رموز بے خودی

از رسالت صد هزار ما یک است

از رسالت صد هزار ما یک است

جزو ما از جزو «مالاینفک» است

ترجمہ

رسالت ہی کی بدولت ہم لاکھوں ہو کر بھی ایک ہیں، اور ہمارا ہر جزو ایک ایسے کل کا حصہ ہے جو جدا نہیں ہو سکتا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امت کی وحدت کی اصل بنیاد بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کی کثرت، تنوع، تعداد اور جغرافیائی پھیلاؤ اپنی جگہ ہیں، مگر ان سب کو ایک کرنے والی قوت رسالت ہے۔ اسی کے باعث ہماری کثرت منتشر ہجوم نہیں بنتی بلکہ ایک ایسے جسم کی مانند ہو جاتی ہے جس کے اجزا ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔ شعر کے مطابق:

صد ہزار ہو کر بھی ایک:

مسلمان تعداد، نسل، رنگ، زبان اور خطوں کے اعتبار سے بے شمار ہیں۔ اگر انہیں جوڑنے والی صرف دنیاوی بنیادیں ہوتیں تو یہ اختلافات آسانی سے بکھراؤ کا سبب بن جاتے۔ مگر اقبال کہتے ہیں کہ رسالت نے اس کثرت کے اندر ایسی وحدت پیدا کر دی ہے کہ لاکھوں ہو کر بھی ہم ایک امت ہیں۔

یہ وحدت مصنوعی نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور تاریخی ہے، کیونکہ اس کا مرکز پیغمبر کی ذات اور پیغام ہے۔

جزو اور کل کا تعلق:

“مالاینفک” کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا حصہ جو اصل سے جدا نہ ہو سکتا ہو۔ اقبال کے نزدیک امت کا ہر فرد صرف خود مختار اکیلا ذرہ نہیں، بلکہ ایک بڑے زندہ کل کا حصہ ہے۔ اس کی پہچان، ذمہ داری اور وقار اسی نسبت سے مکمل ہوتے ہیں۔

گویا فرد کو اپنی انفرادیت ملتی ہے، مگر ایسی انفرادیت جو امت کے کل سے کٹی ہوئی نہیں ہوتی۔

رسالت بطور ربطِ حیات:

یہ شعر بتاتا ہے کہ رسالت صرف خدا اور بندے کا تعلق نہیں بناتی، بلکہ بندوں کے درمیان بھی ایسا ربط قائم کرتی ہے جو انہیں ایک مشترک جسم اور مشترک شعور میں بدل دیتا ہے۔ اگر رسالت نہ ہو تو فرد اپنے نفس، اپنی قومیت یا اپنے مفاد کے گرد محدود ہو سکتا ہے، مگر رسالت اس کی نسبت کو وسیع کر دیتی ہے۔

اسی لیے اقبال کے ہاں نبوی رشتہ امت کی وحدت کی اصل روح ہے۔

وحدت اور انفرادی ذمہ داری:

یہ وحدت انفرادیت کو مٹاتی نہیں بلکہ اسے معنی دیتی ہے۔ جس طرح جسم کا ایک عضو پورے جسم سے جڑ کر اپنا کام بہتر کرتا ہے، اسی طرح امت کا فرد اپنی بڑی نسبت سے جڑ کر اپنی اصل حیثیت پاتا ہے۔ اگر وہ اس تعلق سے کٹ جائے تو اس کی قوت اور مقصد دونوں کمزور پڑ جاتے ہیں۔

لہٰذا اقبال کی وحدت ہجومیت نہیں بلکہ مربوط زندگی ہے۔

ہمارے زمانے کا سوال:

آج امت کو سب سے زیادہ جن چیزوں نے توڑا ہے، ان میں قومی، نسلی، لسانی اور سیاسی تقسیمیں شامل ہیں۔ اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ اصل نبوی نسبت اگر زندہ ہو تو کثرت بکھراؤ نہیں بنتی۔ مشکل یہ نہیں کہ ہم مختلف ہیں، مشکل یہ ہے کہ ہم اپنے مرکز سے دور ہو جائیں۔

رسالت کی طرف واپسی ہی وہ قوت ہے جو افراد اور اقوام کو پھر ایک زندہ امت بنا سکتی ہے۔

مثال

ایک جسم کے ہاتھ، آنکھ، دل اور پاؤں الگ الگ ہیں، مگر وہ سب ایک ہی جان کے تابع رہ کر کام کرتے ہیں۔ اگر ہر عضو اپنی الگ مرضی پر چلنے لگے تو جسم باقی نہیں رہتا۔ امت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق رسالت نے امت کی کثرت کو وحدت دی ہے۔ ہر فرد ایک بڑے نبوی ربط والے کل کا حصہ ہے، اور اسی تعلق میں اس کی اصل قوت اور معنی پوشیدہ ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button