رموز بے خودی

صاحب اورنگ و هم پیر کنشت

صاحب اورنگ و هم پیر کنشت

باج بر کشت خراب او نوشت

ترجمہ

تخت والا بھی اور آتش کدے کا مذہبی پیشوا بھی، دونوں نے اس تباہ حال انسان کی کھیتی پر محصول لکھ رکھا تھا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ظلم کے اس اتحاد کو اور زیادہ واضح کرتے ہیں جس میں تخت و محراب، طاقت و مذہب، اور حاکم و مذہبی پیشوا ایک ساتھ عام انسان کی کھیتی پر باج لگاتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک مسئلہ صرف حکمران کا ظلم نہیں بلکہ وہ پوری ساخت ہے جس میں انسان کی محنت ہر طرف سے نچوڑی جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:

صاحبِ اورنگ کون ہے:

“اورنگ” یعنی تخت۔ صاحبِ اورنگ سیاسی اقتدار کی علامت ہے، وہ شخص یا طبقہ جو حکم چلانے کی قوت رکھتا ہے۔ اقبال یہ نہیں کہتے کہ ہر حکومت لازماً ظالم ہے، بلکہ وہ اس بگڑی ہوئی صورت پر تنقید کرتے ہیں جہاں حکومت انسان کی خدمت کے بجائے اس کی محنت پر مسلط بوجھ بن جائے۔

جب اقتدار امانت نہ رہے تو تخت ظلم کا آلہ بن جاتا ہے۔

پیرِ کنشت کی دلالت:

“پیر کنشت” مذہبی پیشوائیت کی بگڑی ہوئی شکل کی علامت ہے۔ یہ وہ مذہبی طبقہ ہے جو انسان کی روحانی حاجت کو سمجھنے کے بجائے اس کے اوپر ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک جب مذہب بازار بن جائے، تو وہ زخمی انسان کی شفا نہیں کرتا بلکہ اس سے مزید محصول وصول کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ شاعر مذہبی اور سیاسی قوت کو ایک ساتھ لا کر ان کی مشترک ذمہ داری اور مشترک خرابی دونوں دکھاتے ہیں۔

کشتِ خراب پر باج:

کھیتی زندگی، محنت اور رزق کی علامت ہے۔ اگر وہ پہلے ہی “خراب” ہے، یعنی انسان پہلے سے بدحال، کمزور اور تباہ حال ہے، پھر بھی اس پر باج لکھا جائے، تو یہ ظلم کی انتہا ہے۔ اقبال اس تصویر سے دکھاتے ہیں کہ استحصال صرف طاقت ور اور خوش حال طبقے پر نہیں ہوتا، بلکہ اکثر سب سے زیادہ بوجھ اسی کمزور پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی شکستہ حال ہو۔

یہ تصویر معاشی ناانصافی کی گہرائی کو بہت واضح کرتی ہے۔

رسالت اور معاشی وقار:

محمدی رسالت کی مساوات صرف نظری کلام نہیں بلکہ اس میں محنت کش انسان کے وقار کی بحالی بھی شامل ہے۔ جب انسان خدا کا بندہ اور خلیفہ سمجھا جاتا ہے تو اس کی محنت صرف لوٹنے کی چیز نہیں رہتی۔ اس کا رزق، اس کا حق، اور اس کی عزت محفوظ کیے جاتے ہیں۔ اقبال اس شعر کے ذریعے بعثتِ نبوی سے پہلے کی اس محرومی کو نمایاں کرتے ہیں تاکہ بعد میں آنے والی تبدیلی کی عظمت سمجھ میں آئے۔

گویا نبوی انقلاب نے پہلے مظلوم انسان کی کھیتی کو دیکھا، پھر اس کی قدر بحال کی۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج بھی بہت سے نظام غریب اور کمزور انسان پر ہی زیادہ بوجھ ڈال دیتے ہیں: ٹیکس کی صورت، قرض کی صورت، مذہبی استحصال کی صورت، یا ادارہ جاتی ناانصافی کی صورت۔ اقبال کا شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ اگر کمزور کی خراب کھیتی پر باج لکھا جا رہا ہے تو ابھی مساوات زندہ نہیں ہوئی۔

نبوی انصاف کا تقاضا ہے کہ سب سے پہلے اسی بوجھ کو دیکھا جائے جو تباہ حال انسان پر ڈالا گیا ہے۔

مثال

اگر کسی مزدور کی آمدنی پہلے ہی کم ہو اور پھر فیس، جرمانے، دلالی اور رشوت سب اسی سے وصول کیے جائیں، تو یہ “کشتِ خراب پر باج” کی ایک واضح جدید مثال ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق بعثتِ نبوی سے پہلے طاقت اور مذہبی پیشوائیت دونوں کمزور انسان کی تباہ حال زندگی پر بوجھ ڈال رہی تھیں۔ محمدی مساوات اسی ظلم کے خاتمے اور محنت کش انسان کے وقار کی بحالی کا پیغام ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button