امتی از ما سوا بیگانه ئی
امتی از ما سوا بیگانه ئی
بر چراغ مصطفی پروانه ئی
ترجمہ
وہ ایک ایسی امت ہے جو ما سوا اللہ سے بیگانہ ہے، اور مصطفیٰ کے چراغ پر پروانے کی طرح فدا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال یہاں امتِ محمدیہ کی داخلی ساخت کو دو بنیادی نسبتوں میں سمیٹتے ہیں: غیر اللہ سے بیگانگی، اور مصطفوی نور پر پروانگی۔ ان کے نزدیک امت کا امتیاز یہی ہے کہ وہ باطل مراکز سے لاتعلق ہوتی ہے اور نبوی چراغ کے گرد محبت، وفاداری اور اخلاص کے ساتھ جمع ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
ما سوا سے بیگانگی:
“ما سوا” سے مراد خدا کے علاوہ وہ سب کچھ ہے جو دل کا آخری مرکز بن بیٹھے: طاقت، مال، قومیت، شہرت، نفس، یا کوئی بھی جھوٹا معبود۔ اقبال کہتے ہیں کہ محمدی امت کا اصل جوہر یہ ہے کہ وہ ان سب سے بیگانگی سیکھتی ہے۔ یہ بیگانگی نفرت نہیں بلکہ قلبی آزادی ہے۔ یعنی دل اپنا آخری سہارا غیر اللہ میں نہیں ڈھونڈتا۔
ایسی بیگانگی ہی حریت کی اصل بنیاد ہے، کیونکہ غلامی ہمیشہ باطل مرکز سے شروع ہوتی ہے۔
چراغِ مصطفیٰ پر پروانگی:
پروانہ شمع کے گرد محض گردش نہیں کرتا، اس پر فدا بھی ہوتا ہے۔ اقبال امت کو ایسا پروانہ کہتے ہیں جو مصطفیٰ کے چراغ کے گرد جمع ہے۔ اس سے مراد نبوی محبت، اتباع، اور نورِ رسالت سے کامل وابستگی ہے۔ امت کی اخوت اور مساوات کا راز بھی اسی مشترک پروانگی میں ہے۔
جب ایک جماعت کا دل ایک ہی نور کے گرد جمع ہو جائے، تو اس کی وحدت مصنوعی نہیں رہتی۔
بیگانگی اور محبت کا توازن:
اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ دو بظاہر متضاد کیفیتیں ساتھ لاتے ہیں: ما سوا سے بیگانگی، اور مصطفیٰ سے شدید تعلق۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی توازن توحیدی زندگی کا جوہر ہے۔ دل جتنا جھوٹے مراکز سے خالی ہوگا، اتنا ہی نبوی نور کے لیے جگہ پیدا ہوگی۔ اور جتنا یہ نور بڑھے گا، اتنی ہی باطل سے بیگانگی آسان ہوگی۔
گویا نفی اور اثبات دونوں امت کی حیات میں اکٹھے کام کرتے ہیں۔
امت کی اخوت کا سرچشمہ:
اگر امت مختلف قوموں، زبانوں اور نسلوں کے باوجود ایک رہ سکتی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا اجتماعی عشق ایک ہے۔ وہ سب مختلف دریا نہیں، ایک ہی چراغ کے پروانے ہیں۔ یہی مشترک عشق اخوت کو جذباتی نعرہ نہیں رہنے دیتا بلکہ زندہ ربط میں بدل دیتا ہے۔
اقبال کے نزدیک امت کی وحدت کی سب سے روشن تصویروں میں سے ایک یہی پروانگی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سی وابستگیاں امت کے دل کو تقسیم کرتی ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے: تم کس چراغ کے پروانے ہو؟ اگر دل نبوی نور کے بجائے کسی اور مرکز کے گرد گھومنے لگے تو اخوت کمزور پڑے گی۔ اگر دل ما سوا سے آزاد ہو اور چراغِ مصطفیٰ سے منور ہو تو امت پھر جمع ہو سکتی ہے۔
محمدی اخوت کا راستہ دل کے قبلے کی درستگی سے گزرتا ہے۔
مثال
ایک جماعت کے افراد تب تک دیرپا وفاداری نہیں دکھاتے جب تک ان کے پاس مشترک اور معزز مرکز نہ ہو۔ جب وہ مرکز واقعی محبوب ہو تو قربانیاں بھی آسان ہو جاتی ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق امتِ محمدیہ کا امتیاز یہ ہے کہ وہ ما سوا اللہ سے قلبی آزادی رکھتی ہے اور چراغِ مصطفوی سے گہری وفاداری۔ یہی نفی و اثبات اس کی حریت، اخوت اور وحدت کا اصل سرچشمہ ہیں۔

