تا سوی یک مدعایش می کشد
تا سوی یک مدعایش می کشد
حلقۂ آئیں بپایش می کشد
ترجمہ
وہ (رہنما) اسے ایک ہی مقصد (توحید) کی طرف کھینچتا ہے، اور اس کے پاؤں میں آئین اور شریعت کا حلقہ ڈال دیتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کے اس کردار کو بیان کرتے ہیں جو انسان کو ایک مقصد پر مرکوز کر کے اسے آئین کا پابند بناتا ہے۔ شعر کے مطابق:
ایک مقصد کی طرف کھینچنا:
اقبال کہتے ہیں کہ رہنما انسان کو ایک ہی مقصد یعنی توحید اور ایک خدا کی بندگی کی طرف کھینچتا ہے۔ وہ اس کے بکھرے ہوئے ارادوں اور مقاصد کو ایک مرکز پر جمع کر دیتا ہے۔
جب انسان کی زندگی کا ایک واضح اور بلند مقصد ہو تو اس کی تمام قوتیں اسی ایک سمت میں مجتمع ہو کر بامعنی بن جاتی ہیں۔
پاؤں میں آئین کا حلقہ:
شاعر کہتے ہیں کہ وہ اس کے پاؤں میں آئین اور شریعت کا حلقہ ڈال دیتا ہے۔ یعنی وہ اسے ایک نظم اور ضابطے کا پابند بنا دیتا ہے۔
یہ پابندی بظاہر ایک قید ہے مگر حقیقت میں یہی وہ نظم ہے جو انسان کی زندگی کو منظم، بامقصد اور بابرکت بناتا ہے۔
مقصد اور نظم کا امتزاج:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ رہنما انسان کو ایک مقصد بھی دیتا ہے اور اس مقصد تک پہنچنے کے لیے ایک آئین اور ضابطہ بھی، اور دونوں مل کر اس کی تکمیل کرتے ہیں۔
شریعت کی برکت:
یہی آئین اور یہی شریعت کا حلقہ ہے جو انسان کو بے راہ روی سے بچا کر اسے اس کے حقیقی مقصد تک پہنچاتا ہے۔
مثال
جیسے ایک مسافر کو منزل کا تعین اور راستے کا ضابطہ مل جائے تو وہ بھٹکنے سے بچ کر منزل تک پہنچ جاتا ہے، ویسے ہی رہنما انسان کو ایک مقصد اور آئین دے کر اس کی زندگی کو بامقصد بنا دیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما انسان کو توحید کے ایک مقصد پر مرکوز کر کے اسے شریعت کے آئین کا پابند بناتا ہے، اور یہی نظم اسے اس کی منزل تک پہنچاتا ہے۔