ما سوا از بهر تسخیر است و بس
ما سوا از بهر تسخیر است و بس
سینهٔ او عرضهٔ تیر است و بس
ترجمہ
خدا کے سوا جو کچھ ہے وہ تسخیر ہی کے لیے ہے، اور اس کا سینہ بس تیر کے لیے پیش کیا ہوا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مومن کے مقام کو نہایت جلال کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ “ما سوا” سے مراد خدا کے سوا ساری کائنات، اس کی قوتیں، اس کے امکانات، اس کے مظاہر، اور اس کے ڈھانچے ہیں۔ اقبال فرماتے ہیں کہ یہ سب اس لیے نہیں کہ انسان ان کا غلام بن جائے، بلکہ اس لیے ہیں کہ وہ انہیں سمجھ کر، برت کر، اور اپنے اعلیٰ مقصد کے تابع کر کے تسخیر کرے۔ اس شعر کی بنیاد توحید پر ہے: جب ایک ہی رب اصل معبود اور اصل مقصود ہے تو باقی ہر شے بندگی کا مرکز نہیں رہ سکتی۔ پھر وہ یا تو وسیلہ ہے یا میدان۔
“سینۂ او عرضهٔ تیر است و بس” میں تیر کا استعارہ قوتِ ارادہ، علم، جرات، تدبیر اور عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گویا کائنات اپنے سینے کو اس مومن کے لیے کھولے ہوئے ہے جو اس کے رازوں میں تیر کی طرح اترنا جانتا ہو۔ اقبال یہاں انسان کو محض تماشائی نہیں رہنے دیتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ کائنات کے سامنے لرزنے والا نہیں، اس کے پردے چاک کرنے والا بنے۔ مگر یہ سب خدا سے بے نیازی کے لیے نہیں، بلکہ خدا کی زمین میں خدا کی امانت کے ساتھ جینے کے لیے ہے۔
ما سوا کی حقیقت:
توحید کا ایک بڑا اثر یہ ہے کہ وہ قدر کی ترتیب درست کرتی ہے۔ اللہ کے سوا ہر شے اپنی جگہ پر آ جاتی ہے۔ نہ دنیا خدا بن سکتی ہے، نہ طاقت، نہ علم، نہ لذت، نہ قوم، نہ بازار، نہ حکومت۔ جب یہ ترتیب قائم ہو جائے تو انسان جھوٹے تعظیم ناموں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اقبال اسی آزادی کی بنیاد پر “ما سوا” کو تسخیر کے دائرے میں رکھتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مومن دنیا سے نفرت کرے، بلکہ یہ کہ وہ اس کے سامنے سجدہ نہ کرے۔ فرق بہت بڑا ہے۔ جو دنیا کو معبود بنا لے وہ اس کا قیدی بن جاتا ہے، اور جو اسے امانت اور میدان سمجھے وہ اس کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔
تسخیر کا صحیح مفہوم:
تسخیر کا مفہوم ظلم، لوٹ یا سرکشی نہیں۔ اقبال کے ہاں یہ لفظ کائناتی قوتوں کو سمجھنے، ان کی جہتیں کھولنے، اور انہیں خیر کے کام میں لانے کے معنی رکھتا ہے۔ زمین، پانی، دھات، ہوا، علم، تنظیم، وقت، فاصلہ، یہ سب وہ میدان ہیں جہاں انسان اپنی صلاحیت آزماتا ہے۔
یہ تسخیر ایک امانت دارانہ عمل ہے۔ اگر وہ خدا سے کٹی ہوئی ہو تو استحصال بن جاتی ہے، اور اگر خدا کے تابع ہو تو تعمیرِ حیات بن جاتی ہے۔ اقبال مسلمان کو یہی دوسرا راستہ دکھاتے ہیں: قوت بھی حاصل کرو، مگر بندگی کے شعور کے ساتھ۔
تیر کی علامت:
تیر سیدھا، تیز اور ہدف شناس ہوتا ہے۔ اقبال کو یہی صفات مسلمان میں مطلوب ہیں۔ منتشر خواہش، بے ربط کوشش، اور ڈھیلی ارادہ مندی کائنات کے راز نہیں کھول سکتی۔ اس کے لیے ایک ایسی ذہنی و اخلاقی یکسوئی چاہیے جو تیر کی طرح اپنا رخ پہچانتی ہو۔
“سینۂ او” کہہ کر اقبال ایک اور معنی بھی دیتے ہیں: کائنات اپنے باطن میں راز رکھتی ہے، مگر وہ راز اس کے اندر پوشیدہ ہیں، سطح پر نہیں۔ تیر کی طرح اترنے کا مطلب ہے کہ انسان ظاہر کے اوپر پھسلنے کے بجائے گہرائی میں جائے۔ یہی تحقیق، صنعت، تنظیم اور عمل کا راستہ ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج یا تو دنیا کو اتنا بڑا بنا دیا جاتا ہے کہ انسان اس کا غلام بن جاتا ہے، یا اس سے بے عملی کا ایسا تعلق رکھا جاتا ہے کہ میدان ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اقبال ان دونوں صورتوں سے انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: خدا کے سوا سب کچھ تمہارے لیے میدانِ عمل ہے۔ اسے معبود نہ بناؤ، اور نہ چھوڑو؛ اسے سمجھو، برتو، اور مقصد کے تابع کرو۔
یہ شعر امت کے لیے ایک پوری تہذیبی سمت رکھتا ہے۔ اگر وہ اپنے منصب کو پہچان لے تو علم، معیشت، صنعت، سیاست اور تمدن، سب ما سوا کے دائرے میں آتے ہیں، اور سب کو توحیدی ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا جا سکتا ہے۔ اقبال کی یہی شانِ تسخیر مسلمان کو محکومی سے نکالتی ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر کاریگر اوزاروں کا غلام نہیں بنتا بلکہ انہیں اپنے مقصد کے تابع استعمال کرتا ہے، ویسے ہی مومن کائنات کی چیزوں کو معبود نہیں بناتا بلکہ انہیں امانت کے ساتھ برتتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں اعلان کرتے ہیں کہ خدا کے سوا ساری کائنات مومن کی تسخیر اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ہے۔ اس کا مقام غلامی نہیں، توحید کے تابع فعال تصرف اور تعمیر کا مقام ہے۔