همچو سرو آزاد فرزندان او
همچو سرو آزاد فرزندان او
پخته از «قالوا بلی» پیمان او
ترجمہ
اس کے فرزند سرو کی طرح آزاد ہیں، اور اس کے عہد کے پیمان سے پختہ ہوئے ہیں جو “قالوا بلی” میں لیا گیا تھا۔
تشریح
علامہ اقبال بخش ۱۰ کو نہایت حسین اختتامی تصویر پر ختم کرتے ہیں۔ محمدی امت کے فرزند سرو کی طرح آزاد ہیں: بلند، سیدھے، باوقار، اور جھکنے سے انکار کرنے والے۔ مگر ان کی آزادی بے جڑ نہیں، بلکہ اس ازلی عہد سے پختہ ہے جو انسان نے خدا کے ساتھ “قالوا بلی” کے میدان میں کیا تھا. شعر کے مطابق:
سرو کی آزادی:
سرو فارسی شاعری میں وقار، بلندی اور آزادی کی علامت ہے۔ سرو سیدھا کھڑا رہتا ہے، خمیدہ نہیں ہوتا، اور اپنی قامت میں ایک جمالیاتی وقار رکھتا ہے۔ اقبال جب امت کے فرزندوں کو سرو کہتے ہیں تو وہ ایسی آزادی مراد لیتے ہیں جو بے حیائی یا سرکشی نہیں، بلکہ باوقار استقامت ہے۔
یہ محمدی حریت کی خوب صورت ترین تصویروں میں سے ایک ہے: آزاد بھی، خوش قامت بھی، اور اپنے مرکز سے جڑا ہوا بھی۔
فرزندانِ امت کی ساخت:
یہ فرزند محض سیاسی آزادی کے وارث نہیں۔ ان کے اندر ایمانی وقار، اخوت کی روح، مساوات کا شعور اور خدا کے سامنے بندگی کا احساس بھی موجود ہے۔ اسی لیے ان کی آزادی بکھرتی نہیں بلکہ شخصیت سنوارتی ہے۔ اقبال کے نزدیک محمدی تربیت کا پھل یہی انسان ہے جو اندر سے باوقار اور باہر سے آزاد ہو۔
گویا امت کا سچا فرزند غلامی میں جینا معمول نہیں سمجھتا۔
قالوا بلی کا عہد:
“قالوا بلی” اس ازلی میثاق کی طرف اشارہ ہے جس میں انسان نے اپنے رب کی ربوبیت کا اقرار کیا۔ اقبال یہاں حریت کو اسی میثاق سے جوڑتے ہیں۔ یعنی انسان کی اصل آزادی اسی وقت قائم ہوتی ہے جب وہ یاد رکھے کہ اس کا پہلا عہد خدا کے ساتھ ہے، نہ کہ دنیا کے آقاؤں کے ساتھ۔
یہی عہد اسے جھوٹے معبودوں، ظالمانہ امتیازات اور باطل طاقتوں کے سامنے جھکنے سے بچاتا ہے۔
پختگی کا راز:
پختگی صرف وقت سے نہیں آتی، وفاداری سے بھی آتی ہے۔ جب امت کے فرزند اس ازلی عہد کو اپنے شعور میں زندہ رکھتے ہیں تو ان کی آزادی خام، جذباتی یا بے بنیاد نہیں رہتی۔ وہ “پختہ” ہو جاتی ہے، یعنی آزمائش میں بھی باقی رہتی ہے۔
اس لیے اقبال کی آزادی کا رشتہ ہمیشہ کسی بڑے اخلاقی و روحانی مرکز سے جڑا ہوتا ہے۔
آج کے لیے پیغام:
آج آزادی کے کئی دعوے ہیں، مگر بہت سی آزادیاں جڑ کے بغیر ہیں: وہ جلد خوف، خواہش یا طاقت کے سامنے جھک جاتی ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ محمدی آزادی کو سرو کی طرح سیدھا اور باوقار رہنے کے لیے “قالوا بلی” کا عہد یاد رکھنا ہوگا۔ اگر رب کے ساتھ پہلا تعلق زندہ ہو، تو انسان اور امت دونوں زیادہ پختہ ہوتے ہیں۔
یہی وہ اختتامی سبق ہے جو بخش ۱۰ کو مکمل کرتا ہے: حریت کی جڑ بندگیِ حق میں ہے۔
مثال
ایک شخص اگر اپنے اصولوں کو صرف حالات کے مطابق بدلتا رہے تو اس کی آزادی کمزور ہے۔ مگر اگر وہ کسی گہرے عہد اور سچے ضمیر سے بندھا ہو تو دباؤ میں بھی سیدھا کھڑا رہتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امت کے سچے فرزند سرو کی طرح آزاد اور باوقار ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی آزادی “قالوا بلی” کے ازلی عہد سے پختہ ہوتی ہے۔ محمدی حریت کی جڑ بندگیِ حق میں ہے، اسی سے اس کا وقار قائم رہتا ہے۔