جاں او از سخت کوشی رم زند
جاں او از سخت کوشی رم زند
پنجہ در دامانِ فطرت کم زند
ترجمہ
اس (خام فرد) کی جان سخت کوشی اور محنت سے بھاگتی ہے، اور وہ فطرت کے دامن میں کم ہی پنجہ مارتا ہے، یعنی فطرت کو مسخر کرنے کی کوشش کم کرتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خام فرد کی محنت سے فرار اور جدوجہد سے گریز کو بیان کرتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
سخت کوشی سے فرار:
اقبال کہتے ہیں کہ اس فرد کی جان سخت کوشی اور محنت سے بھاگتی ہے۔ یعنی وہ آرام طلب ہے اور کٹھن جدوجہد سے کتراتا ہے۔
وہ آسان راستے تلاش کرتا ہے اور مشکل کاموں سے گریز کرتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں نکھر نہیں پاتیں۔
فطرت کو مسخر نہ کرنا:
شاعر کہتے ہیں کہ وہ فطرت کے دامن میں کم ہی پنجہ مارتا ہے۔ یعنی وہ فطرت کی قوتوں کو سمجھنے اور انہیں مسخر کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔
فطرت کو تسخیر کرنا انسان کی عظمت کی علامت ہے، مگر خام فرد اس جدوجہد سے دور رہتا ہے اور یوں کمزور رہ جاتا ہے۔
جمود اور بے عملی:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ محنت سے فرار اور جدوجہد سے گریز فرد کو جمود اور بے عملی کا شکار کر دیتے ہیں۔
جدوجہد کی دعوت:
اقبال کے نزدیک زندگی کی اصل حقیقت جدوجہد اور فطرت کی تسخیر ہے، اور اسی سے فرد اپنی عظمت کو پہنچتا ہے۔
مثال
جیسے ایک کسان اگر محنت اور مشقت سے کترائے تو زمین بنجر رہتی ہے اور فصل نہیں اگتی، ویسے ہی خام فرد محنت سے گریز کر کے اپنی صلاحیتوں کو بنجر رکھتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ خام فرد محنت اور جدوجہد سے بھاگتا ہے اور فطرت کو مسخر نہیں کرتا، جس سے اس کی صلاحیتیں جمود کا شکار رہتی ہیں۔
