فرد از حق ، ملت از وی زنده است
فرد از حق ، ملت از وی زنده است
از شعاع مهر او تابنده است
ترجمہ
فرد تو براہِ راست حق سے زندہ ہے، مگر ملت اس سے زندہ ہے، اور اسی کے سورج کی شعاع سے روشن و تابندہ ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں فرد اور ملت کے درمیان ایک نہایت باریک مگر بنیادی فرق واضح کرتے ہیں۔ فرد کی اصل حیات خدا سے ہے، کیونکہ ہر جان کا سرچشمہ حق ہے۔ مگر ملت، یعنی ایک منظم، معنوی اور تاریخی جماعت، نبی کے ذریعے زندگی پاتی ہے۔ اس طرح خدا اور رسول کے تعلق کو درست ترتیب میں سمجھایا گیا ہے: فرد کی ontological بنیاد حق ہے، اور ملت کی اجتماعی تشکیل رسالت کے واسطے سے ہوتی ہے۔ شعر کے مطابق:
فرد کی حیات:
ہر انسان کا وجود، اس کی جان، اس کا شعور اور اس کی اصل وابستگی اللہ تعالیٰ سے ہے۔ اقبال اس بنیادی توحیدی حقیقت کو قائم رکھتے ہیں تاکہ رسالت کا مقام خدا کے بالمقابل نہ سمجھا جائے۔ فرد کا اصل منبع حق ہے، اسی سے اس کی روح، اس کی فطرت اور اس کی جواب دہی وابستہ ہے۔
یہ نکتہ اقبال کے پورے دینی توازن کے لیے ضروری ہے: ہر حیات آخرکار حق کی عطا ہے۔
ملت کی حیات کیوں نبی سے:
فردی وجود ایک فطری عطا ہے، مگر ملت فطری طور پر خود بخود نہیں بنتی۔ اسے مرکز، قانون، اخلاق، قبلہ، مشترک حافظہ اور مشترک مقصد چاہیے۔ یہ سب رسالت مہیا کرتی ہے۔ اس لیے اقبال کہتے ہیں کہ ملت نبی سے زندہ ہے، یعنی اس کی اجتماعی روح، اس کی وحدت اور اس کی سمت نبوی فیضان سے قائم ہوتی ہے۔
گویا خدا حیات کا اصل خالق ہے، اور نبی اس حیات کو اجتماعی صورت دینے والا رہبر۔
مہر اور شعاع کی تصویر:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مہر، یعنی سورج کہنا نہایت بلیغ استعارہ ہے۔ سورج خود روشنی کا مرکز ہوتا ہے، اور اس کی شعاعیں دور دور تک پھیل کر تاریکی کو ختم کرتی ہیں۔ ملت اسی شعاع سے “تابندہ” ہے، یعنی اس کی چمک، اس کی حرارت، اور اس کی تہذیبی روشنی سب نبوی نور سے آتی ہیں۔
اگر سورج کی طرف سے روشنی نہ آئے تو سطحیں موجود رہتی ہیں مگر روشن نہیں رہتیں۔ یہی حال رسالت سے دوری میں امت کا ہوتا ہے۔
ترتیب کا حسن:
اس شعر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اقبال نے توحید اور رسالت کی نسبت کو نہ خلط ملط کیا ہے اور نہ جدا کیا ہے۔ فرد از حق، ملت از وی۔ یعنی اصل منبع اللہ ہے، اور اجتماعی صورتِ حیات رسالت کے واسطے سے ترتیب پاتی ہے۔ یہی اسلام کی وہ ترتیب ہے جو نہ غلو کی طرف جاتی ہے اور نہ کمی کی طرف۔
یہی ترتیب ملت کو خدا سے بھی جوڑے رکھتی ہے اور نبی سے بھی۔
آج کے لیے پیغام:
آج بہت سے مسلمان دین کو صرف فردی معاملہ سمجھ کر ملت کے تصور کو کمزور کر دیتے ہیں، اور کچھ لوگ ملت کی بات کرتے ہوئے اس کی اصل نبوی مرکزیت بھول جاتے ہیں۔ اقبال اس شعر میں دونوں کو درست مقام دیتے ہیں: اپنی فردی حیات کو حق سے وابستہ رکھو، اور اپنی اجتماعی حیات کو نبوی فیضان سے۔
یہی توازن امت کو پھر سے تابندہ بنا سکتا ہے۔
مثال
ایک شخص اپنی سانس سے زندہ ہے، مگر ایک پورا شہر نظم، قیادت اور مشترک قانون سے چلتا ہے۔ فردی زندگی اور اجتماعی زندگی کے تقاضے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ امت کے باب میں یہ اجتماعی روح رسالت عطا کرتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق فرد کی اصل حیات حق سے ہے، مگر ملت کی حیات رسالت کے واسطے سے قائم ہوتی ہے۔ امت کی روشنی نبوی سورج کی شعاعوں سے ہے، اسی لیے اس کا اجتماعی وجود رسالت سے جدا ہو کر تابندہ نہیں رہ سکتا۔
