در میان امت ان کیوان جناب
در میان امت ان کیوان جناب
همچو حرف قل هو الله در کتاب
ترجمہ
امت کے درمیان وہ بلند مرتبہ ہستی ایسی ہے جیسے کتاب میں “قل هو الله” کا حرف۔
تشریح
یہ شعر امام حسین کے مقام کو ایک نہایت لطیف قرآنی تشبیہ سے روشن کرتا ہے۔ “قل هو الله” قرآن میں توحید، خلوص، اختصار میں جامعیت، اور اصلِ دین کے صاف اعلان کی علامت ہے۔ اقبال حسین کو امت کے اندر اسی طرح قرار دیتے ہیں۔ یعنی جس طرح “قل هو الله” پورے کتابی پیغام کا لباب ہے، اسی طرح حسینیت امت کے اندر دین کے خالص، بے آمیز اور فیصلہ کن جوہر کی نمائندگی کرتی ہے۔ شعر کے مطابق:
کیوان جناب:
“کیوان” بلندی، رفعت اور فلکی مرتبے کی علامت ہے۔ اقبال امام حسین کو “کیوان جناب” کہہ کر بتاتے ہیں کہ ان کا مقام محض تاریخی احترام کا نہیں بلکہ روحانی رفعت کا ہے۔ وہ امت کے افق پر ایسا مقام رکھتے ہیں جہاں سے دین کی اصل سمت، اصل وقار اور اصل حریت کو دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ رفعت نسب، علم، عشق، قربانی اور حق کے ساتھ وفا سب کو جمع کرتی ہے۔
قل هو الله کی تشبیہ:
“قل هو الله” توحید کا نہایت جامع، خالص اور مختصر بیان ہے۔ اقبال کے نزدیک امام حسین بھی امت کے اندر اسی خلوص و فیصلہ کن وضاحت کی علامت ہیں۔ ان کی ذات میں دین کا مغز، بندگیِ حق کی صفائی، اور باطل سے غیر مصالحتی امتیاز ایک ساتھ نظر آتا ہے۔ گویا اگر کوئی امت کے اندر خالص اسلام کا ایک زندہ حرف دیکھنا چاہے تو وہ حسینیت میں اسے پا سکتا ہے۔
یہ تشبیہ حسینی مقام کو فقط جذباتی نہیں، عقیدتی و اصولی بناتی ہے۔
اختصار میں جامعیت:
جس طرح سورۂ اخلاص مختصر ہے مگر معانی میں بہت وسیع، ویسے ہی کربلا ظاہری طور پر ایک محدود واقعہ ہے مگر دین کے اصولی معانی میں بہت عظیم۔ اقبال اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حسین کی داستان کو مختصر سمجھنا غلطی ہوگی۔ اس کے اندر توحید، حریت، غیرت، وفا، قربانی، عدل اور امت کی بیداری کے بے شمار معنی جمع ہیں۔
اسی لیے حسینیت ایک واقعہ کم اور ایک اصول زیادہ ہے۔
امت کے لیے معنی:
امت کے درمیان ایسی شخصیت کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام نے اپنے باطن کی حفاظت کے لیے ایک زندہ حوالہ چھوڑا۔ جب امت الجھے، مصلحت زدہ ہو، یا باطل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے لگے، تو حسینیت اسے “قل هو الله” کی طرح اصل مرکز کی طرف لوٹا سکتی ہے۔ یہ تشبیہ ہمیں بتاتی ہے کہ حسینی نسبت محض رنج کی یاد نہیں، ہدایت کی قطب نما بھی ہے۔
حسینیت امت کے لیے خلوصِ دین کی جانچ کا معیار بن جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کے انتشار، فرقہ وارانہ کشمکش، سیاسی پراگندگی اور نظری ابہام میں امت کو ایسے اصولی حوالوں کی اشد ضرورت ہے جو اسے اصل کی طرف واپس لے جائیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ حسینیت ایسا ہی حوالہ ہے: مختصر مگر جامع، دردناک مگر روشن، تاریخی مگر ابدی۔ جس طرح “قل هو الله” ایمان کا خلاصہ ہے، ویسے ہی حسینیت حریتِ اسلامی کے خلاصے کی طرح ہے۔
اگر امت اس نسبت کو سمجھ لے تو وہ بہت سی الجھنوں کے باوجود اپنے مرکز سے کٹی نہیں رہے گی۔
مثال
کسی بڑی روایت کے اندر بعض مختصر مگر فیصلہ کن اصول ایسے ہوتے ہیں جن سے پورا مزاج سمجھا جا سکتا ہے؛ حسینیت بھی امت کے لیے ایسا ہی معیار ہے جس سے دین کے خالص رخ کو پرکھا جا سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال امام حسین کو امت کے اندر “قل هو الله” کی مانند قرار دیتے ہیں: خالص، جامع، فیصلہ کن اور اصلِ دین کے واضح ترجمان۔ حسینیت اسی لیے امت کے لیے ایک دائمی اصولی حوالہ ہے۔
