رموز بے خودی

خویش را در باز و خود را بازگیر

خویش را در باز و خود را بازگیر

دام گستر از نیاز و ناز گیر

ترجمہ

اپنے آپ کو کھول، پھر اپنے آپ کو واپس بھی لے، اور نیاز و ناز کے توازن سے اپنا جال پھیلا کر شکار کر۔

تشریح

یہ شعر اقبال کے تربیتی اسلوب کا ایک نہایت خوب صورت نمونہ ہے۔ وہ مومن کو نہ صرف دل پیدا کرنے کا کہتے ہیں بلکہ اس دل کے استعمال اور ضبط کی ترکیب بھی بتاتے ہیں۔ یہاں “در باز” اور “بازگیر” کے ساتھ “نیاز و ناز” کی تعبیر ایک متوازن خودی کی تربیت کا نقشہ کھینچتی ہے۔ شعر کے مطابق:

خویش را در باز:

اپنے آپ کو کھولنے سے مراد اپنی صلاحیت، جرات، وسعت اور زندگی کے امکان کو بیدار کرنا ہے۔ بہت سے لوگ خوف، عادت یا معاشرتی جمود کی وجہ سے اپنی اصل قوت کو کھولتے ہی نہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ انسان اپنی خودی کو بیدار کرے، اپنے اندر کی پوشیدہ طاقتوں کو ظاہر ہونے دے، اور محض محدود عافیت میں بند نہ رہے۔

یہ “کھلنا” خودنمائی نہیں بلکہ امکانات کی بیداری ہے۔

خود را بازگیر:

مگر اسی کے ساتھ اقبال فوراً توازن قائم کرتے ہیں: اپنے آپ کو واپس بھی لے۔ یعنی بے لگام نہ ہو جا، اپنے جذبات، خواہشات اور طاقت کو قابو میں رکھ۔ اگر انسان صرف کھل جائے اور سمیٹنا نہ جانے تو اس کی قوت بکھر جاتی ہے۔ ضبط کے بغیر وسعت نقصان بن سکتی ہے۔

یہی اقبالی خودی کی خاص شان ہے: انکشاف بھی، احتساب بھی۔

نیاز اور ناز کا توازن:

“نیاز” سے مراد عاجزی، طلب اور خدا کے سامنے جھکاؤ ہے، جبکہ “ناز” سے مراد وقار، استغنا اور اپنی قدر کی حفاظت۔ اقبال چاہتے ہیں کہ مومن میں یہ دونوں صفات جمع ہوں۔ اگر صرف نیاز ہو تو کمزوری پیدا ہو سکتی ہے، اور اگر صرف ناز ہو تو تکبر۔ کامل شخصیت وہ ہے جو خدا کے حضور نیازمند اور باطل کے سامنے باوقار ہو۔

یہی توازن انسان کو نہ ذلیل بننے دیتا ہے نہ مغرور۔

دام گستر کا معنی:

دام پھیلانا یہاں زندگی کے میدان میں اثر پیدا کرنے، مقصد کو حاصل کرنے اور دلوں کو اپنے حقانی اثر میں لینے کی علامت ہے۔ اقبال کا مومن گوشہ نشین نہیں، بلکہ فعال، مؤثر اور صاحبِ تدبیر ہے۔ مگر اس کا جال لالچ یا فریب سے نہیں پھیلتا، بلکہ نیاز و ناز کے متوازن وقار سے پھیلتا ہے۔

گویا اس کی تاثیر کا راز اس کے اخلاقی باطن میں ہے، نہ کہ محض دنیاوی چالاکی میں۔

ہمارے لیے عملی سبق:

یہ شعر ہماری شخصیت سازی کا مکمل اصول بن سکتا ہے: اپنی قوت کو بیدار کرو، مگر اپنے اوپر قابو بھی رکھو؛ خدا کے سامنے عاجز رہو، مگر حق کے معاملے میں وقار بھی برقرار رکھو؛ زندگی میں اثر پیدا کرو، مگر فریب سے نہیں، باطن کی سچائی سے۔

اقبال اسی متوازن انسان کی تعمیر چاہتے ہیں جو اندر سے مضبوط، باہر سے مؤثر، اور ہر حال میں اپنے مرکز سے جڑا ہو۔

مثال

ایک اچھا استاد اپنے علم کو پوری وسعت سے پیش کرتا ہے، مگر اپنی زبان، وقت اور رویے پر قابو بھی رکھتا ہے۔ وہ طلبہ کے لیے نرم بھی ہوتا ہے اور معیار کے معاملے میں باوقار بھی۔ یہی “نیاز و ناز” کا عملی توازن ہے۔

خلاصہ

اقبال کے نزدیک کامیاب خودی وہ ہے جو اپنی قوت کو کھولنا بھی جانتی ہو اور قابو میں رکھنا بھی۔ خدا کے سامنے نیاز اور باطل کے سامنے ناز ہی اس کی اصل تاثیر کا سرچشمہ ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button