امتحان اور امانت بنا دیتی ہے۔

نماز میں محویت:

نماز اقبال کے ہاں محض فریضہ نہیں، معراج، مرکز اور شخصیت کی تشکیل کا سرچشمہ ہے۔ “محوِ نماز” ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کچھ دیر کے لیے اپنے منصب، اپنے خوف، اپنی تدبیروں اور اپنی ظاہری شناخت سے اوپر اٹھ کر مکمل طور پر خدا کے حضور حاضر ہو جائے۔

یہ محویت فرار نہیں بلکہ اصل رجوع ہے۔ جس نے یہ نسبت پا لی، اس کے دل میں ایک ایسی مرکزیت پیدا ہوتی ہے جو دنیا کے بڑے سے بڑے خطرے میں بھی برقرار رہ سکتی ہے۔

مجاز سے حقیقت کی طرف:

مجاز دنیا کی وہ سطح ہے جہاں چیزیں اپنے ظاہری پردوں میں نظر آتی ہیں: تاج، تخت، فوج، شکار، جنگل، خطرہ۔ حقیقت وہ باطنی نسبت ہے جہاں یہ سب ایک اعلیٰ معنی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ عالمگیر نے نماز میں گویا مجاز سے خیمہ اٹھا کر حقیقت میں اپنا پڑاؤ ڈال دیا۔

یعنی اس لمحے میں اس کی اصل رہائش خدا کے قرب میں تھی، نہ کہ صرف دنیاوی ماحول میں۔ یہی بات آگے آنے والے خطرے میں اس کے ردعمل کو معنی دے گی۔

اقبال کا عملی تصوف:

یہ شعر اقبال کے اس تصوف کو واضح کرتا ہے جو زندگی سے کٹا ہوا نہیں۔ نماز میں محویت انسان کو میدان سے بھگاتی نہیں بلکہ اسے میدان کے لیے زیادہ سچا اور مضبوط بناتی ہے۔ عالمگیر جنگل میں ہے، مگر وہیں حقیقت سے جڑ رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اور عمل ایک ہی شخصیت میں جمع ہو سکتے ہیں۔

اسی جمعیت کو اقبال مردِ مومن کی پہچان سمجھتے ہیں۔

ہمارے لیے پیغام:

آج انسان کا بڑا مسئلہ یہی ہے کہ وہ مجاز میں گم ہو جاتا ہے: عہدے، مشغلے، خوف، تعلقات اور فوری پریشانیاں اس پر اس قدر چھا جاتی ہیں کہ حقیقت کا شعور کمزور پڑ جاتا ہے۔ اقبال اس شعر کے ذریعے یاد دلاتے ہیں کہ نماز انسان کو بار بار حقیقت کی طرف واپس لاتی ہے۔ جو دل وہاں آباد ہو جائے، وہ دنیا کے مجازات کا غلام نہیں رہتا۔

اس لیے یہ شعر صرف عالمگیر کی تعریف نہیں، ہماری اپنی نجات کا راستہ بھی ہے: نماز کے ذریعے حقیقت میں خیمہ زن ہونا۔

مثال

کسی شدید دباؤ والے دن میں بھی اگر انسان سچے حضورِ قلب کے ساتھ نماز پڑھ لے تو وہی مسئلے جو کچھ دیر پہلے پہاڑ لگ رہے تھے، ان کا وزن بدلنے لگتا ہے۔ حالات ختم نہیں ہوتے، مگر ان کا تسلط ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی مجاز سے حقیقت کی طرف ایک چھوٹا سا سفر ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک عالمگیر کی اصل قوت اس کی رمز آگاهی اور نماز میں محویت تھی۔ نماز نے اسے مجازی دنیا سے اٹھا کر حقیقت سے جوڑ دیا، اور یہی نسبت اسے خطرے کے وقت بھی باطنی استقامت عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button